Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 49 of 107

حافظ الحدیث امام ابن ترکمانی فرماتے ہیں،

’’ امام ابن عدی نے لکھا ہے کہ محدث اسحاق اپنے سے افضل اور ثقہ شیوخ کی جماعت پر محمد بن جابر کو ترجیح دیتے تھے۔ ان سے اکابر ائمہ محدثین نے احادیث روایت کی ہیں جن میں ایوب، ابن عون، ہشام بن حسان، سفیان ثوری اور امام شعبہ وغیرہ شامل ہیں۔

امام فلاس نے کہا،

وہ صدوق یعنی سچے ہیں۔

امام ابن حبان اور حماد بن ابی سلیمان نے انہیں ثقات میں داخل کیا ہے۔ امام بخاری کے سوا محدثین کی ایک جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

 

یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن عبداللّٰہ بجلی نے ان کو ثقہ قرار دیا اور امیر المؤمنین فی الحدیث امام شعبہ نے کہا، وہ صدوق ہیں‘‘۔ (الجوہر النقی علی البیہقی،ج2، ص78)

 

امام ذہبی فرماتے ہیں:

قد روی عن محمد بن جابر ائمۃ وحفاظ۔

محمد بن جابر سے بڑے بڑے ائمہ و حفاظ نے حدیثیں روایت کیں۔
(میزان الاعتدال، ج6، ص89)

 

امام ذھلی نے محمد بن جابر کے متعلق فرمایا: لا باس بہ۔

اس کی حدیث قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام دارقطنی نے کہا،یعتبر ہما ۔(وہ اور اسکا بھائی) دونوں معتبر ہیں۔
(تہذیب التہذیب، ج9، ص78) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

 

حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ امام ابوحاتم نے محمد بن جابر کو ابن لھیعہ پر ترجیح دی ہے۔
(تہذیب التہذیب، ج9، ص78)

 

جبکہ غیر مقلد محقق احمد شاکر مصری نے ابن لھیعہ کو ثقہ اور صحیح الحدیث قرار دیا ہے۔
(ترمذی بتحقیق شاکر، ج1، ص57، حدیث نمبر40)

پس جب محمد بن جابر کو ابن لھیعہ پر فوقیت ہے اور ابن لھیعہ ثقہ اور صحیح الحدیث ہے تو محمد بن جابر رحمہ اللّٰہ زیادہ ثقہ اور صحیح الحدیث قرار پائے۔ یہی سبب ہے کہ امام بخاری نے محمد بن جابر کی سند سے مذکورہ حدیث جزء رفع الیدین پر روایت کی مگر اس حدیث پر کوئی جرح نہ فرمائی۔
(جزء رفع الیدین، ص116، حدیث  نمبر:115)

 

اب وہ احادیث ملاحظہ فرمائیں جن کی سند بخاری و مسلم کی مانند ہے اور ان سے بھی ثابت ہو رہا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ   اختلافی رفع یدین نہیں کرتے تھے۔

 

امام بخاری و امام مسلم کے استاد امام ابن ابی شیبہ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ روایت کرتے ہیں،

99۔ عن زبیر ابن عدی عن ابراہیم عن الاسود قال صلیت مع عمر فلم یرفع یدیہ فی شیٔ من صلوۃ الا حین افتتح الصلوۃ۔

حضرت اسود فرماتے ہیں، میں نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ  کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے نماز میں کہیں بھی رفع یدین نہیں کیا سوائے نماز کے آغاز کے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص237، حدیث نمبر:2449)

 

امام طحاوی رحمہ اللّٰہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ  کے نماز کے شروع کے علاوہ رفع یدین نہ کرنے کی حدیث بیان کر کے فرماتے ہیں، حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔

 

100۔ حدثنا ابن ابی داؤد قال ثنا الحمانی قال ثنا یحییٰ بن اٰدم عن الحسن ابن عیاش عن عبدالملک بن ابحر عن الزبیر ابن عدی عن ابراھیم عن الاسود قال رایت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ثم لا یعود۔

حضرت ابراہیم، حضرت اسود سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ کو دیکھا آپ پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے، پھر دوبارہ نہیں اٹھاتے تھے۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص389)

Share:
keyboard_arrow_up