68۔حدثنا علی بن معبد قال ثنا عبداللّٰہ بن بکر قال ثنا حمید عن انس قال کان رسول اللّٰہ ﷺ یحب ان یلیہ المھاجرون والانصار لیحفظوا عنہ۔ قال ابو جعفر و قال لیلینی منکم اولوا الاحلام والنھیٰ۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے، سرکار دو عالم ﷺ مھاجرین و انصار کو اپنے قریب رکھنا پسند فرماتے تھے تا کہ وہ آپ سے مسائل یاد رکھیں۔ امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا ،تم میں سے عقل مند لوگ میرے قریب رہیں ۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص387)
69۔ حدثنا ابراھیم بن مرزوق قال ثنابشر بن عمر و قال ثنا شعبۃ قال اخبرنی سلیمان قال سمعت عمارۃ بن عمیر یحدث عن ابی معمر عن ابی مسعود الانصاری قال کان رسول اللّٰہ ﷺ یقول لیلینی منکم اولوا الاحلام و النہی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم۔
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اکرم ﷺ فرماتے تھے کہ تم میں سے عقل مند اور سمجھ دار لوگ میرے قریب رہا کریں پھر جو ان سے متصل ہیں اس کے بعد ان سے متصل حضرات۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص387)
ان روایات سے معلوم ہوا کہ حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ کو تو چند دن بارگاہِ نبوی میں حاضری کا موقع ملا جبکہ حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اسلام لانے والوں میں چھٹے فرد ہیں۔
حضور ﷺ کے خاص خدام اور محرمِ راز صحابہ میں سے تھے۔ سفر میں حضور ﷺ کی مسواک اور نعلین پاک انہی کے ذمہ ہوتی تھی۔ بارگاہِ رسالت میں اس قدر حاضر رہتے کہ اجنبی حضرات آپ کو حضور ﷺ کے اہل بیت میں شمار کرتے۔
70 ۔ عن ابی موسیٰ الاشعری قال قدمت انا واخی من الیمن فمکثنا حینا ما نری الا ان عبداللہ بن مسعود رجل من اہل بیت النبی ﷺ لما نری من دخولہ ودخول امہ علی النبی ﷺ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم یمن سے آئے اور ایک عرصہ تک حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کے اہل بیت میں سے ایک فرد سمجھتے رہے کیونکہ وہ اور ان کی والدہ کاشانۂ نبوت میں اس قدر زیادہ آتے جاتے تھے۔
(بخاری، ج3، ص1373، حدیث نمبر:3552)
حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ آقا و مولیٰ ﷺ کی کامل اتباع کرتے تھے۔
اس حوالے سے حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
71 ۔ ان اشبہ الناس دلا وسمتا وہدیا برسول اللہ ﷺ لابن ام عبد ۔
صحابہ کرام میں سے طریقہ، سیرت اور عادات کے لحاظ سے رسول کریم ﷺ کے ساتھ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ (بخاری، ج5، ص2262، حدیث نمبر:5746)
سرکارِ دو عالم ﷺ نے سیدنا عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی فضیلت خود اپنی زبانِ حق ترجمان سے ارشاد فرمائی۔ ایک حدیث میں ارشاد ہوا،
72۔ قال استقرؤا القرآن من اربعۃ من عبداللہ بن مسعود وسالم مولی ابی حذیفۃ وابی بن کعب ومعاذ بن جبل۔
قرآن مجید کی تعلیم چار لوگوں سے حاصل کرو۔ ان میں سب سے پہلے حضرت عبداللّٰہ بن مسعودرضی اللّٰہ عنہ کا نام لیا۔
(بخاری، ج3، ص1373، حدیث:3548،مسلم، ج4، ص1913، حدیث :2464)
73 ۔ رسول اللّٰہ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے، اُمِّ عبد کا بیٹا یعنی عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ میری امت کے لیے جو بھی پسند کرے وہ مجھے بھی پسند ہے اور وہ جس کو نا پسند کرے وہ مجھے بھی نا پسند ہے۔
(کنز العمال، جزء13، ص466، حدیث نمبر:37213)
انہی امتیازی اوصاف کی بناء پر امام طحاوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
فعبد اللّٰہ من اولٰئک الذین کانوا یقربون من النبی ﷺ لیعلموا افعالہ فی الصلوٰۃ کیف ھی لیعلموا الناس ذلک فما حکوا من ذلک فھو اولیٰ مما جآء بہ من کان ابعد منہ منھم فی الصلوٰۃ ۔
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جو نبی کریم ﷺ کے قریب رہتے تھے تا کہ وہ نماز میں آپ کے افعال کو دیکھ سکیں کہ ان کی کیا کیفیت ہے اور وہ لوگوں کو اس کی تعلیم دیں، لہٰذا ان (حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ) کا فیصلہ دور رہنے والے حضرات (حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ )کے فیصلہ سے زیادہ بہتر ہے ۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص387)

