Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 101 of 107
عبدالرحمٰن بن عبد القاری صسے روایت ہے کہ میں رمضان کی ایک رات حضرت عمر بن خطاب ص کے ساتھ مسجد تک گیا ، وہاں لوگ مختلف حصوں میں متفرق تھے ، کئی لوگ تنہا نماز ادا کر رہے تھے اور کچھ لوگ کسی شخص کی امامت میں نمازِ تراویح پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر ص نے فرمایا، بے شک میری رائے یہ ہے ان کو ایک قاری کی امامت میں جمع کر دیا جائے تو بہت بہتر ہوگا ۔ پھر آپ نے پختہ ارادہ فرما لیا اور آپ نے حضرت ابی ابن کعبص کو ان سب کا امام مقرر کر دیا۔ پھر آپ دوسری رات تشریف لائے تو دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی قاری کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا ، یہ نئی چیز بہت ہی اچھی ہے ۔ ()
254۔عن یزید بن رومان انہ قال کان الناس یقومون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان بثلاث و عشرین رکعۃ ۔
حضرت یزید بن رومان ص فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق صکے دور میں رمضان میں لوگ تیئس(۲۳) رکعت (۲۰ تراویح اور ۳ وتر)ادا کرتے تھے۔()
اس سے واضح ہوا کہ حضرت عمرصکے زمانہ میں تراویح بیس رکعت تھیں اور وتر تین رکعت تھے۔واسنادہ مرسل قوی ۔اس حدیث کی سند مرسل قوی ہے ۔
255۔عن السائب بن یزید قال کانوا یقومون علی عہد عمر بن الخطاب فی شہر رمضان بعشرین رکعۃ۔
حضرت سائب بن یزیدص فرماتے ہیں ، ہم لوگ حضرت عمرص کے زمانہ میں ماہ رمضان میں بیس رکعت تراویح ادا کرتے تھے۔اس کی اسناد صحیح ہیں۔()
256 ۔ان عمر بن الخطاب امر رجلا یصلی بہم عشرین رکعۃ ۔
یحییٰ بن سعیدص کہتے ہیں کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب ص نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس تراویح پڑھایا کریں ۔ ()
اس حدیث پاک سے واضح ہوا کہ حضرت عمر ص نے بیس رکعت ہی کو لازم قرار دیا ۔ اسنادہ مرسل قوی۔اس حدیث کی سند مرسل قوی ہے ۔
اہل مدینہ بھی بیس رکعت تراویح اور تین وترپڑھتے تھے۔
257 ۔عن عبدالعزیز بن رفیع قال کان ابی بن کعب یصلی بالناس فی رمضان بالمدینۃ عشرین رکعۃ ویوتر بثلاث ۔
عبدالعزیز بن رُفیع ص سے مروی ہے کہ حضرت ابی ابن کعب ص رمضان شریف میں لوگوں کو مدینہ طیبہ میں بیس رکعت (تراویح) اور تین وترپڑھاتے تھے۔ ()
258۔عن ابن عباس ان رسول اﷲ ﷺ کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ والوتر۔
حضرت عبداللہ بن عباس صنے فرمایا، رسول معظم ا ماہ رمضان میں (بغیر جماعت کے) بیس رکعت تراویح اور نماز وتر ادا فرماتے تھے۔()
259 ۔عن الحسن ان عمر بن الخطاب جمع الناس علی ابی ابن کعب فکان یصلی لہم عشرین رکعۃ۔
حضرت حسن ص فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ص نے حضرت ابی بن کعب ص کو لوگوں کا امام مقرر کیا اور وہ بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔()
260 ۔واکثر اہل العلم علی ما روی عن علی وعمر وغیرہما من اصحاب النبی ﷺ عشرین رکعۃ وہذا قول سفیان الثوری وابن المبارک والشافعی وہکذا ادرکت ببلدنا بمکۃ یصلون عشرین رکعۃ۔
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،اکثر اہل علم کا مذہب بیس رکعت تراویح ہے جو حضرت علیص، حضرت عمرص اورنبی کریم ا کے دیگر صحابہ ث سے مروی ہے۔سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک، امام شافعی(اور امام ابوحنیفہ) ث اسی کے قائل ہیں۔
امام شافعی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر مکہ والوں کو اسی طرح بیس رکعت پڑھتے ہوئے پایا ہے۔()
اجمع الصحابۃ علی ان التراویح عشرون رکعۃ ۔
محدث علی قاری رحمہ اﷲ نے فرمایا کہ تراویح کی بیس رکعات پر صحابہ کرام کا اجماع ہے ۔ ()
علامہ قسطلانی رحمہ اﷲ نے بھی فرمایا ، وقد عدوا ما وقع فی زمن عمر ص کالاجماع۔
دورِ حضرت عمرص میں بیس تراویح پر عمل اجماع کی طرح ہے ۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up