Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 50 of 107

قال ابو جعفر فھذا عمر لم یکن یرفع یدیہ ایضاً الا فی التکبیرۃ الاولیٰ فی ھذا الحدیث وھو حدیث صحیح لان الحسن ابن عیاش وان کان ھذا الحدیث انما دار علیہ فانہ ثقۃ حجۃ فذکر ذلک یحییٰ ابن معین وغیرہ افتریٰ عمر ابن الخطاب خفی علیہ ان النبّی کان یرفع یدیہ فی الرکوع والسجود وعلم ذلک من دونہ ومن ھو معہ یراہ یفعل غیرما راٰی رسول اللّٰہ یفعل ثم لاینکر ذلک علیہ ھذا عندنا محال وفعل عمر ھذا وترک اصحاب رسول اللّٰہ ایاہ علیٰ ذلک دلیل صحیح ان ذلک ھوالحق الذی لا ینبغی لاحد خلافہٗ۔

امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ یہ ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ جو اس حدیث کے مطابق صرف پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے ہیں اور یہ صحیح حدیث ہے کیونکہ اس حدیث کا دارومدار حضرت حسن بن عیاش پر ہے اور وہ ثقہ حجت ہیں جیسا کہ یحییٰ بن معین وغیرہ نے ذکر کیا۔ تمہارا کیا خیا ل ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ  پر یہ بات مخفی رہی کہ سرکارِ دو عالم رکوع اور سجدے میں ہاتھ اٹھاتے تھے اور دوسروں کو یہ معلوم ہو گیا؟ اور کیا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے ساتھیوں نے آپ کو رسول اکرم ﷺ  کے عمل کے خلاف کرتے دیکھا اور اعتراض نہ کیا؟ ہمارے نزدیک یہ بات محال ہے۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کا یہ عمل کرنا اور صحابہ کرام کا اس پر اعتراض نہ کرنا اس بات کی صحیح دلیل ہے کہ یہی بات حق ہے اور کسی کو اس کے خلاف کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص389)

 

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی احادیث:

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ بھی پہلی تکبیر کے سوا نماز میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔

امام محمد بن حسن ، محمد بن ابان بن صالح سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں عاصم بن کلیب نے خبر دی کہ میرے والد نے کہا،

101۔ رأیت علی ابن ابی طالب رفع یدیہ فی التکبیرۃ الاولی من الصلوۃ المکتوبۃ ولم یرفعہما فیما سوی ذلک۔

میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ کو دیکھا کہ وہ فرض نمازوں میں تکبیرِ اولیٰ کے وقت ہاتھ اٹھاتے اور پھر کسی جگہ رفع یدین نہیں کرتے۔ (مؤطا امام محمد، ج1، ص180، حدیث نمبر:105)

 

امام محمد نے فرمایا،ہمیں ابوبکر بن عبداللہ النہشلی نے عاصم بن کلیب سے خبر دی کہ:

102۔ عن ابیہ وکان من اصحاب علی ان علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کان یرفع یدیہ فی التکبیرۃ الاولی التی یفتتح بہا الصلوۃ ثم لا یرفعہما فی شیٔ من الصلوۃ۔

وہ اپنے والد سے جو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے رفقاء میں سے تھے، روایت کرتے ہیں، بیشک حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نماز کے شروع میں تکبیر اولیٰ میں رفع یدین کرتے پھر نماز میں کسی بھی جگہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(مؤطا امام محمد، ج1، ص184، حدیث نمبر:109)

 

103۔ محدثِ جلیل امام محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں،

جاء الثبت عن علی بن ابی طالب وعبداللّٰہ بن مسعود انہما کانا لایرفعان فی شیٔ من ذلک الا فی تکبیرۃ الافتتاح۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ  اور حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ ، دونوں سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ سوائے تکبیرِ افتتاح کے ، رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(کتاب الحجۃ علی اہل المدینہ، ج1، ص94)

 

دارقطنی نے ترکِ رفع یدین کی حدیث کو سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔

104۔ عن عبدالرحیم بن سلیمان عن ابی بکر النہشلی عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن علی عن النبی ﷺ انہ کان یرفع یدیہ فی اول الصلوٰۃ ثم لا یعود۔

حضرت علی کرم اللّٰہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ نبی کریم  نماز کے شروع میں اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے تھے پھر دوبارہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (سنن دار قطنی، ج5، ص65،حدیث نمبر:1854)

 

جلیل القدر محدث وفقیہ امام طحاوی فرماتے ہیں،

105۔ فان ابا بکرۃ قد حدثنا قال ثنا ابو احمد قال ثناابو بکر النّشھلی قال ثنا عاصم بن کلیب عن ابیہ ان علیّا رضی اللہ عنہ کان یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ من الصلوٰۃ ثم لا یرفع بعد۔

حضرت ابو بکرہ نے (اپنی سند کے ساتھ)ہم سے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نماز میں پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے پھر اس کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص385)

Share:
keyboard_arrow_up