Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 53 of 107

اس حدیث پاک میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے صرف نماز کی ابتدا میں رفع یدین کا ذکر کیا۔ اگر رکوع سے قبل و بعد اور تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین ہوتا تو اس کا بھی ذکر فرماتے۔

غیر مقلد کہتے ہیں، اس حدیث میں اختلافی رفع یدین کا ذکر نہیں تو کیا ہوا، اس کی نفی بھی تو نہیں ۔

ہم کہتے ہیں، امام ابوداؤد نے اس سے پہلے باب میں رفع یدین کے اثبات میں حدیثیں بیان کیں پھر رفع یدین نہ کرنے کا باب تحریر کیا۔ اور اس باب میں حضرت عبداللّٰہ بن مسعود، حضرت براء بن عازب اور حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہم سے احادیث بیان کیں۔

امام ابو داؤد نے اس حدیث کو رفع یدین نہ کرنے کی دلیل کے طور پر ذکر کر کے یہ ثابت کیا کہ ان کے نزدیک بھی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ اختلافی رفع یدین نہ کرنے والے صحابہ میں سے ہیں اور ان کی یہ حدیث رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کی دلیل ہے۔

 

امام شافعی کے استاد، جلیل القدر محدث و فقیہ امام محمد بن حسن، امام مالک رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کی سند سے روایت کرتے ہیں،

116۔ اخبرنا مالک اخبرنی نعیم ن المجمر وابوجعفرن القاری ان اباہریرۃ کان یصلی بہم فکبر کلما خفض ورفع قال ابوجعفر وکان یرفع یدیہ حین یکبر ویفتح الصلوۃ۔

امام مالک نے ہمیں خبر دی کہ ان سے نعیم مجمر اور ابو جعفر قاری نے بیان کیا، حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ ان کے ساتھ نماز پڑھتے تو اٹھتے اور جھکتے ہوئے تکبیر کہتے۔ ابو جعفر  نے کہا، وہ دونوں ہاتھ صرف اس وقت اٹھاتے جب تکبیر کہتے ہوئے نماز شروع فرماتے۔
(مؤطا امام محمد ، ج1، ص179، حدیث نمبر:104) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

 

117۔ امام محمد نے یہ حدیث روایت کر کے اہلِ مدینہ سے فرمایا،

فہذا حدثکم موافق لعلی وابن مسعود رضی اللّٰہ عنہما۔

امام مالک کی یہ حدیث حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ اورحضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث کے موافق ہے۔
(کتاب الحجۃ علیٰ اہل المدینہ، ج1، ص95)

 

اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی حدیثیں تکبیر تحریمہ کے سوا رفع یدین کے ترک پر دلیل ہیں اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی یہ حدیث بھی ترکِ رفع یدین کی واضح دلیل ہے۔

 

مالکی مذہب کے امام محدث ابن عبدالبر اندلسی رحمہ اللّٰہ نے بھی اس حدیث کو احناف کی دلیل کے طور پر روایت کیا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں،

118۔ وحجتہم ایضاً ما رواہ نعیم المجمر وابوجعفر القاری عن ابی ہریرۃ انہ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلاۃ ویکبر کلما خفض ورفع ویقول انا اشبہکم صلاۃ برسول اللّٰہ ۔

اور ان(احناف)کی ایک دلیل یہ حدیث ہے جسے نعیم مجمر اور ابو جعفر قاری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ بیشک حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ رفع یدین تو اس وقت کرتے جب نماز شروع فرماتے، اور تکبیر ہر اونچ نیچ میں کہتے۔ اور وہ فرماتے تھے، بیشک میں تم میں سے رسول کریم کی نماز کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ (التمہید لما فی الموطا من المعانی والاسانید ،ج9، ص215)

 

119۔ اخبرنا مالک عن ابن شہاب عن ابی سلمۃ عن ابی ہریرۃ انہ کان یصلی بہم فیکبر کلما خفض ورفع فاذا انصرف قال انی لاشبہکم صلاۃ برسول اللّٰہ ۔
ابوسلمہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ جب وہ جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو فرماتے،بیشک نماز پڑھنے میں تمہاری بہ نسبت میں رسول اللّٰہ کے زیادہ مشابہ ہوں۔
(بخاری، ج1، ص472، حدیث نمبر:752)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے بخاری ومسلم میں رسول کریم کی نماز کا جو مفصل طریقہ بیان ہوا ہے اس میں بھی اختلافی رفع یدین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up