Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 45 of 107

ایسے سخت مجروح و ضعیف راوی کی روایت کیونکر حجت ہو سکتی ہے؟ پھر ذرا سوچئے تو سہی کہ وہ شخص جو خود رفع یدین کے بغیر نماز پڑھتا ہو جیسا کہ اوپر احادیث میں مذکور ہوا، وہ اپنی ہی طرح یعنی رفع یدین کے بغیر نماز پڑھنے والے کو کنکریاں کیوں مارے گا، یہ عقل کے خلاف ہے۔

مزید یہ کہ مدینہ منورہ میں تو لوگ رفع یدین کرنے پر تعجب کرتے اور حیرا ن ہوتے تھے جیسا کہ اوپر احادیث تحریر ہوئیں، مطلب یہ کہ وہاں ہر شخص رفع یدین کے بغیر نماز پڑھتا تھا۔

نتیجتاً اتنے سارے لوگوں کو مارنے کے لیے کثیر کنکریاں درکار ہوتی ہوں گی۔ پھر تو حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ  عبادت کرنے کی بجائے لوگوں کو مارنے کے لیے اکثر وقت کنکریاں ڈھونڈتے رہتے ہوں گے یا پھر وہ اس کام کے لیے روزانہ دوسروں سے کنکریاں جمع کرواتے ہوں گے! کیا عجیب وغریب روایت ہے۔ استغفر اللّٰہ العظیم۔

 

سوال یہ ہے کہ ان کے کنکریاں مارنے کا شرعی جواز کیا تھا؟

کیا کسی نمازی کو نماز کے دوران مارنے کا قرآن میں حکم ہے یا پھر رسول کریم رضی اللّٰہ عنہ کی کسی حدیث میں یہ حکم آیا ہے؟ قرآن حکیم میں تویہ ہے،

ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ۔

حدیثِ بخاری میں یہ ہے، ان الدین یسر۔ بیشک دین آسان ہے۔

حق یہ ہے کہ کسی کی اصلاح کا یہ طریقہ کسی صحابی کی شان کے لائق نہیں۔

 

غیر مقلدین کے امام محدث ابن حزم نے اس روایت کا انکار کیا ہے۔ لکھا ہے،

ماکان ابن عمر یحصب من ترک مالہ ترکہ۔

’’حضرت ابن عمر ایسے نہ تھے کہ (رفع یدین) ترک کرنے والے کو کنکر مارتے کیونکہ اگر کسی نے ترک کیا ہے تو آپ کو کیا؟‘‘
(المحلی بالآثار، ج2، ص265)

 

غیر مقلدین کے امام ابن حزم نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ  کے کنکریاں مارنے کا ہی انکار کر دیا ہے۔ پس ثابت ہو گیا کہ یہ روایت ضعیف و ناقابلِ استدلال ہے۔

 

امام ابن عبدالبر مالکی کے مندرجہ ذیل قول سے بھی اس روایت کا سخت مخدوش ہونا ثابت ہوتا ہے۔

ان من رفع منہم لم یعب علی من ترکہ۔

بلاشبہ جو رفع یدین کرتے وہ ان پر کوئی اعتراض نہ کرتے جنہوں نے رفع یدین ترک کر دیا تھا۔
(التمہید، ج9، ص226)

 

امام مالک اور المدونۃ الکبریٰ:

عموماً غیر مقلدین مسلمانوں کو بہکانے کے لیے یہ دھوکا دیتے ہیں کہ سوائے امام ابوحنیفہ کے ائمہ ثلاثہ یعنی امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نماز میں رکوع والی رفع یدین کے قائل ہیں۔ یہ بات سرا سر غلط اور جھوٹ ہے۔

امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ  جن کا سنِ پیدائش ۸۰ھ ہے اور امام مالک رضی اللّٰہ عنہ جن کا سنِ پیدائش ۹۳ھ ہے، دونوں رفع یدین کے قائل نہیں تھے۔ ان دونوں اماموں کو ثقہ راویوں سے ترکِ رفع یدین کی احادیث مل گئیں اس لیے انہوں نے رفع یدین ترک کرنے کا قول کیا۔

امام شافعی، امام اعظم کے وصال کے سال یعنی ۱۵۰ھ میں اور امام احمد بن حنبل ۱۶۴ھ میں پیدا ہوئے ۔ بعد کے راویوں پر انہیں اعتماد نہیں ہوا اس لیے انہوں نے رفع یدین کرنے کو اختیار کیا۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر کوئی حدیث امام اعظم نے مذہبِ حنفی کی دلیل کے طور پر اختیار کی اور بعد کے کسی ضعیف راوی کی وجہ سے امام شافعی یا امام بخاری وغیرہ نے اس حدیث کو ضعیف کہہ دیا تو اس ضعیف کہنے سے امام اعظم کی دلیل پر کوئی اثر نہیں ہو گا کیونکہ انہیں تو وہ حدیث قوی راویوں سے اس وقت مل گئی تھی جبکہ وہ ضعیف راوی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔

امام مالک کے مذہب کی سب سے بڑی کتاب ’’المدونۃ الکبریٰ‘‘ہے جو امام مالک کے شاگردِ رشید، مجتہد و فقیہ امام ابوالقاسم کی کتاب ہے۔

حاجی خلیفہ لکھتے ہیں،

ہی من اجل الکتب من مذہب مالک۔

یہ امام مالک کے مذہب کی سب سے بڑی کتاب ہے۔
(کشف الظنون، ج2، ص1144)

 

غیر مقلد عالم عبدالرحمن مبارکپوری نے ابن حجر کے حوالے سے لکھا ہے کہ،

مالکی حضرات کا اعتماد احکام اور فتاویٰ میں مدونۃ الکبریٰ پر ہے۔ (مقدمہ تحفۃ الاحوذی، ج1، ص215)

Share:
keyboard_arrow_up