129۔ حدثنا یحییٰ بن سعیدعن اسماعیل قال کان قیس یرفع یدیہ اول مایدخل فی الصلاۃ ثم لا یرفعہما۔
حضرت اسماعیل کہتے ہیں، حضرت قیس جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے پھر کہیں بھی رفع یدین نہ کرتے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2664)
130۔ حدثنا معاویۃ بن ہشیم عن سفیان بن مسلم الجہنی قال کان ابن ابی لیلی یرفع یدیہ اول شیٔ اذا کبر۔
حضرت سفیان بن مسلم کہتے ہیں کہ حضرت ابن ابی لیلیٰ صرف پہلی تکبیر کے رفع یدین کرتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2666)
131۔ حدثنا وکیع عن شریک عن جابر عن الاسود وعلقمۃ انہما کانا یرفعان ایدیہما اذا افتتحا ثم لا یعودان۔
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت علقمہ دونوں اپنے ہاتھ صرف نماز کے شروع میں اٹھاتے پھر دوبارہ نہیں اٹھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2668)
132۔ قال عبدالملک ورأیت الشعبی و ابراہیم و ابا اسحاق لا یرفعون ایدیہم الا حین یفتتحون الصلاۃ۔
حضرت عبدالملک نے فرمایا، میں نے امام شعبی، حضرت ابراہیم نخعی اور حضرت ابو اسحاق کو دیکھا ہے۔ وہ نماز کے شروع کے سوا کہیں بھی رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2669)
133۔ عن الزبیر ابن عدی قال ورایت ابراھیم والشعبی یفعلان ذلک۔
حضرت زبیر بن عدی فرماتے ہیں، میں نے حضرت ابراھیم اور حضرت شعبی کو بھی اسی طرح کرتے (یعنی صرف پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھاتے) دیکھا۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ (شرح معانی الآثار، ج، ص389)
اصحابِ عبداللّٰہ وعلی رضی اللّٰہ عنہ اور ترکِ رفع یدین:
134۔ حدثنا وکیع وأبوأسامۃ عن شعبۃ عن ابی اسحاق قال کان اصحاب عبداللّٰہ واصحاب علی لا یرفعون ایدیہم الا فی افتتاح الصلاۃ قال وکیع ثم لایعودون۔(ایضاً)
حضرت شعبہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابواسحاق نے فرمایا، حضرت عبداللہ بن مسعود کے اصحاب ث اور حضرت علی کے اصحاب ث، نماز کے شروع کے سوا کہیں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔حضرت وکیع نے (مزید وضاحت سے) کہا، پھر وہ رفع یدین دوبارہ نہیں کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2661)
اس حدیث کے تمام راوی بخاری و مسلم کے راوی ہیں اور حضرت شعبہ کو امیر المومنین فی الحدیث کہا جاتا ہے۔ الحمدللّٰہ!
ان احادیث سے تکبیرِ تحریمہ کے سوا عام نماز میں رفع یدین کا منسوخ ہونا ثابت ہوگیا جیسا کہ احناف ،کثَّرَھُمُ اللّٰہ تعالیٰ کا مذہب ہے۔
ترکِ رفع یدین پرفقہاء کا اجماع:
امام سفیان ثوری، عبداللّٰہ بن مبارک اور امام احمد بن حنبل کے استاد اور بخاری و مسلم کے راوی ، حضرت ابو بکر بن عیاش رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
135۔ حدثنی ابن ابی داؤد قال ثنا احمد بن یونس قال ثنا ابوبکر بن عیاش قال ما رایت فقیھا قط یفعلہ یرفع یدیہ فی غیر التکبیرۃ الاولٰی۔
حضرت ابوبکربن عیاش فرماتے ہیں کہ میں نے کسی فقیہہ کو کبھی بھی تکبیر اولیٰ کے علاوہ ہاتھ اٹھاتے نہیں دیکھا ۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص391)
یہ بات قابلِ غور ہے کہ حضرت ابوبکر بن عیاش ۱۰۰ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۹۳ھ میں وصال فرمایا۔اس خیرالقرون میں آپ نے کسی عالم و فقیہ کو پہلی تکبیر کے سوا رفع یدین کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہ ترکِ رفع یدین کے متواتر ہونے کی دلیل ہے۔
محدثین اور ترکِ رفع یدین:
اکثر محدثین کرام کا طریقہ یہ ہے کہ وہ احادیث کی کتب میں پہلے وہ باب ذکر کرتے ہیں جس میں رفع یدین کا ذکر ہے اور پھر وہ باب لاتے ہیں جس میں رفع یدین کی ممانعت ہے۔ محدثین رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کی قائم کردہ اس ترتیب سے ثابت ہوتا ہے کہ رفع یدین پہلے تھا، بعد میں منسوخ ہوگیا ۔
مصنف ابن ابی شیبہ کی ترتیب دیکھئے ۔
پہلے باب ہے،
من کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلوٰۃ۔
نماز کے شروع میں رفع یدین کرنے کا باب۔
اس کے بعد یہ باب ہے۔
باب من کان یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ثم لا یعود۔
باب جنہوں نے صرف پہلی تکبیر میں رفع یدین کیا اور پھر دوبارہ نہ کیا۔

