اس حدیث شریف میں بھی جلیل القدرصحابی نے آقاومولیٰ ﷺ کی نماز کا طریقہ بیان کیا اور فرمایا، یہ مدینے والی نماز ہے۔اس میں رفع یدین کا کہیں ذکر نہیں کیا جس سے ثابت ہوا کہ رفع یدین منسوخ ہو چکا تھا۔
مدینے والی نماز کے متعلق حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ کی گواہی بھی ملاحظہ کیجیے جسے امام حافظ ابو عبداللّٰہ محمد بن حارث الخشنی القیروانی رحمہ اللّٰہ (م۳۶۱ھ) نے روایت کیا جن کا ذکر امام ذہبی رحمہ اللّٰہ نے حافظِ حدیث اور امام کے القاب سے تذکرۃ الحفاظ اور سیر اعلام النبلاء پر کیا ہے۔
(تذکرۃ الحفاظ، ج3، ص138، سیر اعلام النبلاء، ج16، ص165)
95۔ حدثنی عثمان بن محمد قال قال لی عبید اللّٰہ بن یحیٰی حدثنی عثمان بن سوادۃ ابن عباد عن حفص بن میسرۃ عن زید بن اسلم عن عبداللّٰہ بن عمر قال کنا مع رسول اللّٰہ ﷺ بمکۃ نرفع ایدینا فی بدء الصلاۃ وفی داخل الصلاۃ عند الرکوع فلما ہاجر النبی ﷺ الی المدینۃ ترک رفع الیدین فی داخل الصلاۃ عند الرکوع وثبت علی رفع الیدین فی بدء الصلاۃ۔ توفی۔
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں، جب ہم آقا ومولیٰ ﷺ کے ساتھ مکہ میں تھے تو ہم نماز کی ابتدا اور رکوع کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ پھر جب حضور ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو آپ نے نماز کے اندر رکوع والا رفع یدین چھوڑ دیا اور نماز کی ابتدا کے رفع یدین پر قائم رہے، حتیٰ کہ آپ ﷺ کا وصال ہو گیا۔ (اخبارُ الفقہاء والمحدثین،ص216) یہ حدیث صحیح ہے۔
سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہما کی احادیث:
حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہما سے بھی نماز میں رفع یدین نہ کرنا ثابت ہے۔
امام ابویعلیٰ احمد بن علی الموصلی رحمہ اللّٰہ (م۳۰۷ھ) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا،
96۔ صلیت مع رسول اللّٰہ ﷺ وابی بکر وعمر رضی اللّٰہ عنہما فلم یرفعوا ایدیہم الا عند افتتاح الصلوۃ وقد قال محمد فلم یرفعوا ایدیہم بعد التکبیرۃ الاولیٰ۔
میں نے آقا ومولیٰ ﷺ اور سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللّٰہ عنہما کے ساتھ نمازیں پڑھیں تو وہ سوائے نماز کے شروع کے رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ اور امام محمد رحمہ اللّٰہ نے فرمایا ہے کہ وہ پہلی تکبیر کے بعد پھر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (مسند ابویعلی، ج8، ص453)
امام دارقطنی رحمہ اللّٰہ نے بھی اپنی سند سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا،
97۔ صلیت مع النبی ﷺ و مع ابی بکر ومع عمر رضی اللہ عنہما فلم یرفعوا ایدیہم الا عند التکبیرۃ الاولی فی افتتاح الصلوۃ۔
میں نے نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہما کے ساتھ نمازیں پڑھیں۔ یہ حضرات نماز کے شروع میں پہلی تکبیر کے سوا کہیں بھی رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(سنن الدارقطنی، ج1، ص295،حدیث نمبر:25)
98۔ امام بیہقی رحمہ اللّٰہ نے بھی اس حدیث کو سنن الکبریٰ میں روایت کیا ہے۔
(سنن کبری، ج2، ص79، حدیث نمبر:2636)
امام بیہقی نے اس حدیث کو روایت کر کے اس کے راوی محمد بن جابر رحمہ اللّٰہ کو ضعیف کہا ہے۔
اس ضعف کی وجہ یہ ہے کہ آخر عمر میں ان کا حافظہ کمزور ہو گیا تھا اس لیے وہ یاد دلانے پر یاد کر لیتے تھے۔ اس کے باوجود ان کی علمی جلالت و عظمت کی وجہ سے کئی اکابر محدثین نے انہیں صدوق اور ثقہ کہا ہے لہٰذا ان کی حدیث کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ،پھر یہ حدیث تو بطور متابع پیش کی ہے۔

