پس واضح ہوگیا کہ ابراہیم بن بشار کی وجہ سے رکوع کے وقت رفع یدین والی روایت ناقابلِ اعتماد ہے۔ اس طرح احادیث کا تعارض بھی دور ہوگیا اور امام بیہقی رحمہ اللّٰہ کا اعتراض بھی ساقط ہو گیا۔
61۔ امام بیہقی نے ’’خلافیات‘‘ میں یزید بن ابی زیاد سے مذکورہ حدیث یونس بن ابی اسحاق کے واسطے سے بیان کی ہے۔
امام ابوداؤد نے حدیثِ براء رضی اللّٰہ عنہ کو عیسیٰ اور حکم کے طریق سے بھی تخریج کیا ہے۔
62۔ حدثنا حسین بن عبدالرحمن انا وکیع عن ابن ابی لیلی عن اخیہ عیسیٰ و الحکم عن عبدالرحمن ابن ابی لیلیٰ عن البراء بن عازب قال رایت رسول اللّٰہ ﷺ رفع یدیہ حین افتتح الصلوۃ ثم لم یرفعہما حتی انصرف۔
حضرت عبدالرحمن بن ابو لیلیٰ سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللّٰہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھائے اور فارغ ہونے تک پھر نہیں اٹھائے۔
(سنن ابی داؤد، ج2، ص402، حدیث نمبر:641)
(سنن ابوداؤد میں مذکورہ حدیث میں کاتب کے سہو سے عیسیٰ والحکم کی بجائے عیسیٰ عن الحکم لکھا گیا جبکہ دیگر کتبِ احادیث مصنف ابن ابی شیبہ، مسند ابو یعلی، شرح معانی الآثار وغیرہ میں یہ سند عیسیٰ والحکم مذکور ہے۔ مذکورہ کتب سے یہ احادیث ہم نے مع اسناد اوپر نقل کر دی ہیں) الحمد للّٰہ!
دو ثقہ متابع عیسیٰ اور حکم کے ذریعے یزید بن ابی زیاد کی عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت کی تائید و توثیق ہوگئی۔ اس سند پر غیر مقلدین کو اعتراض ہے کہ اس میں محمد بن ابی لیلیٰ ضعیف ہے۔
اس بارے میں جرح و تعدیل کے امام علامہ ذہبی کاقول ملاحظہ کیجیے۔وہ رقمطراز ہیں،
قلت حدیثہ فی وزن الحسن۔
’’میں کہتا ہوں کہ محمد بن ابی لیلیٰ کی حدیث درجہ حسن کے برابر ہے‘‘۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج1، ص129)
امام ذہبی کے اس فیصلے سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث حسن کے درجے میں ہے۔ اسی لیے امام ابو داؤد نے اس حدیث کے متعلق فرمایا،
یہ حدیث صحیح نہیں ہے یعنی درجہ حسن کی حدیث ہے کیونکہ صحت کی نفی سے درجہ حسن کی نفی نہیں ہوتی۔ پس ان دلائل سے ثابت ہو گیا کہ حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث صحیح درجہ کی ہے جو کہ ترکِ رفع یدین کی صریح دلیل ہے اور اس کی متابع مذکورہ حدیث درجہ حسن کی ہے۔
اگر کوئی پھر بھی نہ مانے تو ہم اس حدیث کی وہ سند پیش کیے دیتے ہیں جس میں نہ تو یزید بن ابی زیاد ہے اور نہ ہی محمد بن ابی لیلیٰ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ ۔
یہ روایت سراج الامۃ امام الاعظم رضی اللّٰہ عنہ کی مسند سے امام ابو نعیم اصبہانی نے بیان کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں،
63۔ حدثنا ابوالقاسم بن بالویہ النیسابوری، ثنا بکر بن محمد بن عبداللّٰہ الحبال الرازی، ثنا علی، ثنا علی بن محمد بن روح ابن ابی الحرش المصیصی، سمعت ابی یحدث عن ابیہ روح ابن ابی الحرش، سمعت اباحنیفۃ، یقول الشعبی یقول، سمعت البراء بن عازب، یقول کان رسول اللّٰہ ﷺ اذا افتتح الصلوۃ رفع یدیہ حتی یحاذی منکبیہ لا یعود یرفعہما حتی یسلم من صلاتہ۔
امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے فرمایا، میں نے براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول کریم ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے، پھر سلام پھیرنے تک پوری نماز میں رفع یدین نہیں کرتے۔
(مسند ابی حنیفہ، ج1، ص331، حدیث نمبر:206)
حضرت براء رضی اللّٰہ عنہ سے اس صحیح حدیث کو روایت کرنے والے امام شعبی رضی اللّٰہ عنہ وہ عالی مرتبت تابعی ہیں جنہیں پانچ سو صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہے اور آپ نے دو سال حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں رہ کر علمِ دین حاصل کیا ہے ۔ الحمدللّٰہ! اکابر محدثین رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کی روایت کردہ 17 اسناد سے حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث کا صحیح و قوی ہونا روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگیا۔
رب تعالیٰ منکرین کو ضد و تعصب چھوڑ کر حق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

