غیر مقلد نواب صدیق حسن بھوپالی نے امام نسائی کو حدیث کا امام ، ثقہ ، ثبت اور حافظ قرار دیا۔
(الحطہ فی ذکرصحاح ستہ،ج1، ص219)
امام تاج الدین سبکی نے امام ذہبی سے پوچھا،امام مسلم بڑے حافظِ حدیث ہیں یا امام نسائی؟ تو انہو ں نے فرمایا ، امام نسائی۔
(التعلیقات السلفیۃ، ج1،ص22)
بعض کے نزدیک رجال میں امام نسائی کی شرائط بخاری و مسلم کی شرائط سے سخت ہیں۔
حافظ ذہبی نے لکھا ہے،
امام نسائی حدیث، عللِ حدیث اور اسماء الرجال کے علوم میں مسلم، ترمذی اور ابوداؤد سے زیادہ ماہر ہیں اور اس میدان میں وہ ابو زرعہ اور بخاری سے کسی طرح پیچھے نہیں ہیں۔
(توضیح الافکار، ج1،ص199) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ ۳۰۳ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
امام نسائی رحمہ اللّٰہ، روایت کرتے ہیں،
18۔ اخبرنا قتیبۃ بن سعید، قال حدثنا عبثر عن الاعمش، عن المسیب بن رافع عن تمیم بن طرفۃ، عن جابر بن سمرۃ قال خرج علینا رسول اللہ ﷺ ونحن یعنی رافعوا ایدینا فی الصلوۃ، فقال مابالہم رافعین ایدیہم فی الصلوۃ کانہا اذناب الخیل الشمس، اسکنوا فی الصلوۃ۔
(السنن الکبری للنسائی،کتاب السہو،باب الامر بالسکون فی الصلوۃ، 1/197، حدیث: 552، سنن نسائی،کتاب السہو،باب السلام باالایدی فی الصلوۃ،ص 205، حدیث: 1181)
ہمیں قتیبہ بن سعید نے خبر دی، کہا ہم سے عبثر نے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے مسیب بن رافع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہم سے روایت کیا۔
انہوں نے فرمایا،
ہمارے پاس رسول کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ ہم نماز میں رفع یدین کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا، کیا حال ہے ان کا جو نماز میں اپنے ہاتھوں کو سرکش گھوڑوں کی دُموں کی طرح اٹھا رہے ہیں۔ نماز میں سکون اختیار کرو۔ اس حدیث کو مشہور غیر مقلدمحقق ناصر الدین البانی نے ’’صحیح ‘‘ قرار دیا ہے۔
(صحیح سنن النسائی للالبانی،کتاب السہو،باب السلام ۔۔الخ، 2/358، حدیث: 1183)
تعارف امام ابوداؤد:
امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی رحمہ اللّٰہ، ۲۰۲ھ میں پیدا ہوئے۔ حدیث کے جلیل القدر اماموں میں سے ایک ہیں۔ آپ نے سب سے پہلے کتاب السنن لکھ کر علم حدیث میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔
آپ نے اس کتاب کو امام احمد بن حنبل کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کی بہت تعریف کی۔ حسن بن محمد نے خواب میں رسول کریم ﷺ کی زیارت کی تو حضور نے فرمایا، جو سنن کا علم حاصل کرنا چاہتا ہو، وہ سنن ابو داؤد کا علم حاصل کرے۔
(بستان المحدثین،ص79)
حافظ الحدیث موسیٰ بن ہارون نے کہا،
امام ابوداؤد ،دنیا میں صرف حدیث ہی کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور آخرت میں جنت کیلئے ۔
محمد بن اسحاق نے کہا،
اللّٰہ تعالیٰ نے علم حدیث امام ابوداؤد کے لیے ایسے آسان کر دیا تھا جس طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم کر دیا گیا تھا۔
ابو حاتم ابن حبان نے فرمایا،
امام ابو داؤد علم حدیث ، علم فقہ، تقویٰ اور خوفِ خدا میں دنیا والوں کے امام تھے۔
(تہذیب التہذیب، ج4،ص150)
حافظ الحدیث سعید بن سکن نے فرمایا،
حدیث کی چار کتابیں اسلام کی بنیاد ہیں۔ 1۔ مسلم، 2۔ بخاری، 3ابوداؤد، نسائی۔
(تاریخ دمشق، ج58،ص93)
امام ذہبی لکھتے ہیں،
بعض ائمہ نے بیان کیا ہے کہ امام ابوداؤد اپنی سیرت میں امام احمد بن حنبل کے مشابہ تھے اور وہ امام وکیع کے مشابہ تھے اور وہ امام سفیان کے، وہ امام منصور کے، وہ امام ابراہیم نخعی کے، وہ حضرت علقمہ کے اور وہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود کے مشابہ تھے اور حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ رسول کریم ﷺ کے مشابہ تھے۔ ان واسطوں سے امام ابوداؤد کی سیرت حضورﷺ کی سیرت کے مشابہ تھی۔ (تذکرۃ الحفاظ للذہبی،2/127)
آپ کے تلامذہ میں امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابوعوانہ بھی شامل ہیں۔ ۲۷۵ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

