84۔ عن عبداللّٰہ بن عون الخزاز ثنا مالک عن الزہری عن سالم عن ابن عمر ان النبی ﷺ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلوۃ ثم لا یعود۔
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے پھر دوبارہ ایسا نہ کرتے۔ (نصب الرایہ، ج1، ص395)
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ بعض حضرات کا اس روایت کو محض حضرت ابن عمر کی بخاری والی روایت کے خلاف ہونے کی وجہ سے ’’باطل موضوع‘‘ قرار دینا محض مذہبی تعصب اور بے دلیل بات ہے۔تحقیق یہ ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
اس حدیث کے متعلق مکۃ المکرمہ کے عظیم محدث علامہ علی قاری رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
وحدیث اوردہ البیہقی فی الخلافیات من روایۃ عبد اللہ بن عون الخزاز حدثنا مالک عن الزہری عن سالم عن ابیہ ان النبی ﷺ کان یرفع یدیہ الخ ثم لا یعود۔ قلت وقد صح عنہ خلاف ذلک فیحمل علی نسخ الاول فتامل فقول ابن القیم من شم روائح الحدیث علی بعد شہد باللہ انہ موضوع، مدفوع۔
امام بیہقی نے خلافیات میں عبداللّٰہ بن عون الخزاز سے بیان کیا ہے (بحذفِ اسناد) ، حضرت سالم اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے، پھر دوبارہ رفع یدین نہ کرتے۔
محدث علی قاری فرماتے ہیں،
میں کہتا ہوں کہ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے صحیح طور پر اس کے خلاف (رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین کرنا) بھی مروی ہے تو پہلی حدیث کو اس حدیث سے منسوخ سمجھا جائے۔ غور کریں کہ ابن قیم کا اس حدیث کے متعلق یہ کہنا کہ’’ جس نے حدیث کی بو سونگھی ہے وہ اس حدیث کے موضوع ہونے کی گواہی دے گا‘‘،یہ اعتراض دور ہو گیا۔
(الاسرار المرفوعۃ، ج1، ص494)
غیرمقلدوں کے امام ابن قیم نے اس حدیث پر موضوع ہونے کا اعتراض کیا تھا، محدث علی قاری نے اس اعتراض کو غلط قرار دیا اور بتایا کہ نماز میں عند الرکوع رفع یدین پہلے کا عمل ہے اور یہ بعد میں متروک ہو گیا۔ لہٰذا رفع یدین کرنے والی حدیث کو رفع یدین نہ کرنے والی حدیث سے منسوخ مانا جائے گا۔
اختلافی رفع یدین کی احادیث کے مرکزی راوی حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ کے اقوال بیان ہوئے، اب ان کا عمل بھی ملاحظہ فرمائیں۔
امام طحاوی رقمطراز ہیں،
واما حدیث ابن عمر فانہ قد روی عنہ ما ذکرنا عنہ عن النبی ﷺ ثم روی عنہ من فعلہ بعد النبی ﷺ خلاف ذالک۔
جہاں تک حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کی روایت کا تعلق ہے تو ان سے (اختلافی رفع یدین) بھی مروی ہے جو ہم نے ان کے واسطہ سے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا لیکن سرکارِ دوعالم ﷺ کے بعد ان کا اس کے خلاف عمل بھی مروی ہے۔ (شرح معانی الآثار،1/225،حدیث:1356 شاملہ)
85۔ حدثنا ابن ابی داؤد قال ثنا احمد بن یونس قال ثنا ابو بکر بن عیاش عن حصین عن مجاھد قال صلیت خلف ابن عمر فلم یکن یرفع یدیہ الا فی التکبیرۃ الاولیٰ من الصلوٰۃ۔
حضرت مجاہد رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے نماز میں صرف پہلی بار تکبیر میں ہاتھ اٹھائے۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص386)
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے اکثر راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔ امام طحاوی ثقہ، ثبت اور بڑے حفاظِ حدیث میں سے ہیں۔ ان کا ذکر پہلے ہو چکا۔
دوسرے راوی ابن ابی داؤد کے متعلق شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی نے گواہی دی ہے،
کان من الحفاظ المکثرین۔
آپ حفاظِ حدیث میں سے ہیں اور کثرت سے روایت کرنے والے ہیں۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص386)
اس حدیث کے دیگر راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔ جب صحیح بخاری میں یہ ثقہ ہیں تو یہاں بھی ثقہ ہیں۔

