Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 57 of 107

سنن ابو داؤد ملاحظہ فرمائیے۔پہلے ذکرہوا،

باب رفع الیدین ۔

رفع یدین کا باب۔

اس کے بعد ذکر کیا گیا ،

باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع ۔

رفع یدین کے رکوع میں ذکر نہ ہونے کا باب۔

 

اس کے بعد ترمذی کی ترتیب کو دیکھئے۔

انہوں نے بھی رفع یدین والی حدیثوں کو پہلے ذکر کیا اور رفع یدین کے ترک کرنے کو بعد میں ذکر کیا ہے ۔

 

خصوصاً سنن نسائی میں عنوانات کی اتنی پیاری ترتیب رکھی گئی جس سے معمولی علم رکھنے والا بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ ہاں واقعی رفع یدین کا حکم منسوخ ہے۔

عنوانات کی ترتیب دیکھیے۔

باب رفع الیدین عند الرفع من الرکوع

رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا ذکر ۔

اس کے بعد ذکر کیا،

باب رفع الیدین حذو فروع الاذنین عند الرفع من الرکوع ۔

رکوع سے سر اٹھاتے وقت کانوں کے اوپری حصہ تک ہاتھوں کے اٹھانے کا ذکر ۔

اس کے بعد، باب رفع الیدین حذو المنکبـین عند الرفع من الرکوع۔

رکوع سے سراٹھاتے ہوئے کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانے کے بیان میں ۔

آخر میں ذکر کیا ہے،

الرخصۃ فی ترک ذلک۔

رفع یدین کو چھوڑنے کی رخصت کا بیان ۔ یہاں سے بھی واضح ہوا کہ رفع یدین منسوخ ہو چکا ہے ۔

 

اسی طرح نسائی میں سجود کےوقت رفع یدین کا عنوان ان الفاظ سے قائم کیا گیا ہے،

باب رفع الیدین للسجود۔

سجدوں کے لئے رفع یدین کا بیان۔

اس کے بعد عنوان قائم کیا،

ترک رفع الیدین للسجود۔

سجدوں میں رفع یدین کو چھوڑ نے کا بیان ۔اس سے بھی واضح ہوا کہ سجدوں کے وقت رفع یدین منسوخ ہے۔

پھر یہ ذکر کیا،

باب رفع الیدین عند الرفع من السجدۃ الاولی۔

پہلے سجدہ سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان۔

پھر بیان کیا،

ترک ذلک بـین السجدتین۔

دو سجدوں کے درمیان رفع یدین کے ترک کرنے کا بیان ۔

امام نسائی کی شاندار ترتیب کو دیکھ کر بھی کسی کو رفع یدین کا منسوخ ہونا سمجھ نہ آئے تو اسے ﷲ تعالیٰ ہی توفیق عطا فرمائے کہ اسے سمجھ آجائے ۔ (نمازِ حبیبِ کبریا، ص 141، 142ملخصاً)

 

ایک خاص بات ذہن میں رکھیں کہ رکوع کی دونوں حالتوں میں رفع یدین پر فعلی احادیث پائی جاتی ہیں کہ نبی کریم نے ایسے کیا ہے، مگر کوئی قولی حدیث موجود نہیں کہ نبی کریم نے فرمایا ہو کہ رفع یدین کرو، ایسی کوئی حدیث کوئی شخص نہیں دکھا سکے گا۔ لیکن رفع یدین کی ممانعت پر فعلی حدیثیں بھی موجود ہیں اور قولی بھی یعنی یہ بھی ثابت ہے کہ نبی کریم نے رفع یدین نہیں کیا بلکہ چھوڑ دیا تھا اور یہ بھی احادیث میں مذکور ہے کہ آپ نے رفع یدین سے منع کیا ۔

اور قولی احادیث کو فعلی احادیث پر ترجیح دی جاتی ہے ۔ منسوخ آیات قرآن پاک میں موجود ہونے کے با وجود قابل عمل نہیں تو منسوخ احادیث کتب احادیث میں موجود ہونے کی وجہ سے عمل کے لئے لازم ہونے پر دلیل کیسے قائم کی جا سکتی ہے؟

یاد رہے! دلائل کی کثرت کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ دلائل کی پختگی کا اعتبار ہوتا ہے، غیر عادل بیس گواہ بھی دو عادل گواہوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔

کئی احادیث ضعیفہ،ایک حدیث صحیح کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، ایک صحیح حدیث کئی ضعیفوں پر بھاری ہوگی ۔

سینکڑوں کی تعداد میں احادیث کو ایک حدیث سے منسوخ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ جہاد نہ کرنے والی ایک سوچوبیس آیات مبارکہ، ایک آیت مبارکہ سے منسوخ ہیں جس میں جہاد کرنے کا ذکر ہے ۔

جو احادیث منسوخ ہوں ان کو کتابوں سے نکال نہیں دیا جاتا۔ وہ منسوخ احادیث بھی کتب میں ذکر کر دی جاتی ہیں اور ناسخ بھی، مقصد صرف احادیث کو جمع کرنا ہوتا ہے کہ حضور کا یہ فعل بھی رہا اور یہ بھی ۔ (نمازِ حبیبِ کبریا، ص114)

Share:
keyboard_arrow_up