Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 102 of 107
ائمہ اربعہ یعنی امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمدبن حنبل ث کا اس پر اتفاق ہے کہ تراویح کی کم از کم بیس رکعات ہیں۔دورِ نبوی سے آج تک مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ میں بھی بیس رکعت تراویح ادا کی جاتی ہیں۔
8۔نمازِ جنازہ:
غیرمقلدکہتے ہیں،پہلی تکبیر کے بعد فاتحہ پڑھیں ۔امام آواز سے پڑھے اور مقتدی آہستہ۔()
جنازہ میں تکبیر چار ، پانچ ، چھ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ ()
جبکہ احناف کے نزدیک نماز جنازہ دعا ہے اس لیے اس میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا بطور قرأت جائز نہیں ۔ نماز جنازہ آہستہ آواز میں پڑھی جائے، خواہ امام ہو یا مقتدی۔ نماز جنازہ میں تکبیریں صرف چار ہیں ۔
261 ۔عن ابی ہریرۃ ان النبی ﷺ صلی علی النجاشی فکبر اربعا وفی الباب عن ابن عباس وابن ابی اوفی وجابر وانس ویزید ابن ثابت قال ابوعیسی حدیث ابی ہریرۃ ہذا حدیث حسن صحیح والعمل علی ہذا عند اکثر من اہل العلم من اصحاب النبی ﷺ وغیرہم یرون التکبیر علی الجنازۃ اربع تکبیرات وہو قول سفیان الثوری ومالک بن انس وابن المبارک والشافعی واحمد واسحق ۔
حضرت ابوہریرہ ص فرماتے ہیں، بے شک نبی کریم ا نے نجاشی کا جنازہ پڑھایا ، چار تکبیریں کہیں ۔ چار تکبیروں کی روایات حضرت ابن عباس ، ابن ابی اوفی ، جابر ، انس ، یزید ابن ثابتثسے بھی مروی ہیں۔ امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ ص کی حدیث حسن صحیح ہے۔اکثر صحابہ کرام اور اہلِ علم کا اس پر عمل ہے۔ ان سب کے نزدیک جنازہ کی چار تکبیرات ہیں۔ سفیان ثوری، امام مالک، ابن مبارک، امام شافعی، امام احمد،اسحاق (اور امام ابوحنیفہ) رحمہم اللہ تعالیٰ کا یہی مسلک ہے۔()
262۔عن ابی ہریرۃ قال ان النبی ﷺ نعی للناس النجاشی الیوم الذی مات فیہ وخرج بہم الی المصلی فصف بہم وکبر اربع تکبیرات۔
حضرت ابوہریرہ صنے فرمایا، بے شک نبی کریم ا نے حضرت نجاشی کے وصال کے دن لوگوں کو اطلاع دی اور صحابہ کے ساتھ جنازگاہ تشریف لا کر صف بنوائی اور نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں ۔ ()
شارح بخاری امام عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
والجواب عن الاحادیث التی فیہا التکبیر علی الجنازۃ باکثر من اربع انہا منسوخۃ۔ وہ احادیث جن میں چار تکبیروں سے زیادہ تکبیروں کا ذکر ہے وہ تمام منسوخ ہیں ۔ ()
نماز جنازہ کا طریقہ جلیل القدر تابعی امام شعبی صنے جنہوں نے 500 صحابہ کی زیارت کی ہے، یوں بیان کیا ہے،
263 ۔عن الشعبی قال فی التکبیرۃ الاولی یبدأ بحمد اﷲ والثناء علیہ والثانیۃ صلوۃ علی النبی ﷺ والثالثۃ دعاء للمیت والرابعۃ للتسلیم ۔
امام شعبی صکہتے ہیں کہ پہلی تکبیر کے بعد ابتداء اﷲتعالیٰ کی حمدوثنا سے کرے۔ دوسری تکبیر کے بعد نبی کریم اپر درود شریف پڑھے اور تیسری تکبیر کے بعد میت کے لئے دعا کرے اور چوتھی کے بعد سلام پھیرے ۔ ()
نمازِجنازہ میں نماز والی بعض شرائط پائی جاتی ہیں مثلاًباوضو ہونا، ستر عورت، قبلہ کی طرف منہ ہونا وغیرہ۔ لیکن یہ مکمل نماز نہیں کیونکہ اس میں رکوع نہیں، سجدہ نہیں ، قعدہ نہیں ، اسی طرح اس میں قرأت بھی نہیں۔ اگر بطورِ ثناء سورۃ فاتحہ پڑھے تو جائز ہے مگر بطور قرأت جائز نہیں۔بعض احادیث ملاحظہ فرمائیں جن میں قرأت نہ ہونے کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
264۔انہ سأل اباہریرہ ص کیف تصلی علی الجنازۃ فقال ابوہریرۃ ص انا لعمراﷲ اخبرک اتبعہا من اہلہا فاذا وضعت کبرت وحمدت اﷲ وصلیت علی نبیہ ثم اقول اللہم.... الخ۔ ()
حضرت ابوہریرہ صسے سوال کیا گیا ،آپ نماز جنازہ کیسے پڑھتے ہیں؟ تو حضرت ابوہریرہ ص نے فرمایا، اﷲتعالیٰ کی قسم میں تمہیں بتاتا ہوں۔ میں جنازہ والے گھر سے ہی اس کے ساتھ چلتا ہوں ، جب جنازہ رکھ دیا جاتا ہے تو تکبیر کہتا ہوں اور اﷲتعالیٰ کی حمد پڑھتا ہوں اور(دوسری تکبیر کے بعد) نبی کریم ا پر درود پڑھتا ہوں ، پھر (تیسری تکبیر کے بعد) دعا کرتا ہوں، اللہم … الخ ۔
Share:
keyboard_arrow_up