علامہ ابن عبدالبر مالکی نے بھی لکھا ہے، فروی ابن القاسم وغیرہ عن مالک انہ کان یری رفع الیدین فی الصلوۃ ضعیفاً الا فی تکبیرۃ الاحرام وحدہا وتعلق بہذہ الروایۃ عن مالک اکثر المالکین۔
ابن القاسم اور دوسروں نے بھی امام مالک سے روایت کیا ہے کہ بیشک وہ نماز میں تکبیرِ تحریمہ کے سوا رفع یدین کرنے کو ضعیف سمجھتے تھے۔ اکثر مالکی حضرات نے امام مالک سے یہی بات روایت کی ہے۔
(التمہید لما فی الموطا من المعانی والاسانید، ج9، ص212) الحمد للّٰہ!
مالکی مذہب کے جید محدثین کرام کی مذکورہ بالا گواہیوں سے غیر مقلدین کے فریب کا پردہ چاک ہو گیا اور ثابت ہو گیا کہ امام مالک کا مذہب ترکِ رفع یدین ہے۔
شارح مسلم، امام نووی کے حوالے سے غیر مقلدوں کے امام شوکانی نے بھی یہ بات تسلیم کی ہے کہ امام مالک کا مذہب ترکِ رفع یدین ہے۔ وہ رقمطراز ہیں،
وقال ابوحنیفۃ واصحابہ وجماعۃ من اہل الکوفۃ لا یستحب فی غیر تکبیرۃ الاحرام۔ قال النووی ، وہو اشھر الروایات عن مالک۔
’’امام ابوحنیفہ اور آپ کے ساتھی اور جماعتِ اہلِ کوفہ سوائے تکبیرِ تحریمہ کے کسی رفع یدین کو مستحب نہیں سمجھتے۔ امام نووی فرماتے ہیں، امام مالک سے مشہور روایت بھی یہی ہے‘‘۔
(نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار ج2، ص192)
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ رفع یدین کا ترک صرف اہلِ کوفہ کا مذہب نہیں، اہلِ مدینہ کا بھی یہی عمل تھا۔ کیونکہ امام مالک کا اہلِ مدینہ کی اتباع کرنا معروف ہے۔ یہ بات غیر مقلدین کے پیشوا ابن قیم نے لکھی ہے۔
قال ابن القیم ، من اصول مالک اتباع عمل اہل المدینۃ وان خالف الحدیث۔
’’ابن قیم نے کہا، امام مالک کے اصول میں سے ہے کہ وہ اہل مدینہ کے عمل کی اتباع کرتے ہیں اگرچہ وہ عمل بظاہر حدیث کے خلاف ہی کیوں نہ ہو‘‘۔ (بدائد الفوائد، ج4، ص835)
مزید تائید کے لیے مالکی مذہب کے جید عالم ابنِ رشدمالکی کا قول بھی ملاحظہ کیجیے۔ وہ فرماتے ہیں،
فمنہم من اقتصر بہ علی الاحرام فقط ترجیحا لحدیث عبداللہ بن مسعود وحدیث البراء بن عازب وہو مذہب مالک لموافقۃ العمل بہ۔
’’کچھ فقہاء نے رفع یدین کرنے کو صرف تکبیر تحریمہ کے وقت مخصوص کیا۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ کی احادیث کو ترجیح دیتے ہوئے، اور یہی امام مالک کا مذہب ہے کیونکہ اہلِ مدینہ کا عمل اسی کے موافق ہے‘‘۔(بدایۃ المجتہد ج1، ص134) الحمدللّٰہ!
ان دلائل سے واضح ہو گیا کہ امام مالک اور اہلِ مدینہ کا مذہب صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین ہے۔ اختلافی رفع یدین کو وہ ترک کر چکے تھے۔ یہی بات تواتر سے ثابت ہے۔
اہلِ مدینہ اور ترکِ رفع یدین:
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللّٰہ عنہ نے بھی جب رسولِ خدا ﷺ کی نماز کا طریقہ بتایا تو اہلِ مدینہ کا عمل ترکِ رفع یدین بیان کیا۔
94۔ حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مالک اشعری رضی اللّٰہ عنہ نے اپنی قوم کو جمع کر کے فرمایا،
اے اشعری قوم ! جمع ہو جاؤ اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی جمع کر لو تاکہ میں تمہیں رسولِ خدا ﷺ کی نماز سکھاؤں جو آپ ہمیں مدینہ منورہ میں پڑھایا کرتے تھے۔
پس آپ نے وضو کیا اور انہیں دکھایا کہ وضو کیسے کیا جاتا ہے۔آپ نے اچھی طرح اعضائے وضو تک پانی پہنچایا۔ پھر جب سایہ ظاہر ہو گیا تو آپ نے کھڑے ہو کر اذان دی۔ پس مردوں نے ان کے نزدیک صف باندھی اور بچوں نے ان کے پیچھے صف بنائی پھر عورتوں نے ان کے پیچھے صف باندھی۔ پھر کسی نے اقامت کہی تو آپ نماز پڑھانے کے لیے آگے ہو گئے۔ آپ نے رفع یدین کیا اور تکبیر تحریمہ کہی۔ پھر سورت فاتحہ اور کوئی سورت خاموشی سے پڑھی۔ پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا اور تین بار تسبیح پڑھی۔
پھر سمع اللّٰہ لمن حمدہ کہہ کر سیدھے کھڑے ہوگئے۔ پھر تکبیر کہتے ہوئے پہلا سجدہ کیا پھر تکبیر کہہ کر سجدہ سے سر اُٹھایا پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا۔
پھر تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے۔ اس طرح پہلی رکعت میں چھ تکبیریں ہوئیں۔
پس جس وقت نماز پڑھا چکے تو اپنی قوم کی طرف منہ کر کے فرمایا،
احفظوا تکبیری وتعلموا رکوعی وسجودی فانہا صلاۃ رسول اللّٰہ ﷺ التی کان یصلی لنا کذا الساعۃ من النہار۔
’’میری تکبیروں کو یاد کر لو اور میرے رکوع و سجود سیکھ لو کیونکہ یہ رسولِ خدا ﷺ کی وہ نماز ہے جو آپ ہمیں دن کے اس حصہ میں پڑھایا کرتے تھے‘‘۔ (مسند احمد، ج46، ص382، حدیث نمبر:218312)

