امام دارقطنی کے علاوہ امام احمد بن حنبل رحمہم اللّٰہ نے بھی اس حدیث کی تخریج کی ہے۔
55۔ حدثنا احمد بن علی بن العلاء ثنا ابو الاشعث ثنا محمد بن بکر ثنا شعبۃ عن یزید بن ابی زیاد قال سمعت ابن ابی لیلیٰ یقول سمعت البراء فی ھذا المجلس یحدث قوما منہم کعب بن عجرۃ قال رأیت رسول اللّٰہ ﷺ حین افتتح الصلوۃ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ: میں نے حضرت براء رضی اللّٰہ عنہ کو اس مجلس میں فرماتے سنا جس میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللّٰہ عنہ بھی موجود تھے۔ آپ نے فرمایا، میں نے رسول اللّٰہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے۔
(سنن دارقطنی، ج3، ص251، حدیث نمبر:1137، ومسند احمد، ج4، ص282، حدیث نمبر:18510)
امام بخاری اور امام مسلم کے استاد امام ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہم اللّٰہ نے بھی حدیثِ براء رضی اللّٰہ عنہ کو تخریج کیا ہے۔
56۔ حدثناابوبکر قال نا وکیع عن ابن ابی لیلی عن الحکم و عیسیٰ عن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ عن البراء بن عازب ان النبی ﷺ کان اذا افتتح الصلوۃ رفع یدیہ ثم لا یرفعہما حتی یفرغ۔
حضرت براء رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے پھر نماز سے فارغ ہونے تک آپ دوبارہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2455)
جلیل القدر محدث امام طحاوی رحمہ اللّٰہ نے بھی حدیث براء رضی اللّٰہ عنہ کو تخریج کیا ہے۔ تین احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
57۔حدثنا ابوبکرۃ قال ثنا مؤمل قال ثنا سفیان قال ثنا یزید بن ابی زیاد عن ابن ابی لیلیٰ عن البر آء بن عازب قال کان النبی ﷺ اذا کبرّ لافتتاح الصلوٰۃ رفع یدیہ حتیٰ یکون ابھاما ہ قریبا من شحمتی اذنیہ ثم لا یعود ۔
حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ نبی کریم ﷺ جب نماز شروع کرنے کے لئے تکبیر کہتے تو ہاتھوں کو اٹھاتے حتیٰ کہ آپ کے انگوٹھے کانوں کی لَو کے برابر ہوتے پھر دوبارہ ہاتھ نہ اٹھاتے ‘‘۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص384)
58۔ حدثنا ابن ابی داؤد قال ثناعمرو ابن عوان قال انا خالد عن ابن ابی لیلیٰ عن عیسیٰ بن عبدالرحمن عن ابیہ عن البراءِ ابن عازب عن النبی ﷺ مثلہٗ۔
حضرت عیسیٰ بن عبدالرحمن اپنے والد سے وہ حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں ۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص384)
59۔حدثنامحمد بن النعمان قال ثنایحییٰ بن یحییٰ قال ثنا وکیع عن ابن ابی لیلیٰ عن اخیہ و عن الحکم عن ابن ابی لیلیٰ عن البرآء عن النبی ﷺ مثلہٗ۔
حضرت ابن ابی لیلیٰ ، حضرت براء رضی اللّٰہ عنہ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص384)
امام بیہقی رحمہ اللّٰہ نے ثم لایعود والا اعتراض اس لیے کیا تھا کہ انہوں نے یزید بن ابی زیاد رحمہ اللّٰہ سے ایک اور حدیث روایت کی ہے جس میں مذکور ہے۔
60۔ حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے۔
(سنن کبری،للبیہقی، ج2، ص76، حدیث نمبر:2630)
امام بیہقی کا مطلب یہ تھا کہ یزید کی یہ حدیث متعارض ہے۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ رکوع کے وقت رفع یدین کرتے تھے اور کبھی کہتے ہیں، نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا ثم لایعود والی حدیث قابلِ اعتماد نہیں۔ اس کے جواب میں امام ابن عدی (م۳۶۵ھ) رحمہ اللّٰہ کی ”الکامل فی ضعفاء الرجال“ کی عبارت ملاحظہ ہو، ورواہ ہیشم وشریک وجماعۃ معہما عن یزید باسنادہ وقالوا فیہ ’’ثم لم یعد‘‘۔ یعنی ہیشم، شریک اور ان کے ساتھ ایک جماعت نے یزید بن ابی زیاد سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور سب نے اس میں ثُم لم یعد کا جملہ روایت کیا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس حدیث میں ثم لم یعد بعد کا اضافہ نہیں ہے۔
(الکامل،ج 7، ص276، و عمدۃ القاری، ج9، ص6)
در اصل امام بیہقی نے رکوع کے وقت رفع یدین والی جو حدیث روایت کی ہے وہی نا قابلِ اعتبار ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار ہے جو امام ذہبی کے بقول حدیث کے الفاظ میں ردوبدل کرتا اور حدیث میں اپنی طرف سے الفاظ شامل کر دیتا۔
یحییٰ بن معین نے کہا، وہ کچھ نہیں۔امام نسائی نے کہا، قوی نہیں۔ (تہذیب التہذیب، ابن حجر، ج1، ص94)

