مذہبِ حنفی کی مؤید احادیث کا علمی طور پر جواب دینے کی سکت نہ ہونے پر غیر مقلدین نے ان احادیث میں تحریف کر کے ان کتب کو شائع کرنا شروع کر دیا۔
سنن ابوداؤد میں سے نام نہاد اہلحدیث حضرات نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے مروی نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی احادیث کو نکال دیا، مصنف ابن ابی شیبہ سے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی حدیث سے تَحْتَ السُّرَّۃِ کے الفاظ نکال دیے۔
ایسے ہی مصنف عبدالرزاق میں سے حدیثِ نور والا جزء نکال دیا، اسی طرح مسند حمیدی کی مذکورہ حدیث میں سے فَلَا یَرْفَع کے الفاظ نکال دیے تاکہ مضمون بدل جائے۔ اور الزام احناف پر لگا دیا کہ انہوں نے فلا یرفع کے الفاظ بڑھا دیے ہیں۔
اسی طرح صحیح ابی عوانہ کی درج ذیل حدیث جو کہ رفع یدین کے ترک پر واضح دلیل ہے اس حدیث میں بھی غیر مقلدین نے لایرفعہما سے قبل واؤ لگا کر تحریف کردی اور چور مچائے شور کے مصداق احناف پر واؤ نکالنے کا الزام لگا دیا۔ نعوذ باللّٰہ من ذلک۔
غیر مقلدین کے بہتان کے جواب میں ہم مسند حمیدی اور صحیح ابی عوانہ کے قلمی نسخوں کا عکس پیش کر رہے ہیں۔ آپ ملاحظہ فرمائیے کہ مذکورہ الفاظ ان قلمی نسخوں میں ہیں یا نہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں قلمی نسخے غیر مقلد علماء سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسند حمیدی کا قلمی نسخہ میاں نذیر حسین دہلوی کے دو غیر مقلد شاگردوں حافظ نذیر حسین عرف زین العابدین اور محی الدین زینبی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے جبکہ صحیح ابی عوانہ کا قلمی نسخہ پیر محب اللّٰہ شاہ راشدی پیر جو گوٹھ سندھ کا ہے جس کا عکس غیرمقلدین کے جماعتی آرگن الاعتصام ، شمارہ 27 میں شائع ہوا ہے۔یہ دونوں عکس ہم نے کتاب ’’حدیث اور اہلحدیث‘‘ سے لیے ہیں۔
فقیر نے کمپیوٹر سوفٹوئیر’’الفیہ‘‘دیکھا۔ اس میں تفسیر وحدیث اور دیگر فنون کی ایک ہزار کتب موجود ہیں۔ اس میں مسند ابی عوانہ کتاب الصلوٰۃ میں مذکورہ حدیث تلاش کی تو جزء 1 صفحہ 423 پر مل گئی۔ اس میں بھی واؤ کے بغیر صرف لایرفعہما کے الفاظ موجود ہیں۔
مذکورہ حدیث ہم نے دارالکتب العلمیۃ، بیروت سے شائع شدہ ۱۹۷۱ء کے ایڈیشن سے لی ہے جس کا عکس یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔
جب فقیر نے مسند ابی عوانہ کا ایمن بن عارف الدمشقی کا تحقیق کردہ دارالمعرفۃ، میاں نذیر حسین صاحب کے شاگردوں کے قلم سے لکھے ہوئے مسند حمیدی کے قلمی نسخے کے ایک صفحہ کا عکس پانچویں حدیث کے آخر میں غور سے دیکھئے کہ و بعد ما یرفع راسہ من الرکوع کے بعد فلایرفع ولا بین السجدتین ہے یا نہیں۔
غیر مقلدین کے جماعتی آرگن الاعتصام میں شائع ہونے والے صحیح ابی عوانہ کے قلمی نسخے کے ایک صفحہ کا عکس بیروت کا مطبوعہ نسخہ دیکھا تو اس کے جزء اول کے صفحہ 423 پر انہی الفاظ کو مذکورہ حدیث میں موجود پایا۔ والحمدللّٰہ حمداً کثیراً۔
جلیل القدرمحدث ، امام ابوعوانہ یعقوب بن اسحاق الاسفرائنی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ (م۳۱۶ھ) نے درج ذیل حدیث روایت کی ہے۔
83۔ حدثنا عبداللّٰہ بن ایوب المخرمی وسعدان بن نصر و شعیب بن عمرو فی آخرین قالوا ثنا سفیان بن عیینۃ عن الزہری عن سالم عن ابیہ قال رأیت رسول اللّٰہ ﷺ اذا افتتح الصلوۃ رفع یدیہ حتی یحاذی بہما وقال بعضہم حذو منکبیہ واذا اراد ان یرکع وبعد ما یرفع راسہ من الرکوع لا یرفعہما وقال بعضہم ولا یرفع بین السجدتین والمعنی واحد۔
امام سفیان بن عیینہ امام زہری سے، وہ حضرت سالم سے اور وہ اپنے والد حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا، میں نے رسول اللّٰہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے اور جب آپ رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین نہ کرتے۔ اور بعض راویوں نے کہا کہ آپ دونوں سجدوں کے درمیان بھی رفع یدین نہ کرتے۔سب راویوں کی روایت کا ایک ہی مطلب ہے۔
(مسند ابی عوانہ، ج1، ص423، حدیث نمبر:1572)

