Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 12 of 107

صحیح بخاری کو ”اصح الکتب بعد کتابُ اللّٰہ“کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کی دوسری کتابوں کی بنسبت اس میں زیادہ صحیح حدیثیں ہیں، ضعیف حدیثیں کم ہیں نیز اس کی حدیثیں صحت کی قوت میں بنسبت دوسری کتابوں کے زائد ہیں۔

اصح الکتب کا یہ مطلب لینا کہ بخاری میں جو کچھ ہے خواہ حدیث نہ ہو، امام بخاری کا قول، ان کی تحقیق ہو ، سب حق ہے ، یہ”اصح کتب“ کے معنی کی تحریف ہے۔

جس نے بھی بخاری کو ”اصح کتب“ کہا، وہ صرف احادیث کے اعتبار سے کہا، امام بخاری کے فرمودات کو اس میں کسی نے داخل نہیں کیا۔ (مقدمہ نزہۃ القاری:145)

امام بخاری ، رسولِ خدا اکی نماز کا طریقہ روایت کرتے ہیں،

 

14۔ عن محمد بن عمرو بن عطاء انہ کان جالساً مع نفر من اصحاب النبی ﷺ فذکرنا صلوۃ النبی ﷺ فقال ابوحمیدن الساعدی انا کنت احفظکم لصلوۃ رسول اللہ ﷺ رأیتہ اذا کبر جعل یدیہ حذو منکبیہ واذا رکع امکن یدیہ من رکبتیہ ثم ہصر ظہرہ فاذا رفع راسہ استوی حتی یعود کل فقار مکانہ واذا سجد وضع یدیہ غیر مفترش ولا قابضہما واستقبل باطراف اصابع رجلیہ القبلۃ فاذا جلس فی الرکعتین جلس علی رجلہ الیسری ونصب الیمنی فاذا جلس فی الرکعۃ الاخرۃ قدم رجلہ الیسری ونصب الاخری وقعد علیٰ مقعدتہ۔

محمد بن عمرو بن عطاء روایت کرتے ہیں، میں رسول کریم کے بعض صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ہم نے رسولِ خدا کی نماز کا ذکر کیا تو حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللّٰہ عنہ فرمانے لگے، میں تم سب سے زیادہ آقا و مولیٰ کی نماز کو جانتا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ آپ جب تکبیر کہتے تو دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے، جب رکوع کرتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور کمر کو برابر کرتے پھر رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ آ جاتا۔

پھر آپ  سجدہ کرتے تو ہاتھوں کو زمین پر بچھائے بغیر رکھتے اور ان کو پہلوؤں سے نہ ملاتے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رو رکھتے۔ آپ جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا کر لیتے اور سرین کے بل بیٹھتے۔
(صحیح بخاری،کتاب الاذان، باب سنۃ الجلوس فی التشھد، 1/289، حدیث: 828 مختصراً)

 

اس حدیث میں حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللّٰہ عنہ نے رسول خدا کی نماز کا طریقہ بتایا اور اس میں صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کا ذکر کیا۔

اس کے بعد رکوع کی کیفیت بیان کی تو ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے اور کمر سیدھی کرنے کا ذکر کیا مگر رفع یدین کا ذکر نہیں کیا۔

اسی طرح رکوع سے سیدھے کھڑے ہو کر سجدے میں جانے کا ذکر کیا لیکن رفع یدین کا کوئی ذکر نہیں کیا اور کسی صحابی نے اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کیا کہ تم نے رکوع کی رفع یدین کا ذکر کیوں نہیں کیا۔

پس صحیح بخاری کی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صرف نماز کی ابتدا میں رفع یدین کرنا رسولِ خدا کی نماز کا طریقہ ہے اس کے سوا رکوع و سُجود کے رفع یدین منسوخ ہوچکے۔

 

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللّٰہ عنہ سے یہ حدیث دیگر کتب میں بھی مروی ہے جن میں رکوع کے رفع یدین کا ذکر ہے لیکن ان کی اسناد و متن مجروح و مضطرب ہیں۔

اگر ان میں سے کوئی روایت مکمل صحیح ہوتی تو امام بخاری اسے اپنی صحیح میں جگہ دیتے لیکن انہوں نے اس صحیح ترین روایت کو صحیح بخاری میں روایت کیا۔

اسی بناء پر جب حافظ ابن حجر نے ابو حمید ساعدی رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث سنن ابی داؤد کے حوالے سے بیان کی تو فرمایا،

اصلہ فی البخاری۔ ’’ اس کی اصل حدیث بخاری میں ہے‘‘۔ اور بخاری کی حدیث میں رکوع سے قبل اور بعد والا رفع یدین نہیں ہے۔ (الدرایہ، لابن حجر، ج1،ص153) الحمد للّٰہ حمداً کثیراً۔ 

Share:
keyboard_arrow_up