Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 13 of 107

تعارف امام مسلم بن الحجاج:

امام مسلم بن حجاج القشیری رحمہ اللّٰہ، ۲۰۲ھ میں نیشا پور میں پیدا ہوئے۔آپ علم الحدیث میں جلیل القدر امام تھے۔ صحیح اور غیر صحیح حدیث کی پہچان میں اپنے زمانے کے اکثر محدثین پرفوقیت رکھتے تھے۔

بعض امور میں علماء نے انہیں امام بخاری پر بھی فوقیت دی ہے کیونکہ امام بخاری نے اہل شام کی اکثر روایات ان کی کتابوں سے حاصل کی ہیں، خود ان کے مؤلفین سے سماع نہیں کیا۔

اس لیے ان کے راویوں میں بسا اوقات امام بخاری سے لغزش ہو جاتی ہے کیونکہ ایک ہی راوی کا کبھی نام لیا جاتا ہے اور کبھی کنیت، لہٰذا امام بخاری ان کو دو راوی خیال کر لیتے ہیں جبکہ امام مسلم نے براہ راست اہل شام کے محدثین سے حدیثیں سنی ہیں اس لئے انہیں اس قسم کا مغالطہ نہیں ہوتا۔
(بستان المحدثین:76)

 

جمہور علماء کے نزدیک صحتِ احادیث کے اعتبار سے صحیح بخاری کے بعد صحیح مسلم کا درجہ ہے لیکن مغرب کے بعض علماء نے صحیح مسلم کو صحیح بخاری پر ترجیح دی ہے۔

امام نسائی نے کہا، صحیح مسلم، صحیح بخاری سے عمدہ ہے۔ ابو علی حاکم نیشا پوری اور حافظ ابو بکر اسماعیلی کا بھی یہی قول ہے ۔ (مقدمہ نووی،ص14)

 

بلاشبہ تدوین کی عمدگی اور وضع و ترتیب کے حسن کے لحاظ سے اسے صحیح بخاری پر فوقیت حاصل ہے۔

امام مسلم نے امام احمد بن حنبل، امام بخاری اور امام یحییٰ بن یحییٰ وغیرہ سے اکتسابِ علم کیا۔ ۲۶۱ھ میں آپ کا وصال ہوا۔رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ کی احادیث:

امام مسلم رحمہ اللّٰہ، روایت کرتے ہیں،

15۔ حدثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ وابوکریب، قالا نا ابومعاویۃ عن الاعمش عن المسیب بن رافع، عن تمیم بن طرفۃ عن جابر بن سمرۃ قال خرج علینا رسول اللہ ﷺ فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانہا اذناب خیل شمس، اسکنوا فی الصلوۃ۔
(صحیح مسلم ، کتاب الصلاۃ،باب الامر بالسکون فی الصلاۃ،ص181،حدیث:968)

ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہم سے بیان کیا، دونوں نے کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے روایت کیا، انہوں نے مسیب بن رافع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہم سے روایت کیا۔

انہوں نے فرمایا، ہمارے پاس رسول اللّٰہ تشریف لائے تو فرمایا ، کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں اس طرح ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہیں۔ نماز سکون کے ساتھ ادا کرو۔

 

16۔ وحدثنی ابوسعیدن الاشج، قال نا وکیع ۔

امام مسلم نے فرمایا، اور مجھ سے ابو سعیدن الاشج نے بیان کیا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا۔ ہم نے اس حدیث کی سند تبدیل کی۔
(صحیح مسلم ، کتاب الصلاۃ،باب الامر بالسکون فی الصلاۃ،ص182،حدیث:969)

 

17۔ وحدثنا اسحاق بن ابراہیم قال اخبرنا عیسیٰ بن یونس، قالا جمیعا حدثنا الاعمش بہذا الاسناد نحوہٗ۔

امام مسلم نے فرمایا، اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، وکیع اور عیسیٰ دونوں نے کہا، ہم سے اعمش رضی اللّٰہ عنہ  نے گذشتہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
(صحیح مسلم ، کتاب الصلاۃ،باب الامر بالسکون فی الصلاۃ،ص182،حدیث:969)

 

تعارف امام نسائی:

امام ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب نسائی رحمہ اللّٰہ، ۲۱۵ھ میں خراسان میں پیدا ہوئے۔ علمِ حدیث کے حصول کے لیے دور دراز شہروں کے سفر کیے۔ آپ کے اساتذہ میں قتیبہ بن سعید، اسحاق بن راہویہ، ہشام بن عمار، ابو کریب، امام ابوداؤد اور امام بخاری خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں،امام نسائی نقد رجال میں نہایت محتاط اور علم حدیث میں اپنے ہم عصروں پر فوقیت رکھتے تھے۔

فنِ رجال کے ماہرین کی ایک جماعت نے انہیں امام مسلم پر ترجیح دی ہے جبکہ دارقطنی وغیرہ نے آپ کو اسماء الرجال اور دیگر علومِ حدیث میں امام ابنِ خزیمہ سے برتر قرار دیا ہے۔
(تہذیب التہذیب، ج1،ص32)

 

اکثر محدثین کے نزدیک امام نسائی کی کتاب سنن نسائی کا درجہ بخاری و مسلم کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔

امام سخاوی فرماتے ہیں کہ:

بعض مغربی محدثین نے تصریح کی ہے کہ امام نسائی کی کتاب امام بخاری کی صحیح سے زیادہ بہترہے۔
(فتح المغیث،ج1،ص30)

Share:
keyboard_arrow_up