مثلاً قرآن مجید میں ہے، فاذا طعمتم فانتشروا۔ پھر جب تم کھانا کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ یعنی بلاوجہ میزبان کے گھر نہ بیٹھے رہو۔ مذکورہ حدیث میں بھیصلیتم ماضی ہے اور فاخلصوا حکم ہے ۔ یعنی یہ حکم نماز کے دوران دعا کا نہیں بلکہ نماز ختم ہو جانے کے فوراً بعد کا ہے۔ اب اس حدیث پاک کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ جب تم میت پر نماز پڑھ چکو ، توبغیر کسی تاخیر کے اُس کے لیے خلوص سے دعا کرو۔
امام اعظم ابوحنیفہ ص کا ادب:
سیدنا امام اعظم کا ادب نزولِ برکات کا ذریعہ اور اُن کی بے ادبی دونوں جہان میں نقصان اور برے خاتمے کا باعث ہے۔مشہور غیرمقلد مولوی محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی وارداتِ قلبی کا حال انہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں۔ وہ لکھتے ہیں،
’’ہرچند کہ میں گناہگار ہوں لیکن یہ ایمان رکھتا ہوں اور اپنے صالح اساتذہ جناب مولانا ابوعبداللہ غلام حسن صاحب مرحوم سیالکوٹی اور جناب مولانا حافظ عبدالمنان صاحب مرحوم محدث وزیرآبادی کی صحبت وتلقین سے یہ بات یقین کے رتبے تک پہنچ چکی ہے کہ بزرگانِ دین خصوصاً حضرات ائمہ متبوعین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین سے حسنِ عقیدت نزولِ برکات کا ذریعہ ہے۔ اس لیے بعض اوقات خدا تعالیٰ اپنے فضلِ عمیم سے کوئی فیض اس ذرۂ بے مقدار پر نازل کر دیتا ہے۔ اس مقام پر اس کی صورت یوں ہے کہ جب میں نے اس مسئلہ کی تحقیق کے لیے کتب متعلقہ الماری سے نکالیں اور حضرت امام صاحب(امام ابوحنیفہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے متعلق تحقیقات شروع کی تو مختلف کتب کی ورق گردانی سے میرے دل پر کچھ غبار آ گیا جس کا اثر بیرونی طور پر یہ ہوا کہ دن دوپہر کے وقت جب سورج پوری طرح روشن تھا ، یکایک میرے سامنے گھپ اندھیرا چھا گیا، گویا ’’ظلمت بعضہا فوق بعض‘‘ کا نظارہ ہو گیا۔
معاً خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈالا کہ ’’یہ حضرت امام صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بدظنی کا نتیجہ ہے اس سے استغفار کرو‘‘۔ میں نے کلماتِ استغفار دہرانے شروع کیے تو وہ اندھیرے فوراً کافور ہوگئے اور ان کی بجائے ایسا نور چمکا کہ اس نے دوپہر کی روشنی کو مات کر دیا۔ اس وقت سے میری حضرت امام صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حسنِ عقیدت اور زیادہ بڑھ گئی اور میں ان شخصوں (یعنی غیر مقلدوں)سے جن کو حضرت امام صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسے حسنِ عقیدت نہیں، کہا کرتا ہوں کہ ’’میری اور تمہاری مثال اس آیت کی مثال ہے کہ حق تعالیٰ منکرینِ معراجِ قدسیہ آنحضرت اسے خطاب کر کے فرماتا ہے،
افتمارونہٗ علیٰ ما یریٰ۔ ’’میں نے جو کچھ عالمِ بیداری اور ہو شیاری میں دیکھ لیا، اس میں مجھ سے جھگڑا کرنا بے سود ہے‘‘۔ ہذا واللہ ولی الہدایۃ۔
اب میں اس مضمون کو ان کلمات پر ختم کرتا ہوں اور اپنے (غیرمقلد) ناظرین سے امید رکھتا ہوں کہ وہ بزرگانِ دین سے خصوصاً ائمہ متبوعین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے حسنِ ظن رکھیں اور گستاخی اور شوخی اور بے ادبی سے پرہیز کریں کیونکہ اس کا نتیجہ ہر دوجہان میں موجبِ خسران ونقصان ہے۔……والخ
از خدا خواہیم توفیقِ ادببے ادب محروم شد از لطفِ رب()
اس کتاب میں وہ اپنے استاد محدث عبدالمنان وزیرآبادی کے تذکرے میں جنہیں مشہور غیرمقلد مولوی ثناء اللہ امرتسری نے ’’اس دور کا امام بخاری‘‘ قرار دیا تھا، لکھتے ہیں، ’’آپ ائمہ دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا بہت ادب کرتے تھے۔چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ائمہ دین اور خصوصاً امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بے ادبی کرتا ہے ، اس کا خاتمہ اچھا نہیں ہوتا‘‘۔()
Page 104 of 107

