Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 39 of 107

ابراہیم نخعی کے ارسال کی حقیقت:

غیر مقلدین اعتراض کرتے ہیں کہ’’ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ کی حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ ان سے احادیث روایت کرتے ہوئے ارسال کرتے ہیں یعنی درمیان کے راوی کا نام نہیں لیتے اس لیے ان کی مرسل روایات ناقابلِ اعتبار اور ضعیف ہیں‘‘۔

 

امام ترمذی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

مرسل روایت کو ضعیف کہنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ائمہ حضرات ثقہ و غیر ثقہ سب سے روایات لیتے ہیں۔ لہٰذا جب کوئی مرسل حدیث روایت کرتا ہے تو شبہ ہوتا ہے کہ شاید اس نے غیر ثقہ راوی سے روایت لی ہو۔ (ترمذی  ، ج9، ص383، حدیث نمبر:2659)

 

حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ کا معاملہ دوسروں سے جدا ہے کیونکہ وہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ  سے ارسال اسی وقت کرتے ہیں جب انہوں نے وہ حدیث متعدد قوی راویوں سے سنی ہوتی ہے۔

وہ یہ خیال کر کے کہ کس کس کا نام لیں جب سارے راوی ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں تو اس وقت وہ کسی ایک کا نام لیے بغیر عن عبداللّٰہ بن مسعود کہہ کر حدیث روایت کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ روایت انہوں نے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے بہت سے شاگردوں سے سنی ہے۔

 

چنانچہ امام ترمذی اس کی تصدیق کرتے ہوئے رقمطراز ہیں،

77۔ حدثنا ابوعبیدۃ بن ابی السفر الکوفی نا سعید بن عامر عن شعبۃ عن سلیمان الاعمش قال قلت لابراہم النخعی اسند لی عن عبداللہ بن مسعود۔ فقال ابراہیم اذا حدثتکم عن عبداللہ فہو الذی سمعت واذا قلت قال عبداللہ فھو عن غیر واحد عن عبداللہ۔

امیر المؤمنین فی الحدیث، امام شعبہ نے روایت کیا کہ امام سلیمان اعمش نے فرمایا، میں نے ابراہیم نخعی سے کہا، مجھے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے سند کے ساتھ خبر دیجیے۔ حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا، جب میں حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے (سند کے ساتھ)حدیث بیان کروں تو یہ وہی ہے جو میں نے سنا۔ اور جب میں کہوں، ’’حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا ‘‘ تو سمجھ لو کہ میں نے متعدد راویوں سے ان کی حدیث روایت کی۔ (ترمذی، ج13، ص45،)

 

78 ۔ امام ابن سعد نے روایت کیا کہ آپ نے امام اعمش سے فرمایا،

اذا قلت قال عبداللّٰہ فقد سمعتہ من غیر واحد من اصحابہ واذا قلت حدثنی فلان فحدثنی فلان۔

جب میں یہ کہوں کہ حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا تو ان کی وہ بات میں نے ان کے ایک سے زیادہ شاگردوں سے سنی ہوتی ہے اور جب میں کہوں کہ مجھے فلاں نے یہ بات سنائی تو وہ بات میں ان کے اسی شاگرد سے سنی ہوتی ہے اس لیے میں اس کا نام ذکر کر دیتا ہوں۔ (طبقات الکبری، ابن سعد، ج6، ص276)

 

دونوں حوالوں سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ  کی مرسل حدیث ، غیر مرسل حدیث کے مقابلے میں زیادہ قوی ہے کیونکہ اسے انہوں نے کئی قوی راویوں سے سنا ہوتا ہے۔ اسی لیے حضرت ابراہیم نخعی کی مرسل حدیث کو صحیح حدیث قرار دیا گیا ہے۔

 

امام بیہقی نے روایت کیا ہے کہ نقدِ رجال کے جلیل القدر امام یحییٰ بن معین کا ارشاد ہے،

مرسلات ابراہیم صحیحۃ۔الخ

یعنی ابراہیم نخعی کی مرسل احادیث صحیح احادیث کا درجہ رکھتی ہیں۔ (سنن کبری، ج1، ص147، حدیث نمبر:702) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ 

 

اس بارے میں عظیم محدث و فقیہ امام طحاوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

فان قالوا ما ذکرتموہ عن ابراھیم عن عبداللّٰہ غیر متصل، قیل لھم کان ابراھیم اذا ارسل عن عبداللہ لم یرسلہ الا بعد صحتہ عندہ وتوا تر الروایۃ عن عبداللّٰہ قد قالہ الاعمش اذا حدثتنی فاسند فقال اذا قلت لک قال عبداللّٰہ فلم اقل ذلک حتی حدثنیہ جماعۃ عن عبداللّٰہ واذا قلت حدثنی فلان عن عبداللّٰہ فھو الذی حدثنی۔

اگر وہ کہیں کہ جو کچھ تم نے بواسطہ ابراہیم، حضر ت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ غیر متصل ہے تو ان سے کہا جائے گا کہ حضرت ابراہیم، حضرت ابن مسعودرضی اللّٰہ عنہ سے اس وقت ارسال کرتے ہیں جب وہ روایت ان کے نزدیک صحیح ہوتی ہے اور حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ سے تواتر کے ساتھ مروی ہوتی ہے۔

حضرت اعمش نے ان سے کہا ،مجھ سے حدیث بیان کرتے وقت سند ذکر کیا کرو۔ انھوں  نے فرمایا، جب میں تم سے کہوں کہ’’ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا‘‘ تو میں یہ بات اس وقت کہتا ہوں جب حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ سے ایک جماعت مجھ سے بیان کرتی ہے ۔ جب میں کہتا ہوں، فلاں نے حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا تو یہ صرف اسی شخص سے روایت ہو گی جس نے مجھ سے بیان کیا۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص388)

Share:
keyboard_arrow_up