Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 46 of 107

امام ابو عبداللّٰہ عبدالرحمن بن قاسم فقہ مالکی کے بڑے امام اور ثقہ محدث ہیں۔

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں،

ابوعبداللّٰہ المصری الفقیہ روی عن مالک الحدیث والمسائل۔ قال ابوزرعۃ مصری ثقہ رجل صالح۔ قال النسائی ثقہ مامون احد الفقہاء۔ قال الحاکم ثقہ مامون وقال الخطیب ثقہ۔ قال یحییٰ بن معین ثقہ ثقہ۔

امام ابوعبداللّٰہ ابن القاسم مصری فقیہ ہیں۔ آپ امام مالک سے حدیث اور مسائل دونوں روایت کرتے ہیں۔ امام ابو زرعہ نے کہا، آپ ثقہ راوی اور صالح شخص ہیں۔ امام نسائی نے کہا، ثقہ مامون راوی اور فقہاء میں سے ایک ہیں۔

امام حاکم، خطیب بغدادی اور امام یحییٰ بن معین نے آپ کو ثقہ مامون قرار دیا ہے۔
(تہذیب التہذیب ،ج6، ص227) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

 

امام مالک سے ان کے ایک اور نامور شاگرد محدث و امام ابن وہب اور امام ابن القاسم دونوں نے روایت کیا ہے،

 

91۔ ابن وہب و ابن القاسم عن مالک بن انس عن ابن شہاب عن سالم بن عبداللّٰہ عن ابیہ ان رسول اللّٰہ ﷺ کان یرفع یدیہ حذو منکبیہ اذا افتتح التکبیر للصلاۃ۔

امام ابن وہب اور امام ابن القاسم دونوں امام مالک سے روایت کرتے ہیں، وہ ابن شہاب زہری سے، وہ سالم بن عبداللّٰہ سے اور وہ اپنے والد سیدنا ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ  سے روایت کرتے ہیں کہ بیشک رسول کریم رفع یدین کرتے تھے شانوں تک جب نماز کے لیے شروع کی تکبیر کہتے۔ (المدونۃ الکبری، ج1، ص166)

 

یہ حدیث صحیح ہے۔ امام ابن القاسم  نے اس حدیث کو ترک رفع یدین کے دلائل میں پیش کیا ہے کیونکہ اس میں صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کا ذکر ہے، اختلافی رفع یدین کا کوئی ذکر نہیں۔

امام مالک کے ایک اور شاگرد نے امام مالک ہی کی سند سے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے ترک رفع یدین مرفوعاً روایت کیا ہے۔ یہ حدیث خلافیات بیہقی کے حوالے سے اوپر مذکور ہوئی۔

دیکھیے حدیث نمبر 84  اسی کتاب میں حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ  کی ترکِ رفع یدین کی حدیث بھی صحیح سند سے مذکور ہے۔

 

92۔ عن وکیع عن سفیان عن عاصم عن عبدالرحمن بن الاسود عن الاسود وعلقمۃ قالا قال عبداللہ بن مسعود الا اصلی بکم صلاۃ رسول اللّٰہ ﷺ قال فصلی فلم یرفع یدیہ الا مرۃ۔

امام ابن القاسم امام وکیع سے وہ سفیان ثوری سے وہ عاصم بن کلیب سے وہ عبدالرحمن بن الاسود سے وہ اسود اور علقمہ دونوں سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ   نے فرمایا، کیا میں تمہیں رسول اللّٰہ کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھی تو صرف ایک ہی بار رفع یدین کیا۔ (المدونۃ الکبری، ج1، ص166)

 

امام مالک رضی اللّٰہ عنہ خود بھی رفع یدین کے قائل نہیں تھے۔ اس کا اظہار آپ نے واشگاف لفظوں میں فرمایا،

93۔ قال مالک لا اعرف رفع الیدین فی شیٔ من تکبیر الصلوۃ لا فی خفض ولا فی رفع الا فی افتتاح الصلوۃ۔

’’امام مالک فرماتے ہیں، میں نہیں جانتا کہ نماز کی ابتدا کے سوا نماز کی تکبیروں میں کہیں بھی رفع یدین ہو، نہ جھکتے ہوئے اور نہ اٹھتے ہوئے‘‘۔ (المدونۃ الکبری، ج1، ص165)

 

امام ابن القاسم نے فرمایا،

کان رفع الیدین عند مالک ضعیفاً الا فی تکبیرۃ الاحرام۔

یعنی امام مالک کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین ضعیف ہے۔ (المدونۃ الکبری، ج1، ص166)

 

المالکیۃ قالوا رفع الیدین حذوالمنکبین عند تکبیرۃ الاحرام مندوب وفیما عدا ذلک مکروہ۔

مالکیہ کہتے ہیں کہ رفع یدین کندھوں تک تکبیر تحریمہ کے وقت مستحب ہے اس کے علاوہ مکروہ ہے۔
(الفقہ علیٰ مذاہب الاربعہ، ج1، ص281)

Share:
keyboard_arrow_up