Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 36 of 107

حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ کی احادیث:

حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ ۹ھ میں مسلمان ہوئے تھے اس وقت آپ نے نبی کریم کو رفع کرتے دیکھا تھا۔ غیر مقلدین کہتے ہیں،’’آپ سردیوں میں اگلے سال ۱۰ھ میں دوبارہ آئے تھے اور اس سال بھی آپ نے رفع الیدین ہی کا مشاہدہ فرمایا۔ سنن ابی داؤد،و اسنادہ صحیح۔‘‘
(نورالعینین، زبیر علی زئی، ص103)

حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ کی دوسری بار موسم سرما میں بارگاہِ نبوی میں حاضری کا ذکر سنن ابوداؤد میں تین احادیث میں ہے جن میں سے کسی میں بھی نماز میں رکوع کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں ہے۔

ایک روایت میں ہے،

64۔ ثم جئت بعد ذلک فی زمان فیہ برد شدید فرایٔت الناس علیہم جل الثیاب تحرک ایدیہم تحت الثیاب۔  

اس کے عرصہ بعد میں سخت سردی کے دنوں میں حاضر ہوا تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے اوپر (گرم) کپڑے ہوتے اور وہ کپڑوں کے اندر اپنے ہاتھوں کو حرکت دیا کرتے۔
(سنن ابی داؤد، ج2، ص387، حدیث نمبر:624)

 

دوسری روایت میں بھی حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ نے موسم سرما میں بارگاہِ نبوی میں حاضری کا ذکر کیا ہے لیکن اس میں بھی رکوع کے وقت رفع یدین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

 

65۔ عن وائل بن حجر قال اتیت النبی ﷺ فی الشتاء فرایت اصحابہ یرفعون ایدیہم فی ثیابہم فی الصلوۃ۔

حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، میں موسمِ سرما میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے صحابہ کو دیکھا کہ وہ نماز میں کپڑوں کے اندر ہاتھ اٹھاتے تھے۔
(سنن ابی داؤد، ج2، ص387، حدیث نمبر:626)

 

غیر مقلد کپڑوں میں ہاتھوں کی حرکت سے رکوع کے وقت رفع یدین مراد لیتے ہیں جبکہ ہم کہتے ہیں کہ ان احادیث میں پہلی تکبیر کے وقت ہاتھوں کو حرکت دینے کا ذکر ہے۔

اسی باب کی تیسری حدیث ملاحظہ کیجیے جس میں واضح طور پر مذکور ہے کہ صحابہ کرام کا موسمِ سرما میں کپڑوں کے اندر ہاتھوں کو حرکت دینا صرف تکبیرِ اولیٰ کے وقت تھا۔ یعنی اس وقت رکوع کا رفع یدین منسوخ ہو چکا تھا۔

 

66۔ حدثنا عثمان ابن ابی شیبۃ نا شریک عن عاصم ابن کلیب عن ابیہ عن وائل بن حجر قال رأیت النبی ﷺ حین افتتح الصلوۃ رفع یدیہ حیال اذنیہ قال ثم اتیتہم فرایتہم یرفعون ایدیہم الی صدورہم فی افتتاح الصلوۃ وعلیہم برانس واکسیۃ ۔

حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم کو دیکھا کہ جب نماز شروع فرماتے تو کانوں کی لو تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ انہوں نے فرمایا، پھر میں خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ سینوں تک اٹھاتے اور ان کے اوپر(سردی کی وجہ سے) جبے اور کمبل وغیرہ ہوتے۔ (سنن ابی داؤد، ج2، ص387، حدیث نمبر:625)

 

اس حدیث پاک میں کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے اور صرف نماز کے آغاز ہی میں رفع یدین کرنے کا ذکر ہے۔ یہ دونوں باتیں احناف کے مسلک کی تائید کر رہی ہیں ۔ الحمدللّٰہ حمداً کثیراً

 

اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ دوسری بار جب آپ بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے اس وقت تکبیر اولیٰ کے سوا نماز میں رفع یدین منسوخ ہو چکا تھا۔ نیز کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کی وجہ یہ تھی کہ ان پر جبے اور کمبل وغیرہ ہوتے تھے۔

 

امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ کی رفع یدین کرنے سے متعلق روایات کے بارے میں رقمطراز ہیں،

67۔ واما حدیث وائل فقد ضاد ابرھیم بما ذکرنا عن عبداللّٰہ انہ لم یکن رای النبی ﷺ فعل ما ذکر فعبد اللّٰہ اقدم صحبۃ لرسول اللّٰہ ﷺ وافھم بافعالہ من وآئل قد کان رسول اللّٰہ ﷺ یحب ان یلیہ المھاجرون لیحفظوا عنہ۔

جہاں تک حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ  کی روایات کا تعلق ہے تو حضرت ابراھیم رضی اللّٰہ عنہ اس کے خلاف ہیں۔ انھوں نے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کیا کہ انھوں نے نبی کریم ﷺکو مذکورہ عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔چونکہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کو رسول اکرم سے قدیم صحبت حاصل ہے اور وہ حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ کی نسبت آپ کے افعال کو زیادہ سمجھتے ہیں اور نبی کریم مہاجرین کو اپنے قریب کرنا پسند فرماتے تھے تا کہ وہ آپ سے مسائل یاد رکھیں۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص387)

(اس لیے حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث کو حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ کی روایت پر ترجیح حاصل ہے۔)

Share:
keyboard_arrow_up