79۔ حدثنا بذلک ابراھیم بن مرزوق قال ثنا و ھب او بشر بن عمر شک ابو جعفر عن شعبۃ عن الاعمش بذالک۔
حضرت شعبہ ، حضرت اعمش سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص388)
قال ابو جعفر فاخبر ان ما ارسلہ عن عبداللّٰہ فمخرجہ عندہ اصح من مخرج ما ذکرہ عن رجل بعینہ عن عبداللّٰہ فکذلک ھذا الذی ارسلہ عن عبداللّٰہ لم یرسلہ الا ومخرجہ عندہ اصح من مخرج ما یرویہ عن رجل بعینہ عن عبداللّٰہ ۔
امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، پس انھوں نے (حضرت ابراہیم نے) بتایا کہ وہ حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ سے جو ارسال کرتے ہیں تو ان کے نزدیک یہ روایت اس کی نسبت زیادہ صحیح ہوتی ہے جسے وہ کسی معین شخص کے واسطے سے حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس طرح حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے یہ مرسل روایت بھی ان کے نزدیک اس روایت کی نسبت زیادہ صحیح ہے جسے انھوں نے کسی معین شخص کے واسطے سے اُن سے روایت کیا ۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص388)
اس تفصیلی گفتگو سے حضرت ابراہیم نخعی کی مرسلات کے متعلق غیر مقلدین کے تمام اعتراضات ہَبَاءً مَّنْثُوْرًا کے مصداق ہوا میں بکھر کر غائب ہو گئے۔ الحمد للّٰہ حمداً کثیراً
امام طحاوی رحمہ اللّٰہ مزید رقمطراز ہیں،
80۔ ومع ذلک فقد رویناہ متصلا فی حدیث عبدالرحمٰن بن الاسود وکذلک کان عبداللہ یفعل فی سآئر صلوٰتہ۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم نے عبدالرحمٰن بن اسود کی روایت میں اسے متصل روایت کیا کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اپنی تمام نمازوں میں اسی طرح کرتے تھے یعنی تکبیر تحریمہ کے سوا رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص388)
81۔ کما حدثنا ابن ابی داؤد قال ثنا احمد بن یونس قال ثنا ابوالاحوص عن حصین عن ابراھیم قال کان عبداللہ لا یرفع یدیہ فی شیء من الصلوۃ الا فی الافتتاح ۔
حضرت ابراہیم نخعی فرماتے ہیں حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نماز کے آغاز کے علاوہ کسی جگہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص388)
پس ان احادیث سے بھی نماز میں تکبیر اولیٰ کے سوا رفع یدین کا منسوخ ہونا ثابت ہو گیا۔ یہ بھی خیال رہے کہ حضرت ابراہیم نخعی صحیح بخاری و صحیح مسلم کے راوی ہیں۔ امام بخاری نے آپ سے 169جبکہ امام مسلم نے 340 احادیث روایت کی ہیں۔
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کی احادیث:
امام بخاری نے حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے نماز میں رکوع سے قبل و بعد رفع یدین سے متعلق تین احادیث اپنی صحیح میں روایت کی ہیں۔ رفع یدین کرنے سے متعلق مذکورہ احادیث دیگر متعدد صحیح احادیث سے منسوخ ہوگئیں۔
امام بخاری رحمہ اللّٰہ (م۲۵۶ھ) کے استاد، نامور محدث امام عبداللّٰہ بن زبیر الحمیدی رحمہ اللّٰہ (م۲۱۹ھ) نے حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے آقا و مولیٰ ﷺ کا رکوع سے قبل و بعد رفع یدین نہ کرنا روایت کیا ہے۔
82۔ حدثنا الحمیدی قال ثنا سفیان قال ثنا الزہری قال اخبرنی سالم بن عبداللّٰہ عن ابیہ قال رأیت رسول اللّٰہ ﷺ اذا افتتح الصلوۃ رفع یدیہ حذو منکبیہ واذا اراد ان یرکع وبعد ما یرفع راسہ من الرکوع فلا یرفع ولا بین السجدتین ۔
امام زہری فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت سالم بن عبداللّٰہ نے بیان کیا کہ میرے والد حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے۔ جب رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین نہ کرتے اور نہ ہی دونوں سجدوں کے درمیان کرتے۔ (مسند حمیدی، ج2، ص177، حدیث نمبر:614)

