بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم
رفع یدین،قرآن کی روشنی میں:
ارشاد ِباری تعالیٰ ہے،
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ * الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلاَ تِھِمْ خَاشِعُوْنَ*
’’بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے، جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں‘‘۔
(پ18،مومنون:1، 2)
اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں،
مُخْبِتُوْنَ مُتَوَاضِعُوْنَ لَایَلْتَفِتُوْنَ یَمِیْناً وَّلَاشِمَالًا وَّلَا یَرْفَعُوْنَ اَیْدِیَھُمْ فِی الصَّلَاۃِ۔
یعنی وہ ایمان والے فلاح پاگئے جو خشوع اور عاجزی کرتے ہیں، نماز میں دائیں بائیں نہیں دیکھتے اور نہ ہی رفع یدین کرتے ہیں۔
(تفسیرابن عباس،مومنون،تحت الآیۃ:2،ص359)
نامور محدث و فقیہ امام نصر بن محمد ابواللیث سمر قندی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، حضرت حسن بصری رحمہ اللّٰہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا،
خاشعون الذین لا یرفعون ایدیہم فی الصلوٰۃ الا فی التکبیرۃ الاولیٰ۔
عاجزی کرنے والے وہ ہیں جو نماز میں رفع یدین نہیں کرتے سوائے تکبیرِ اُولیٰ کے۔
(تفسیر بحر العلوم المعروف تفسیر سمرقندی،2/408،تحت الآیۃ:2)
رب تعالیٰ کا ایک اور ارشاد ہے،
کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوالصَّلٰوۃ۔
یعنی’’ تم اپنے ہاتھوں کو روکو اور نماز قائم رکھو‘‘۔
(پارہ5،سورۂ نساء،آیت:77)
بعض علماء کے نزدیک یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ شروع نماز کی تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں تکبیریں کہتے وقت کہیں بھی رفع یدین نہ کیا جائے۔ (زجاجۃ المصابیح،باب صفۃ الصلوۃ)
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ اور کثیر فقہاء و محدثین کرام رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک صرف نماز شروع کرتے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھائے جائیں پھر نماز کے دوران کہیں ہاتھ نہ اٹھائے جائیں یعنی رفع یدین نہ کیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ نماز کی پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرنے میں کسی کو اختلاف نہیں۔ اس کے علاوہ عام نمازوں میں رکوع اور سجود کے وقت رفع یدین کرنا ابتدائے اسلام میں تھا بعد میں منسوخ ہوگیا، اس لئے ایسی متعدد احادیث ملیں گی جن میں صحابہ کرام کے رفع یدین کرنے کا ذکر ہے۔
بعد میں چونکہ رفع یدین منسوخ فرما دیا گیا لہٰذا ایسی صحیح احادیث بھی موجود ہیں جن میں رفع یدین نہ کرنے کا ذکر ہے۔
رفع یدین، حدیث کی روشنی میں:
پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نماز میں کن مواقع پر رفع یدین ثابت ہے۔
1۔ عن ابن عباس ان رسول اللّٰہ ﷺ کان یرفع یدیہ عند کل تکبیرۃ۔
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺ ہر تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب الصلاۃ،باب رفع الیدین اذا رکع۔۔الخ،ج ،1ص470، حدیث نمبر: 865)
2 ۔ عن ابی ہریرۃ انہ قال کان رسول اللّٰہ ﷺ اذا کبر للصلوۃ جعل یدیہ حذو منکبیہ واذا رکع فعل مثل ذلک واذا رفع للسجود فعل مثل ذلک واذا قام من الرکعتین فعل مثل ذلک۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں آقا و مولیٰ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے جب آپ نماز شروع کرتے، اور جب آپ رکوع کرتے، اور جب آپ سجدوں کے لیے اٹھتے، اور جب آپ دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو بھی ایسا ہی کرتے۔
(سنن ابو داؤد،کتاب الصلاۃ، باب افتتاح الصلوۃ ،1/289،حدیث:738مختصراً)
3۔ عن انس ان النبی ﷺ کان یرفع یدیہ فی الرکوع والسجود۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ رکوع اور سجدوں میں رفع یدین فرماتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الصلاۃ، باب من کان یرفع یدیہ اذاافتتح الصلوٰۃ، 2/411،حدیث: 2449)
اس حدیث کے متعلق غیر مقلدمحقق احمد شاکر نے لکھا ہے،
اس کی سند بہت زیادہ صحیح ہے۔
(جامع ترمذی بتحقیق وشرح احمد شاکر ج2 :42 مطبوعہ بیروت)
4 ۔ عن ابن عمر ان النبی ﷺ کان یرفع یدیہ عند التکبیر للرکوع وعند التکبیر حین یہوی ساجداً۔
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ آقاومولیٰ ﷺ رکوع کے لیے تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھاتے اور سجدوں کے لیے تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھاتے۔ (المعجم الاوسط للطبرانی ،1/162 )
امام ہیثمی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا،
مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کی اسناد صحیح ہیں۔
(مجمع الزوائد،کتاب الصلاۃ،باب رفع الیدین فی الصلاۃ،2/271،تحت الحدیث: 2590)
5۔ ان رسول اللّٰہ ﷺ کان یرفع یدیہ حذو منکبیہ اذا افتتح الصلوۃ واذا کبر للرکوع واذا رفع راسہ من الرکوع رفعہما کذلک ایضا وقال سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد وکان لا یفعل ذلک فی السجود۔
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ
نبی کریم ﷺ نماز کے شروع میں، رکوع کے لیے تکبیر کہتے وقت اور رکوع سے سر اٹھا کر کندھوں تک رفع یدین کرتے اور فرماتے، سمع اللّٰہ لمن حمدہ، ربنا ولک الحمد۔ البتہ سجدوں میں ایسا نہ کرتے۔
(بخاری ،کتاب الاذان،باب رفع الیدین فی التکبیرۃ۔۔الخ، 1/261، حدیث: 735)

