6۔ عن علی بن ابی طالب قال کان النبی ﷺ اذا قام الی الصلوۃ المکتوبۃ کبر ورفع یدیہ حتی یکونا حذو منکبیہ واذا اراد ان یرکع فعل مثل ذلک واذا رفع راسہ من الرکوع فعل مثل ذلک واذا قام من السجدتین فعل مثل ذلک۔
حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ فرض نماز کے شروع میں تکبیر کے وقت، رکوع میں جاتے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت اور دونوں سجدوں سے اٹھتے وقت بھی کندھوں تک رفع یدین کرتے تھے۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب اقامۃ الصلاۃ، باب رفع الیدین اذارکع ۔۔الخ، 1/470، حدیث: 864)
7۔ عن انس ان رسول اللّٰہ ﷺ کان یرفع یدیہ اذا دخل فی الصلوۃ واذا رکع۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم ﷺ جب نماز شروع فرماتے اور جب رکوع میں جاتے تو رفع یدین کرتے۔
(ابن ماجہ،کتاب اقامۃ الصلاۃ، باب رفع الیدین اذارکع،1/470، حدیث:866)
8۔حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰﷺ نے تکبیر تحریمہ کہتے وقت دونوں ہاتھ اٹھائے پھر بائیں ہاتھ کو دائیں سے پکڑا اور کپڑے میں داخل کر لیا۔
راوی کہتے ہیں،
فاذا اراد ان یرکع اخرج یدیہ ثم رفعہما واذا اراد ان یرفع راسہ من الرکوع رفع یدیہ ثم سجد ووضع وجہہ بین کفیہ واذا رفع راسہ من السجود ایضاً رفع یدیہ حتی فرغ من صلاتہ قال محمد فذکرت ذلک للحسن بن ابی الحسن فقال ہی صلوۃ رسول اللّٰہ ﷺ فعلہ من فعلہ وترکہ من ترکہ۔
رکوع کے وقت ہاتھ نکال کر اٹھاتے، رکوع سے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کرتے، پھر سجدہ کرتے تو اپنا مبارک چہرہ ہتھیلیوں کے درمیان رکھتے اور سجدوں سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کرتے۔ جب اس کا ذکر حضرت حسن بن ابو الحسن سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا، رسول اللّٰہ ﷺ کی نماز یہی ہے۔ کرنے والوں نے ایسا کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔
(ابو داؤد ،کتاب الصلاۃ،باب رفع الیدین ، 1/283،حدیث:723ملخصاً)
مذکورہ احادیث مبارکہ سے مندرجہ ذیل مواقع پر رفع یدین ثابت ہوا۔
1۔تکبیر تحریمہ کے وقت، 2۔ رکوع میں جاتے وقت، 3۔ رکوع سے کھڑے ہو کر، 4۔ سجدے میں جاتے وقت، 5۔ سجدہ سے سر اٹھا کر، 6۔دوسرے سجدے میں جاتے وقت، 7۔دوسرے سجدے سے سر اٹھا کر، 8 ۔ تیسری رکعت کے شروع میں۔ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین پر سب کا اتفاق ہے ۔
امام اعظم اور امام مالک رحمہما اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک دیگر مواقع پر رفع یدین منسوخ ہے۔
امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللّٰہ کا اس فروعی مسئلہ میں اختلاف ہے۔ ان کے مقلدین پر ان کی تقلید واجب ہے۔
رفع یدین منسوخ ہے:
ہمیں غیر مقلدین پر حیرت ہے جو رکوع سے قبل اور رکوع کے بعد کے رفع یدین پر تو بہت زور دیتے ہیں مگر صحیح احادیث سے ثابت شدہ سجدوں کے رفع یدین پر عمل نہیں کرتے۔ جب پوچھا جائے تو جواب ملتا ہے، ’’یہ رفع یدین اب منسوخ ہو چکے ہیں‘‘۔ ہم کہتے ہیں کہ جب نماز میں چار جگہ رفع یدین منسوخ مانا جاسکتا ہے تو صحیح احادیث کی بناء پر مزید تین جگہ منسوخ کیوں نہیں مانا جا سکتا۔
جدید غیر مقلدین نے سجدوں میں رفع یدین کو منسوخ کہنے سے بچنے کے لئے یہ حیلہ گھڑا ہے کہ’’ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ رفع یدین منسوخ ہے بلکہ ہم اس لئے نہیں کرتے کہ نبی کریم ﷺ سجدوں میں رفع یدین نہیں کرتے تھے‘‘۔
(نور العینین، زبیر علی زئی، ص50،51)
مذکورہ احادیث نمبر1، 3اور 4دوبارہ پڑھیے اور کہیے، لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔
تمام ِحجت کیلئے امام نسائی اور امام بخاری سے مروی دو احادیث مزید ملاحظہ کیجئے جو سجدوں کے رفع یدین کا واضح ثبوت ہیں ۔
امام بخاری کے رسالے جزء رفع الیدین سے سجدوں کے رفع یدین پر مرفوع احادیث وآثار آئندہ صفحات میں تحریر ہوں گے۔

