Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 54 of 107

120۔ ان اباہریرۃ کان یکبر فی کل صلوۃ من المکتوبۃ وغیرہا فی رمضان وغیرہ فیکبر حین یقوم ثم یکبر حین یرکع ثم یقول سمع اللّٰہ لمن حمدہ ثم یقول ربنا ولک الحمد قبل ان یسجد ثم یقول اللّٰہ اکبر حین یہوی ساجداً ثم یکبر حین یرفع راسہ من السجود ثم یکبر حین یسجد ثم یکبر حین یرفع راسہ من السجود ثم یکبر حین یقوم من الجلوس فی الاثنتین ویفعل ذلک فی کل رکعۃ حتی یفرغ من الصلوۃ ثم یقول حین ینصرف والذی نفسی بیدہ انی لاقربکم شبہا بصلوۃ رسول اللّٰہ ﷺ ان کانت ہذہ لصلوتہ حتی فارق الدنیا۔

ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ ہر نماز میں تکبیر کہتے خواہ وہ فرض ہوتی یا دوسری، ماہ رمضان میں ہوتی یا اس کے علاوہ۔ جب آپ کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، اور جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے۔ پھر سمع اللّٰہ لمن حمدہ  کہتے۔ پھر سجدہ کرنے سے قبل ربنا ولک الحمد کہتے۔
جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللّٰہ اکبر کہتے پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ پھر جب دوسرا سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت بھی تکبیر کہتے۔ پھر جب دوسری رکعت کے قعدہ سے اٹھتے تو تکبیر کہتے اور ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔
نماز سے فارغ ہونے پر فرماتے، اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! بلاشبہ میری نماز تم سب سے زیادہ رسول کریم کی نماز سے مشابہت رکھتی ہے۔ آپ کی نماز بلکل اسی طرح تھی یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے وصال فرما گئے۔
(بخاری، ج1، ص276، حدیث نمبر:770)

 

محدثِ جلیل فقیہِ کبیر امام طحاوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

واما روا ہ عن ابی ھریرۃ من ذلک فانما ھو من حدیث اسمٰعیل بن عیاش عن صالح بن کیسان و ھم لا یجعلون اسمٰعیل فیما روٰی من غیر الشّامیین حجۃ فکیف یحتجون علیٰ خصیمھم بما لو احتج بمثلہ علیھم لم یسوغوہ ایاہ۔ واما حدیث عبدالحمید بن جعفر فانھم یضعفون عبدالحمید فلا یقیمون بہ حجۃ فکیف یحتجون بہ فی مثلہ ھذا ومع ذالک فان محمد بن عمرو بن عطآء لم یسمع ذالک الحدیث من ابی حمید ولا ممن ذکر معہ فی ذالک الحدیث بینھما رجل مجھول قد ذکر ذالک العطاف بن الخالد عنہ عن رجل۔

جہاں تک ابو ہریر رضی اللّٰہ عنہ کی (رفع یدین والی) روایت کا تعلق ہے تو وہ بواسطہ اسماعیل بن عیاش، صالح بن کیسان سے مروی ہے اور مخالفین کے نزدیک اسماعیل کی غیر شامیوں سے روایت حجت نہیں تو وہ اپنے مخالف کے خلاف ایسی روایات سے کس طرح استدلال کر سکتے ہیں کہ اگر اس سے ان کے خلاف استدلال کیا جائے تو وہ اسے قبول نہیں کرتے۔
عبدالحمید بن جعفر کی روایت کا مسئلہ یہ کہ وہ عبدالحمید کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور اسے حجت نہیں ٹھہراتے، اس قسم کے مسئلے میں ان سے کیسے استدلال کر سکتے ہیں؟

علاوہ ازیں محمد بن عمرو بن عطاء نے یہ حدیث نہ تو ابو حمید سے سُنی اور نہ ہی ان حضرات سے جن کا ان کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایک مجہول شخص ہے عطاف بن خالد نے ان کے واسطے سے ایک مجہول شخص سے روایت کیا۔رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

فما نریٰ کشف ھذہ الآثار یوجب لمّا وقف علیٰ حقائقھا و کشف مخارجھا الا ترک الرفع فی الرکوع فھذا وجہ ھذا الباب من طریق الآثار۔

ان روایات کی تحقیق و تفتیش کے بعد ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ رکوع میں ہاتھوں کو نہ اٹھایا جائے۔ روایات کے طریقے پر اس مسئلے کی وضاحت اسی طرح ہے۔

قال ابو جعفر قد اردت بشیئٍ من ذلک تضعیف احد من اھل العلم وما ھٰکذا مذھبی ولٰکنی اردت بیان ظلم الخصم لنا۔

امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں اس سے کسی اہل علم کی کمزوری بتانا میرا مقصد نہیں اور نہ ہی یہ میرا مذہب ہے بلکہ میرا مقصد اس ظلم کو واضح کرنا ہے جو کہ ہمارے مخالف نے ہم پر کیا ہے۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص389)

Share:
keyboard_arrow_up