امام ابو داؤد رحمہ اللّٰہ، روایت کرتے ہیں،
19۔ حدثنا عبداللّٰہ بن محمدن النفیلی نا زہیر نا الاعمش، عن المسیب بن رافع عن تمیم الطائی، عن جابر بن سمرۃ قال دخل علینا رسول اللّٰہ ﷺ والناس رافعوا ایدیہم قال زہیر اراہ قال فی الصلوۃ، فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانہا اذناب خیل شمس، اسکنوا فی الصلوۃ۔
ہم سے عبداللّٰہ بن محمدالنفیلی نے بیان کیا، کہا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے اعمش نے بیان کیا، وہ مسیب بن رافع سے، وہ تمیم طائی سے، وہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
انہوں نے فرمایا،
’’سرکار دو عالم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ لوگ نماز میں رفع یدین کر رہے تھے تو فرمایا ،کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں ایسے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے سرکش گھوڑوں کی دُمیں (ہلتی ہیں)۔ نماز میں سکون اختیار کرو‘‘۔
(سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ، باب فی السلام،1/374،حدیث:1000)
غیر مقلد محقق ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
(صحیح سنن ابی داؤدللالبانی،کتاب الصلاۃ، باب فی السلام،4/157،حدیث:918)
تعارف امام احمد بن حنبل:
امام احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی رحمہ اللّٰہ، ۱۶۴ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے۔
حدیث وفقہ میں منصبِ امامت پر فائز تھے۔ آپ نے امام عبد الرزاق، یزید بن ہارون، یحییٰ بن سعید قطان، سفیان بن عیینہ، امام شافعی وغیرہ اکابر محدثین سے حدیثیں روایت کیں اور آپ سے امام بخاری، امام مسلم، امام ابو داؤد، امام علی بن مدینی، امام ابوزرعہ وغیرہ نے حدیثیں روایت کیں۔رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
امام دارمی کہتے ہیں،
میں نے احمد بن حنبل سے بڑھ کر کسی کو احادیثِ رسول ﷺ کا حافظ نہیں دیکھا۔
امام شافعی فرماتے ہیں،
بغداد میں ان سے بڑھ کر کوئی متقی نہیں تھا۔
امام ابو زرعہ نے فرمایا،
آپ کو ایک لاکھ حدیثیں یاد تھیں اس لئے آپ کو امیر المومنین فی الحدیث کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
امام ابن حبان فرماتے ہیں،
آپ عظیم فقیہ اور زبردست حافظِ حدیث تھے۔ آپ نے پہلے امام ابو یوسف اور پھر امام شافعی سے فقہ کا علم حاصل کیا۔ ۲۴۱ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
امام احمد نے اپنی مسند میں تیس ہزار حدیثیں روایت کیں ہیں۔ آپ نے اپنی اولاد سے فرمایا، جب کبھی کسی حدیث کے بارے میں اختلاف ہو کہ یہ حدیثِ رسول ہے یا نہیں تو میری مسند کی طرف رجوع کرو، اگر اس میں پاؤ تو سمجھو کہ یہ حدیث رسول ﷺ ہے۔ (بستان المحدثین،ص56)
غیر مقلدین کے مستند امام شوکانی نے لکھاہے،
کل ماکان فی المسند فہو مقبول۔
’’مسند احمد کی ہر ہر حدیث مقبول ہے‘‘۔ (نیل الاوطار مقدمہ،1/1)
امام ہیثمی نے بھی فرمایا ہے کہ مسند احمد تمام کتب سے زیادہ صحیح ہے۔
(نیل الاوطار مقدمہ،1/1)
20۔ مذکورہ حدیث مسند امام احمد میں یوں روایت کی گئی ہے۔
حدثنا عبداللّٰہ حدثنی ابی، ثنا ابومعاویۃ ثنا الاعمش، عن المسیب بن رافع عن تمیم بن طرفۃ، عن جابر بن سمرۃ قال خرج علینا رسول اللہ ﷺ ذات یوم فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانہا اذناب خیل شمس، اسکنوا فی الصلوۃ۔
ترجمہ اوپر مذکور ہوا۔
(مسند احمد ،حدیث جابر بن سمرۃ السوائی،34/488،حدیث:20964)
تعارف امام بیہقی:
امام احمد بن حسین بیہقی رحمہ اللّٰہ، ۳۸۴ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے زمانے کے ممتاز عالم، محقق اور محدث تھے۔ شافعی المذہب تھے۔
آپ کا شمار امام حاکم ابو عبداللّٰہ نیشا پوری کے مایہ ناز شاگردوں میں ہوتا تھا۔ آپ نے متعدد کتب تصنیف کیں۔ آپ کی مشہور تصانیف میں السنن الکبریٰ، الآثار، فضائل صحابہ، شعب الایمان، خلافیات، البعث والنشور، کتاب الآداب وغیرہ شامل ہیں۔
آپ نہایت متقی، عابد و زاہد اور قلیل الغذا تھے۔ تیس سال مسلسل روزہ دار رہے۔ ۴۵۸ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
21 ۔ امام بیہقی نے امام حاکم اور عبداللّٰہ بن احمد بن حنبل کی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے۔
(سنن کبریٰ للبیہقی،کتاب صفۃ الصلاۃ،باب تحلیل ۔۔الخ، 2/246، حدیث: 2961)
22 ۔ امام بیہقی نے یہی حدیث ابو القاسم بن ابی ہاشم اور ابو بکر بن الحسن قاضی کی سند سے بھی بیان کی ہے۔ (ایضاً) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ مذکورہ بالا آٹھ قولی حدیثیں ہیں جن میں سرکارِ دو عالم نورِ مجسم ﷺ نے واضح طور پر نماز کے دوران رفع یدین سے منع فرمایا ہے۔ گھوڑوں کی دُموں کے ساتھ کسی فعل کو تشبیہہ دینا یہ آقا و مولیٰ ﷺ کا اندازِ تربیت ہے۔
آپ اپنے صحابہ رضی اللّٰہ عہنم کو جس لفظ کے ساتھ تنبیہہ فرمانا چاہیں، فرما سکتے ہیں۔

