265 ۔اسی حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام محمد رحمہ اﷲ نے فرمایا :
وبہذا ناخذ لاقراء ۃ علی الجنازۃ وہو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالیٰ۔
ہم اسی پر عمل کرتے ہیں کہ نمازِ جنازہ میں قراء ت ( فاتحہ کا پڑھنا یا کسی اور سورۃ کا پڑھنا) ثابت نہیں اور یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ کا ہے۔()
266 ۔عن نافع ان عبداﷲ بن عمر کان لا یقرأ فی الصلوۃ علی الجنازۃ۔
حضرت نافع ص فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲعنہما نماز جنازہ میں قرأت نہیں کرتے تھے ۔ ()
267 ۔عن نافع ان ابن عمر کان لا یقرأ فی الصلوۃ علی المیت۔
حضرت نافعص کہتے ہیں، بے شک ابن عمر رضی اﷲ عنہما نماز جنازہ میں قرأت نہیں کرتے تھے۔ ()
قرأت نہ کرنے میں سورۃ فاتحہ بھی داخل ہے اور دوسری سورتیں بھی۔ بعض غیرمقلد دھوکا دیتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ قرأت نہیں ہے۔حضرت انسص فرماتے ہیں،
268۔کان رسول اللہ ﷺ وابوبکر وعمر وعثمان یفتتحون القرأۃ بالحمد للہ رب العلمین۔ قال ابوعیسیٰ ہذا حدیث حسن صحیح۔
رسول کریم ا، سیدنا ابوبکر وعمر وعثمان ثالحمدللہ رب العالمین سے قرأت شروع فرمایا کرتے تھے۔امام ترمذی نے فرمایا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ()
اس حدیث سے ثابت ہو گیا کہ سورۃ فاتحہ قرأت ہے اور جنازہ میں قرأت ناجائز ہے۔
بعض اہل العلم لا یقرء فی الصلوۃ علی الجنازۃ انما ہو الثناء علی اللہ والصلوۃ علی نبیہ ﷺ والدعاء للمیت وہو قول الثوری وغیرہ من اہل الکوفۃ۔
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،بعض اہلِ علم نے فرمایا ہے کہ نمازِ جنازہ میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے کیونکہ نماز جنازہ تو اللہ تعالیٰ کی ثناء کرنا، نبی کریم اپر درودبھیجنا اور میت کے لیے دعاکرنا ہے۔ ()
269۔حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ رسولِ اکرم انماز جنازہ میں یہ دعا پڑھتے تھے۔()
اللہم اغفر لحینا ومیتنا وشاہدنا وغائبنا وصغیرنا وکبیرنا وذکرنا وانثانا۔ اللہم من احییتہٗ منا فاحیہ علی الاسلام ومن توفیتہٗ منا فتوفہٗ علی الایمان۔
نمازجنازہ کے بعد دعا:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے، فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ۔ ()
’’تو جب تم نماز سے فارغ ہو جاؤ تو دعا میں محنت کرو‘‘۔ (کنز الایمان)
وقال ابن عباس وقتادۃ والضحاک والکلبی اذا فرغت من الصلوۃ المکتوبۃ او مطلق الصلوۃ فانصب الی ربک فی الدعاء۔ ()
حضرت ابن عباس ص اور حضرات قتادہ، ضحاک وکلبی رحمہم اللہ نے فرمایا، جب تم فرض نماز یا مطلق نماز سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے رب سے دعا مانگنے میں محنت کرو۔
وقال علی بن ابی طلحۃ عن ابن عباس فاذا فرغت فانصب یعنی فی الدعاء۔
علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس صسے روایت کیا ہے کہ جب تم نماز سے فارغ ہو جاؤ تو دعا مانگنے میں کوشش کرو۔ ()
پس نمازِ جنازہ کے بعد دعا مانگنا مذکورہ آیت کے حکم کی تعمیل ہے۔
270 ۔عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اﷲ ﷺ اذا صلیتم علی المیت فاخلصوا لہ الدعاء ۔حضرت ابوہریرہ صنے کہا کہ رسول اﷲ ا نے فرمایا، جب تم میت پر نماز جنازہ پڑھ چکو تو اس کے لئے خلوص سے دعا کرو ۔ ()
یہ حدیث صحیح ہے۔ اس حدیث پاک کی صحت میں کوئی شک نہیں۔ اس لئے محدث علی قاری رحمہ اﷲ نے فرمایا، قال ابن حجرو صححہ ابن حبان ۔ابن حجر رحمہ اﷲ نے فرمایا کہ اس حدیث کو ابن حبان رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ ()
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد نماز جنازہ کے دوران یا بعد میں کسی وقت دعا کرنا ہے۔ یہ صحیح نہیں۔ اہلِ علم جانتے ہیں کہ فاخلصوا کی ’فا‘ تعقیب کے لیے ہے۔یعنی ’فا‘ سے قبل اور بعد کے افعال میں وقفہ نہیں ہوگا، وہ متصل ہوں گے۔
Page 103 of 107

