Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 100 of 107
اگر چاہتے ہو کہ دو کے ساتھ تین اور ملا کر طاق رکعات بن جائیں تو ایسا کر لو ۔ اب دو کے بعد تین وتر پڑھنے سے پانچ رکعات طاق ہو جائیں گی۔ اور اگر چاہتے ہو تو دو رکعت کے بعد دو اور پڑھ لو، اس طرح پہلی دو رکعت پانچ اور کے ساتھ مل کر سات رکعات طاق بن جائیں گی ۔
غیر مقلدین والا معنی کیوں درست نہیں ؟ وجہ یہ ہے کہ جو معنی غیر مقلدین نے کیا ہے کہ چاہو تو ایک رکعت وتر ادا کر لو ، اسے درست ماننے سے نبی کریم ا کی دوسری صحیح احادیث کو چھوڑنا لازم آئے گا ۔
246۔قال محمد اخبرنا یعقوب بن ابراہیم حدثنا حصین بن ابراہیم عن ابن مسعود قال ما اجزأت رکعۃ واحدۃ قط ۔
حضرت عبداﷲ بن مسعود ص فرماتے ہیں ایک رکعت کا ادا کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ۔ ()
247 ۔عن زرارۃ بن ابی اوفی عن سعید بن ہشام عن عائشۃ ان رسول اﷲ ﷺ کان لا یسلم فی رکعتی الوتر ۔
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں بے شک رسول اﷲ ا وتر کی دو رکعت پر سلام نہیں پھیرتے تھے ۔ ()
ان احادیث سے واضح ہوا کہ نبی کریم ا نے دو رکعت علیحدہ پڑھی ہوں اور ایک رکعت علیحدہ ،ایسا کبھی نہیں کیا ۔
248 ۔عن ابی سعید الخدری ان رسول اﷲ ﷺ نہی عن البتیرا ء۔
حضرت ابو سعید خدری صسے مروی ہے بے شک رسول اﷲ ا نے ایک رکعت پڑھنے سے منع فرمایا ۔ ()
تنبیہ : جو بھی اس قسم کی روایات ہیں جن سے بظاہر یہ سمجھ آرہا ہو کہ وتر ایک رکعت ہے، اس کا یہی مطلب ہوگا کہ دورکعت کو ایک رکعت اور ملا کر طاق بنا دیا ۔
249 ۔ابن ماجہ کی حدیث ’’ صلوۃ اللیل مثنی مثنی والوتر رکعۃ قبل الصبح ‘‘ کا بھی یہی مطلب ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور دو کے ساتھ ایک اور ملا کر صبح سے پہلے وترادا کئے جائیں ۔
250۔اسی طرح مسلم شریف کی حدیث ’’ الوتر رکعۃ من آخر اللیل ‘‘ کا بھی یہی مطلب ہے کہ رات کے آخر میں دو رکعت سے ایک رکعت ملائیں تو تین رکعت وتر ہو جائیں گے ۔ ()
7 ۔بیس رکعت تراویح :
ماہ رمضان المبارک میں روزانہ بعد عشاء بیس رکعت نماز تراویح ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ ’’تراویح‘‘ ترویحہ کی جمع ہے جس کے معنی استراحت وآرام کے ہیں۔ چونکہ تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد کچھ دیر آرام کیا جاتا ہے اس لیے اسے تراویح کہتے ہیں۔ عربی میں جمع کا اطلاق دو سے زائد پر ہوتا ہے۔ نماز تراویح اگر آٹھ رکعت ہوتی تو دو ترویحے ہونے کے باعث اسے ’’ترویحتین‘‘ کہا جاتا لیکن چونکہ یہ بیس رکعت یعنی پانچ ترویحے ہیں اس لئے انہیں تراویح کہا جاتا ہے۔جن روایات میں یہ آیا ہے کہ حضور ا نے گیارہ رکعت نماز ادا کی، اس سے مراد آٹھ رکعت تہجد اور تین وتر ہیں۔
251۔بخاری باب فضل من قام رمضان ، مسلم باب الترغیب فی قیام رمضان کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ا نے تین راتیں تراویح کی جماعت کرائی ، پھر امت پر شفقت فرماتے ہوئے تراویح کی جماعت نہیں کرائی تا کہ امت پر تراویح کو فرض نہ کر دیا جائے ۔ اس لئے تراویح کو جماعت سے ادا کرنا رسول اﷲا کی سنت ہے ۔
252 ۔نبی کریم ا کی ظاہری حیات ہی میں صحابہ کرام بعض جگہوں پر حافظ قرآن کے پیچھے جماعت سے تراویح پڑھا کرتے۔ آپ انے انہیں جماعت سے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو منع نہیں کیا بلکہ پسند فرمایا اور ان کی تعریف کی ۔ ()
حضرت عمر صنے تراویح کی جماعت کو باقاعدگی سے جاری فرمایا۔
253 ۔عن عبدالرحمن بن عبدالقاری انہ قال خرجت مع عمر بن الخطاب لیلۃ فی رمضان الی المسجد فاذا الناس اوزاع متفرقون یصلی الرجل لنفسہ ویصلی الرجل فیصلی بصلوتہ الرہط فقال عمر انی ارای لو جمعت ہؤلاء علی قارئ واحد لکان امثل ثم عزم فجمعہم علی ابی بن کعب ثم خرجت معہ لیلۃ اخری والناس یصلون بصلوۃ قارئہم قال عمر نعم البدعۃ ہذہ ۔
Share:
keyboard_arrow_up