اس گفتگو کے ضمن میں امام طحاوی نے مندرجہ ذیل احادیث کو بھی روایت کیا ہے۔
74 ۔ حدثنا ابو بکر قال ثنا مؤمل قال ثنا سفیان عن المغیرۃ قال قلت لابرھیم حدیث وائل انّہ رای النبی ﷺ یرفع یدیہ اذا افتتح الصلوۃ واذا رکع و اذا رفع راسہ من الرکوع فقال ان کان وآئل راٰ ہ مرّۃ یفعل ذلک فقد راٰہ عبداللہ خمسین مرۃ لا یفعل ذلک ۔
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراھیم سے حدیثِ وائل بیان کی کہ انھوں نے سرکار دو عالم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز شروع کرتے وقت رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھوں کو بلند کرتے تھے۔ انھوں نے فرمایا، اگر وائل رضی اللّٰہ عنہ نے آپ کو ایک مرتبہ ایسا کرتے دیکھا ہے توحضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ نے آپ ﷺ کو پچاس مرتبہ ایسا نہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص384)
75۔ حدثنا احمد بن داؤد قال ثنا مسّدد قال ثنا خالد بن عبداللّٰہ قال ثنا حصین عن عمرو بن مرّۃ قال دخلت مسجد حضر موت فاذا علقمہ بن وائل یحدث عن ابیہ ان رسول اللّٰہ ﷺ کان یرفع یدیہ قبل الرّکوع و بعدہ فذکرت ذلک لابراھیم فغضب و قال راٰہ ھو ولم یراہ ابن مسعود ولا اصحابہ۔
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں حضر موت کی مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت علقمہ اپنے والد کی روایت بیان فرما رہے تھے کہ رسول اکرم ﷺ رکوع سے پہلے اور بعد میں ہاتھ اٹھاتے تھے۔ میں نے یہ بات حضرت ابراہیم نخعی سے ذکر کی تو وہ غضب ناک ہو گئے اور فرمایا، کیا انھوں نے دیکھا اورحضرت عبداللّٰہ بن مسعود اور دیگر صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ نے نہیں دیکھا؟۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص387)
امام محمد بن حسن نے یہی واقعہ روایت کر کے حضرت ابراہیم نخعی کا یہ ارشاد نقل کیا ہے،
76۔ ما ادری لعلہ لم یر النبی ﷺ یصلی الا ذلک الیوم نحفظ ہذا منہ ولم یحفظہ ابن مسعود واصحابہ ما سمعتہ من احد منہم انما کانوا یرفعون ایدیہم فی بدء الصلوۃ حین یکبرون۔
میرا گمان ہے کہ انہوں نے اسی دن رسول اللّٰہ ﷺ کو نماز ادا فرماتے دیکھا اور یہی انہوں نے یاد رکھا، کیا اس بات کو حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے اصحاب بھول گئے؟ کیونکہ میں نے ان میں سے کسی کے متعلق نہیں سنا کہ اس نے نماز کے دوران رفع یدین کیا ہو۔ بیشک وہ نماز کے شروع میں تکبیر اولیٰ کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ (موطا امام محمد، ج1، ص187، حدیث نمبر:107)
حضرت ابراہیم نخعی کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود اور ان کے ساتھ والے صحابہ و تابعین رضی اللّٰہ عنہ میں سے کوئی ایک بھی رفع یدین نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے آپ رفع یدین والی بات کو سن کر غضب ناک ہوئے اور آپ نے اسے رد کردیا۔
منکرین کہتے ہیں کہ حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ تو صحابی ہیں اور حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ تابعی، تو تابعی کی بات سے صحابی کے ارشاد کو کیونکر رد کیا جا سکتا ہے؟ جواب میں عرض ہے کہ حضرت ابراہیم نخعی نے اپنی بات سے صحابی کے قول کو رد نہیں کیا بلکہ ان کے مقابل حضور ﷺکے قریبی فقیہ صحابی حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے اصحاب کی احادیث کو پیش کیا اور حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ کی رفع یدین والی روایت پر جو منسوخ ہوچکی تھی، اس کی ناسخ احادیث کو ترجیح دی ۔
لہٰذا حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ اور سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کا رفع یدین والی روایات کو ترک کرنا اس بناء پر ہے کہ وہ منسوخ ہو چکیں اور ان حضرات نے آقا و مولیٰ ﷺکے آخری افعال کو اور زیادہ صحیح احادیث کو اختیار کیا ہے۔

