Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 55 of 107

عشرہ مبشرہ اور ترک رفع یدین:

121۔ عن ابن عباس انہ قال العشرۃ الذین شہد لہم رسول اللّٰہ بالجنۃ ما کانوا یرفعون ایدیہم الا فی افتتاح الصلوۃ۔

حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں، وہ دس صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم جنہیں آقا و مولیٰ رسولِ کریم نے جنت کی بشارت دی یعنی عشرہ مبشرہ میں سے کوئی بھی تکبیر تحریمہ کے سوا رفع یدین نہیں کرتا تھا۔
(عمدۃ القاری، ج9، ص5)

حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ کی اس گواہی سے ثابت ہوگیا کہ عشرہ مبشرہ رضی اللّٰہ عنہم اجمعین نماز میں تکبیرِ تحریمہ کے سوا رفع یدین نہیں کیا کرتے تھے۔الحمد للّٰہ!

 

صحابہ کرام وتابعین رضی اللّٰہ عنہم کا عمل:

اب ہم بعض صحابہ کرام اور تابعین عظام کے حوالے سے احادیث و آثار پیش کرتے ہیں جن سے احناف (نوَّرَ اللّٰہ وجوہہم یوم القیامۃ) کے موقف کی تائید ہوتی ہے۔

122۔ ان عبداللّٰہ بن الزبیر رای رجلا رافعا یدیہ یدعوا قبل ان یفرغ من صلاتہ فلما فرغ منہا قال ان رسول اللّٰہ ﷺ لم یکن یرفع یدیہ حتی یفرغ من صلاتہ رواہ الطبرانی ورجالہ ثقات۔

حضرت عبداللّٰہ بن زبیر رضی اللّٰہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو نماز سے فارغ ہونے سے قبل رفع یدین کر کے دعا کر رہا تھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ نے اس سے فرمایا، بیشک رسول اللّٰہ رفع یدین نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
(المعجم الکبیر، ج19، ص285، حدیث نمبر:16300)

 

اس حدیث کو غیر مقلد عالم عبدالرحمن مبارکپوری نے روایت کر کے اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔
(تحفۃ الاحوذی، ج،2، ص123)

 

123۔ عن عباد بن الزبیر ان رسول اللّٰہ کان اذا افتتح الصلوۃ رفع یدیہ فی اول الصلوۃ ثم لم یرفعہما فی شیٔ حتیٰ یفرغ ۔

حضرت عباد بن زبیر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ جب نماز شروع فرماتے تو پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے پھر نماز میں کہیں بھی رفع یدین نہ کرتے حتیٰ کہ آپ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ (نصب الرایۃ، ج1 ، ص403)

 

شارح بخاری امام بدرالدین عینی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

124۔ والذی یحتج بہ الخصم من الرفع محمول علی انہ کان فی الابتداء الاسلام ثم نسخ والدلیل علیہ ان عبداللّٰہ بن الزبیر رأی رجلا یرفع یدیہ فی الصلوۃ عند الرکوع وعند رفع راسہ من الرکوع فقال لاتفعل، فان ہذا شیٔ فعلہ رسول اللّٰہ ثم ترکہ۔

رفع یدین کے قائلین جس رفع یدین کے متعلق دلیل لاتے ہیں وہ اس بات پر محمول ہے کہ وہ ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہو گیا۔ اس کے منسوخ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت عبداللّٰہ بن زبیر رضی اللّٰہ عنہ  نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع یدین کر رہا ہے۔ آپ نے اس سے فرمایا، ایسا (اختلافی رفع یدین) نہ کرو، یہ وہ چیز ہے جسے رسول کریم ﷺ  پہلے کیا کرتے تھے اور پھر آپ نے اسے ترک فرما دیا۔(عمدۃ القاری، ج9، ص7)

 

اب امام بخاری و امام مسلم کے استاد امام ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب’’ مصنف‘‘ سے چند دلائل ملاحظہ فرمائیں۔

125۔ حدثنا ابوبکر بن عیاش عن حصین ومغیرۃ عن ابراہیم قال لاترفع یدیک فی شیٔ من الصلاۃ الا فی افتتاحۃ الاولیٰ۔

حضرت حصین و مغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا، نماز کے شروع کے سوا نماز میں کہیں بھی اپنے ہاتھ نہیں اٹھاؤ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2663)

 

126۔ حدثنا ابن مبارک عن اشعث عن الشعبی انہ کان یرفع یدیہ فی اول التکبیر ثم لایرفعہما۔

حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت امام شعبی نماز کی پہلی تکبیر کے وقت اپنے ہاتھ اٹھاتے پھر اس کے بعد ہاتھ نہیں اٹھاتے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2665)

 

127۔ حدثنا ہشیم قال اخبرنا حصین ومغیرۃ عن ابراہیم انہ کان یقول اذا کبرت فی فاتحۃ الصلاۃ فارفع یدیک ثم لا ترفعہما فیما بقی۔

حضرت حصین اور حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نخعی کا ارشاد ہے، تم نماز کے شروع کی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھاؤ پھر باقی نماز میں کہیں بھی ہاتھ نہ اٹھاؤ۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2640)

 

128۔ حدثنا ابوبکر عن الحجاج عن طلحۃ عن خثیمۃ وابراہیم قال کانا لا یرفعان ایدیہما الا فی بدء الصلاۃ۔

حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت خثیمہ اور حضرت ابراہیم نخعی دونوں نماز کی ابتدا کے سوا کہیں بھی اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2663)

Share:
keyboard_arrow_up