امام طحاوی فرماتے ہیں،
فھذا ابن عمر قد رایٰ النبّی ﷺ یرفع ثم ترک ھو الرفع بعد النبی ﷺ فلا یکون ذلک الا وقد ثبت عندہ نسخ ما قد رای النبی ﷺ فعلہ وقامت الحجۃ علیہ بذلک۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص386)
یہ وہی حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما ہیں جنھوں نے نبی کریم ﷺ کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا لیکن آپ کے بعد ہاتھ اٹھانا چھوڑ دیا ۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب آپ کے نزدیک نبی کریم کا وہ عمل منسوخ ہو چکا ہو جو آپ نے دیکھا تھا اور اس کے خلاف دلیل ثابت ہو گئی ہو۔
اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت طاؤس نے ذکر کیا ہے کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کو اس کے موافق عمل (یعنی رفع یدین) کرتے ہوئے دیکھا جو انھوں نے اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ تو اسے کہا جائے گا کہ حضرت طاؤس نے ذکر کیا ہے لیکن حضرت مجاھد نے اس کے خلاف کہا ہے۔ تو ہو سکتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ نے وہ عمل جسے طاؤس نے دیکھا ، اس وقت کیا ہو جب آپ کے نزدیک اس کے منسوخ ہونے کی دلیل ثابت نہیں ہوئی تھی پھر ان کے نزدیک منسوخ ہونے کی دلیل ثابت ہو گئی تو چھوڑ دیا اور وہ عمل کیا جسے حضرت مجاھد نے دیکھا۔
امام بخاری و مسلم کے استاد امام ابوبکر بن ابی شیبہ صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں،
86۔ حدثنا ابوبکر بن عیاش عن حصین عن مجاہد قال ما رأیت ابن عمر یرفع یدیہ الا فی اول ما یفتتح۔
ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے حصین سے ، انہوں نے مجاہد سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کو نماز کے آغاز کے سوا کبھی رفع یدین کرتے نہیں دیکھا۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص237)
اس حدیث کے تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔ جو اس حدیث کی سند کو صحیح نہیں مانتا وہ درحقیقت صحیح بخاری کی ان تمام احادیث کا منکر ہے جن کی اسناد میں یہ راوی ہیں۔
متعصب غیرمقلد محقق علیزئی نے ’’سیدنا ابن عمر سے منسوب اثر‘‘کے عنوان سے امام طحاوی کی روایت کردہ حدیث کو بغیر کسی معقول دلیل کے باطل و مردود کہا جبکہ اسی صفحہ پر اس حدیث کے راوی ابوبکر بن عیاش کو صدوق ومؤثق راوی کہا اور پچیس محدثین سے اس کا صحیح وحسَنُ الحدیث ہونا ذکر کیا۔
(نور العینین، ص168)
تعجب ہے غیر مقلدوں پر، جس کو صدوق و حسن الحدیث کہتے ہیں اس کی حدیث کو باطل و مردود بھی قرار دیتے ہیں صرف اس بناء پر کہ وہ ان کے خود ساختہ مذہب کے خلاف ہے۔ ابوبکر بن عیاش سے امام بخاری اور امام نسائی نے 18،18احادیث جبکہ امام ترمذی نے 31 احادیث روایت کیں ہیں۔
اس غیر مقلد محقق نے مذکورہ عنوان کے تحت امام ابن ابی شیبہ کی روایت کردہ مذکورہ بالا صحیح حدیث کا ذکر تک نہ کیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث اس کے نزدیک بھی صحیح ہے جس سے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کا اختلافی رفع یدین ترک کرنا ثابت ہے۔
محدث امام ابن ترکمانی رحمہ اللّٰہ نے بھی اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (جوہرالنقی علیٰ البیہقی، ج2، ص74)
قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ جو کہ صحیح بخاری کی رفع یدین والی حدیث کے راوی ہیں، ان کا بعد کا عمل یہ تھا کہ وہ رکوع سے قبل و بعد رفع یدین کیے بغیر نماز پڑھتے تھے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اختلافی رفع یدین منسوخ ہو جانے کی وجہ سے انہوں نے اسے ترک فرما دیا تھا۔
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کے ایک اور شاگرد عبدالعزیز بن حکیم نے بھی آپ سے ترکِ رفع یدین کا عمل روایت کیا ہے۔امام محمد بن الحسن روایت کرتے ہیں،
87۔ اخبرنا محمد بن ابان بن صالح عن عبدالعزیز بن حکیم قال رأیت ابن عمر یرفع یدیہ حذاء اذنیہ فی اول تکبیرۃ افتتاح الصلوۃ ولم یرفعہما فیما سوی ذلک۔
ہمیں محمد بن ابان بن صالح نے خبر دی، وہ عبدالعزیز بن حکیم سے راوی کہ انہوں نے کہا، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کو دیکھا کہ پہلی تکبیر کے وقت اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھاتے پھر کسی جگہ نہیں اٹھاتے تھے۔ (موطا امام محمد، ج1، ص183، حدیث نمبر:108)

