امام بخاری و امام مسلم کے استاد ، امام ابن ابی شیبہ نے اپنی سند سے یہی حدیث روایت کی ہے اور محدثین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
106۔ حدثنا وکیع عن ابی بکر بن عبداللہ بن قطاف النہشلی عن عاصم بن کلیب عن ابیہ ان علیّا رضی اللہ عنہ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلوٰۃ ثم لا یعود۔
حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کرتے تھے پھر ایسا نہیں کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2457)
حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی نے اس حدیث کے متعلق فرمایا،
ورجالہ ثقات۔
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ (الدرایہ فی تخریج احادیث الھدایہ، ج1، ص151)
شارح بخاری امام عینی فرماتے ہیں، یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔ (عمدۃ القاری ج 5، ص276)
جلیل القدر محدث امام ابن ترکمانی نے بھی اس حدیث کے تمام راویوں کو ثقہ فرمایا ہے۔
(الجوہر النقی علی البیہقی ،ج2، ص78) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
عظیم محدث و فقیہ امام طحاوی ان روایات کا تجزیہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں،
107۔ حدثنا ابن ابی داؤد قال ثنااحمد بن یونس قال ثنا ابوبکر النہشلی عن عاصم عن ابیہ وکان من اصحاب علی رضی اللّٰہ عنہ عن علی مثلہ۔ فحدیث عاصم بن کلیب ھذا قد دلّ ان حدیث ابی الزناد علیٰ احد وجھین امّا ان یکون فی نفسہ سقیما اولا یکون فیہ ذکر الرفع اصلا کما رواہ غیرہ ۔
حضرت عاصم اپنے والد سے جو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھیوں میں سے تھے، روایت کرتے ہیں کہ وہ حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔ عاصم بن کلیب کی روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابو الزناد کی روایت(جس میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے رفع یدین مذکور ہے) کی دوصورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو وہ روایت بذاتِ خود کمزور ہو یا اس میں ہاتھ اٹھانے کا بالکل ذکر نہ ہو جیسا کہ ان کے علاوہ دوسرے حضرات نے روایت کیا۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص385)
108۔ فان ابن خزیمۃ حدثنا قال ثنا عبداللّٰہ بن رجآء ۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص385)
109۔وحدثنا ابن ابی داؤد قال ثنا عبداللّٰہ بن صالح و الوھبی قالوا انا عبدالعزیز بن ابی سلمۃ عن عبداللّٰہ بن الفضل فذکروا مثل حدیث ابن ابی الزناد فی اسنادہ و متنہ ولم یذکروا الرفع فی شیء من ذلک فان کان ھذا ھو المحفوظ وحدیث بن ابی الزناد خطاء۔
فقد ارتفع بذلک ان یجب لکم بحدیث خطاء حجۃ و ان کان ماروٰی ابن الزناد صحیحا لانّہ زاد علیٰ ماروٰی غیرہ فان علیّا لم یکن لیری النبی ﷺ یرفع ثم یترک ھو الرفع بعدہ الا وقد ثبت عندہ نسخ الرفع فحدیث علی اذا صح ففیہ اکثر الحجۃ لقول من لا یری الرفع ۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص385، 386)
عبداللّٰہ بن رجاء ، عبداللّٰہ بن صالح اور وہبی (تینوں) کہتے ہیں ، ہمیں عبدالعزیز ابن سلمہ نے عبداللّٰہ بن فضل سے روایت کرتے ہوئے خبر دی۔ ان سب نے سند اور متن کے لحاظ سے ابن ابی الزناد کی حدیث کی طرح روایت کیا لیکن ان سب نے کہیں بھی رفع یدین کا ذکر نہیں کیا۔
اگر یہ حدیث محفوظ اور ابن ابی الزناد کی روایت خطاء ہو تو حدیثِ خطاء حجت نہیں ہو سکتی۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
اگر ابن ابی الزناد کی روایت صحیح ہو کیونکہ اس میں دوسروں کی روایت سے زائد ہے، اس لئے یہ نہیں ہو سکتا کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا ہو پھر انھوں نے خود سے ہاتھ اٹھانا چھوڑ دیا ہو۔ یہ تو اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ آپ کے نزدیک ہاتھ اٹھانے کا حکم منسوخ ہو گیا ہو۔
پس حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی روایت صحیح ہونے کی صورت میں ان لوگوں (یعنی احناف) کی دلیل زیادہ ہے جو ہاتھ اٹھانا ، نا جائز سمجھتے ہیں۔
ان دلائل سے واضح ہو گیا کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ پہلے رفع یدین کرتے تھے اس لیے کہ نبی کریم ﷺکرتے تھے۔ جب آقا ومولیٰ ﷺ نے رفع یدین منسوخ فرما دیا تو سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ نے بھی رفع یدین ترک کر دیا۔
یہی احناف کَثَّرَ ہُمُ اللّٰہُ تعالیٰ کا مذہب ہے۔

