Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 11 of 107

9 ۔ عن مالک بن الحویرث انہ رأی النبی ﷺ رفع یدیہ فی صلوتہ اذا رکع واذا رفع راسہ من الرکوع واذا سجد واذا رفع راسہ من السجود حتی یحاذی بہما فروع اذنیہ۔
(سنن نسائی،کتاب التطبیق، باب رفع الیدین للسجود،ص187،حدیث:1082)

حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ عنہم فرماتے ہیں، میں نے نبی کریم کو دیکھا کہ آپ نے نماز میں اپنے ہاتھ اٹھائے، جب آپ نے رکوع کیا، اور جب رکوع سے سر اٹھایا، اور جب آپ نے سجدہ کیا ،اور جب آپ نے سجدوں سے سر اٹھایا یہاں تک کہ آپ نے اپنے ہاتھوں کو کانوں کے اوپری حصے کے برابر کیا۔

 

 

10۔ عن یحییٰ ابن ابی اسحاق قال رأیت انس ابن مالک یرفع یدیہ بین السجدتین۔

حضرت یحییٰ بن ابی اسحاق رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سجدوں کے درمیان اٹھاتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الصلاۃ،باب رفع الیدین بین السجدتین، 2/509، حدیث:2811)

 

مقامِ غور ہے کہ امام بخاری و امام مسلم کے استاد امام ابن ابی شیبہ نے پورے باب کا عنوان ہی’’سجدوں کے درمیان رفع یدین ‘‘رکھا اور اس میں پانچ حدیثیں روایت کیں جن میں سجدوں کے درمیان رفع یدین ثابت کیا۔ یہ سب حدیثیں صحیح ہیں اور ان کے راوی صحاح ستہ کے راوی ہیں۔

 

11۔ عن نافع عن ابن عمر انہ کان یرفع یدیہ اذا رفع راسہٗ من السجدۃ الاولیٰ۔

حضرت نافع رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما رفع یدین کرتے تھے جب پہلے سجدے سے سر اٹھاتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الصلاۃ،باب رفع الیدین بین السجدتین، 2/509، حدیث:2812)

 

12 ۔ عن ایوب قال رأیت نافعاً وطاؤساً یرفعان ایدیہما بین السجدتین۔

حضرت ایوب رحمہ اللّٰہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نافع اور حضرت طاؤس کو دیکھا، وہ دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین کرتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الصلاۃ،باب رفع الیدین بین السجدتین، 2/509، حدیث: 2813 )

 

13۔ عن اشعث عن الحسن وابن سیرین انہما کانا یرفعان ایدیہما بین السجدتین۔

حضرت اشعث رحمہ اللّٰہ سے روایت ہے کہ حضرت حسن بصری اور حضرت ابن سیرین دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین کرتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الصلاۃ،باب رفع الیدین بین السجدتین، 2/509، حدیث:2814)

 

مذکورہ بالا صحیح الاسناد احادیث سے اور امام بخاری رحمہ اللّٰہ کی جزء رفع الیدین سے ثابت ہونے کے باوجود اگر غیر مقلدین سجدوں کے رفع یدین پر عمل نہیں کرتے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان احادیث کو وہ بھی منسوخ مانتے ہیں۔

اب رفع یدین کے منسوخ ہونے سے متعلق رسول کریم کی احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں اور ساتھ ہی صاحبِ کتاب، محدث کا مختصر تعارف بھی۔

 

تعارف امام بخاری:

امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللّٰہ، ۱۹۴ھ میں بخارا میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ذہانت اور بے مثل حافظہ کے باعث سولہ سال کی عمر میں عبداللّٰہ بن مبارک، وکیع بن الجراح اور دیگر اصحابِ امام اعظم ابو حنیفہ کی کتب کو یاد کر لیا تھا اور آخر عمر میں تین لاکھ احادیث کے حافظ ہو چکے تھے۔

امام بخاری شافعی مذہب کے مقلد تھے۔ حافظ ابو عاصم نے اور امام تاج الدین سبکی نے انہیں طبقات شافعیہ میں شمار کیا۔ غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن بھوپالی نے بھی ان کا شمار ائمہ شافعیہ میں کیا ہے۔
(ابجدالعلوم، ج2، ص288)

 

حفظ وضبط میں امام بخاری کا کوئی ثانی نہ تھا۔امام بخاری کے استاد ابو مصعب بن ابوبکر  نے کہا، امام بخاری حدیث میں امام احمد بن حنبل سے زیادہ بصیرت رکھتے ہیں۔

آپ کے استاد امام احمد بن حنبل نے فرمایا ،

ارض خراسان نے امام بخاری جیسا کوئی دوسرا پیدا نہ کیا۔

امام مسلم نے کہا،

میں گواہی دیتا ہوں کہ امام بخاری جیسا کوئی دوسرا نہیں ہے۔

امام ترمذی نے کہا ،

میں نے اسانید اور علل کے علم میں امام بخاری سے بڑھ کر کسی کو نہیں پایا۔

امام بخاری سے علمِ حدیث حاصل کرنے والوں میں امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابن خزیمہ شامل ہیں۔ رحمہم اللہ تعالیٰ

امام بخاری رحمہ اللّٰہ اپنی صحیح میں کسی حدیث کو لکھنے سے پہلے غسل کر کے دو نفل پڑھتے پھر اس حدیث کی صحت کے متعلق استخارہ کرتے۔ اسی لئے رب کریم نے صحیح بخاری کو بے پناہ مقبولیت عطا فرمائی ہے ۔۲۵۶ھ میں آپ کا وصال ہوگیا۔

Share:
keyboard_arrow_up