Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 52 of 107

عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ اور ترکِ رفع یدین:

امام بخاری و امام مسلم کے استاد امام ابوبکر ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں،

110۔ عن سعید بن جبیر عن ابن عباس قال لا ترفع الایدی الا فی سبع مواطن اذا قام الی الصلوۃ واذا رأی البیت وعلی الصفا والمروۃ وفی عرفات وفی جمع وعند الجمار۔

حضرت سعید بن جبیر رضی اللّٰہ عنہ  سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ  نے فرمایا، اپنے ہاتھوں کو سوائے سات مقامات کے مت اٹھاؤ۔ جب نماز کے لیے کھڑے ہو، جب بیت اللّٰہ کو دیکھو، صفا پر، مروہ پر ، عرفات میں ، مزدلفہ میں اور جمرات (یعنی شیطانوں) کو کنکریاں مارتے وقت۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج 4، ص96)

اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ امام بخاری نے بھی یہی مضمون حضرت عبداللّٰہ بن عباس اور حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ  سے مرفوع حدیث میں بیان کیاہے۔

 

111۔ قال وکیع عن ابن ابی لیلیٰ عن نافع عن ابن عمر۔ 112۔ وعن ابن ابی لیلیٰ عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس عن النبی ﷺ لاترفع الایدی الا فی سبع مواطن فی افتتاح الصلوۃ واستقبال الکعبۃ وعلی الصفا والمروۃ وبعرفات وبجمع وفی المقامین وعند الجمرتین۔

امام وکیع، ابن ابی لیلیٰ سے وہ نافع سے وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں اور ابن ابی لیلیٰ، حَکَم سے وہ مقسم سے وہ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا،صرف سات جگہوں پر ہاتھ اٹھائے جائیں: نماز کے شروع میں، خانۂ کعبہ دیکھتے وقت، صفا پر، مروہ پر، عرفات اور مزدلفہ میں دونوں مقاموں پر اور جمرات کو کنکریاں مارتے وقت۔
(جزء رفع الیدین، ص78، حدیث نمبر:77)

 

غیر مقلدین کا اس حدیث کے راوی محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کو ضعیف کہنا باطل ہے، اس کی توثیق و تائید پہلے بیان ہو چکی ہے۔ امام ذہبی نے ابن ابی لیلیٰ کی حدیث کو درجہ حسن کی حدیث قرار دیا ہے۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج1، ص129)

 

امام طبرانی نے بھی حدیثِ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ کو روایت کیا ہے۔

113۔ عن ابن عباس عن النبی ﷺ قال لاترفع الایدی الا فی سبع مواطن حین یفتتح الصلوۃ وحین یدخل المسجد الحرام فینظر الی البیت وحین یقوم علی الصفا وحین یقوم علی المروۃ وحین یقف مع الناس عشیۃ عرفۃ وبجمع والمقامین حین یرمی الجمرۃ۔
(معجم الکبیر للطبرانی، ج 11، ص385، حدیث نمبر:12101)

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ نے فرمایا،
صرف سات جگہوں پر ہاتھ اٹھائے جائیں: نماز شروع کرتے وقت، مسجد حرام میں داخل ہو کرخانۂ کعبہ دیکھتے وقت، جب صفا پر اور جب مروہ پر کھڑا ہو، جب لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف کرے اور مزدلفہ میں وقوف کے وقت، اور جمرات کو کنکریاں مارتے وقت۔

یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ غیر مقلدوں کے پیشوا نواب صدیق حسن بھوپالی نے اس کی سند کے متعلق لکھا، من حدیث ابن عباس بسند جید۔ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ کی اس حدیث کی سند بہت عمدہ ہے۔ (نزل الابرار، ص44)

 

114۔ عن ابن عباس قال کان رسول اللّٰہ  یرفع یدیہ کلما رکع، وکلما رفع، ثم صار الی افتتاح الصلاۃ، وترک ماسوی ذلک۔

حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم نماز میں جھکتے اور اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے، پھر صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کرنے لگے اور اس کے سوا ہر رفع یدین ترک کر دیا۔ (نصب الرایہ، ج1، ص392)

ان احادیث سے ثابت ہوا کہ مذکورہ سات مواقع جن میں نماز کی تکبیرِ اُولیٰ شامل ہے، ان کے علاوہ کہیں رفع یدین نہ کیا جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ بھی حدیث نبوی سنا کر اختلافی رفع یدین سے منع فرماتے تھے۔

یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ سے جن روایات میں رفع یدین کرنا بیان ہوا ہے وہ صحیح نہیں۔ اگر وہ روایات ثابت ہوں تو ان سے مراد آپ کا اس وقت کا عمل ہوگا جب رفع یدین منسوخ نہیں ہوا تھا۔

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ اور ترک رفع یدین:

امام بخاری کے شاگردِ رشید، امام ابوداؤد صحیح سند سے روایت کرتے ہیں،

115۔ حدثنا مسدد نا یحییٰ عن ابن ابی ذئب عن سعید بن سمعان عن ابی ہریرۃ قال کان رسول اللّٰہ اذا دخل فی الصلوۃ رفع یدیہ مداً۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ رسولِ معظم ﷺ  جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے ہاتھ دراز کر کے رفع یدین کرتے۔  (سنن ابی داؤد، ج2، ص408، حدیث نمبر:642)

Share:
keyboard_arrow_up