ان دلائل سے ثابت ہو گیا کہ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ پہلے رفع یدین کرتے تھے، جب ان کے نزدیک رفع یدین کا منسوخ ہونا ثابت ہو گیا تو انہوں نے رفع یدین ترک کرد یا۔
ایک آدھ بار کبھی آقا و مولیٰ ﷺ کی اس ادا کو یاد کر کے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اس پر عمل کیا تو دیکھنے والوں نے اس پر تعجب کیا اور رفع یدین کے متعلق فوراً سوال کر دیا کہ یہ کیا ہے؟ امام بخاری و امام مسلم کے استاد امام احمد بن حنبل کی روایت کردہ حدیث ملاحظہ فرمائیے۔رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
88۔ عن جابر سمعت سالم بن عبداللہ یحدث انہ رأی اباہ یرفع یدیہ اذا کبر و اذا اراد ان یرکع واذا رفع راسہ من الرکوع فسألتہ عن ذلک فزعم انہ رأی رسول اللّٰہ ﷺ یصنعہ۔
حضرت جابر سے روایت ہے کہ میں نے سالم بن عبداللّٰہ سے سنا کہ انہوں نے اپنے والد عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے رفع یدین کیا جب نماز کے شروع میں ، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت۔ وہ کہتے ہیں ، میں نے اپنے والد سے اس کے متعلق سوال کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللّٰہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (مسند احمد، ج10، ص346، حدیث نمبر:4810)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت سالم رضی اللّٰہ عنہ کو خود بھی رفع یدین کا علم نہیں تھا ورنہ وہ اس کے متعلق سوال نہ کرتے۔
دوم یہ کہ مدینہ منورہ میں صحابہ کرام رفع یدین نہیں کرتے تھے ورنہ انہیں اس پر تعجب نہ ہوتا۔ ایسے ہی کوفے کے قاضی حضرت محارب بن دثار نے جب ایک بار حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کو رفع یدین کرتے دیکھا تو انہوں نے بھی تعجب سے سوال کر دیا۔
89۔ عن محارب بن دثار قال رأیت ابن عمر یرفع یدیہ کلما رکع وکلما رفع رأسہ من الرکوع قال فقلت لہ ما ہذا قال کان النبی ﷺ اذا قام فی الرکعتین کبر ورفع یدیہ۔
حضرت محارب بن دثار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کو رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا، یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، نبی کریم ﷺ جب دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے تو رفع یدین کرتے تھے۔
(مسند احمد،ج13، ص83، حدیث نمبر:3046)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دورِ تابعین میں رفع یدین کا کوئی رواج نہ تھا اور لوگ اس سے آگاہ نہ تھے، اس لیے اگر کوئی کبھی کبھار رفع یدین کر لیتا تو دیکھنے والے تعجب سے پوچھتے، یہ کیا ہے؟ یہ تعجب اور حیرانی کا اظہار اس بات کی دلیل ہے کہ تابعین کرام کے دور میں رفع یدین ترک ہو چکا تھا۔
کنکر مارنے والی روایت:
غیر مقلدین رفع یدین کی اہمیت جتانے کے لیے یہ روایت بھی پیش کرتے ہیں،
90۔ ’’حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ رفع یدین نہ کرنے والوں کو کنکریاں مارا کرتے تھے‘‘۔ (جزء رفع یدین، ج1، ص15، حدیث نمبر:14)
احناف کی پیش کردہ احادیث کے اکثر راویوں کو ضعیف کہنے والوں کو اپنی آنکھ کا شہتیر نہ جانے کیوں نظر نہیں آتا۔ یہ روایت سخت مجروح، ضعیف اور ناقابلِ احتجاج ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن مسلم ہے جس پر محدثین نے جرح کی ہے۔
امام احمد نے فرمایا،
کان الولید کثیر الخطاء۔
ولید بہت زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللّٰہ نے کہا،
میں نے ابو مسہر رحمہ اللّٰہ سے سنا کہ ولید ابوالسفر سے روایت کرتا ہے اور ابوالسفر کذاب ہے۔
امام ابوداؤد رحمہ اللّٰہ نے کہا، ولید نے امام مالک کی طرف دس ایسی حدیثیں منسوب کی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ نے فرمایا،
ولید سنی اور اَن سنی حدیثیں باہم خلط ملط کر دیتا تھا اس لیے اس کی کئی روایات منکر ہیں۔ (تہذیب التہذیب، ج11، ص135)
امام ذہبی فرماتے ہیں امام ابو مسہر نے فرمایا،
ولید مدلس ہے اور اکثر جھوٹے راویوں سے ان کی نشاندہی کیے بغیر روایت کرتا ہے۔ (میزان الاعتدال، ج7، ص142)

