Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 16 of 107

اعتراضات کے جوابات:

غیر مقلدین مذکورہ احادیث کے حوالے سے بعض اعتراضات کرتے ہیں۔

پہلا اعتراض یہ ہے کہ: ’’یہ احادیث سلام کے وقت اشارہ کرنے کی ممانعت کے متعلق ہیں۔ صحیح مسلم میں اس حدیث کے بعد سلام والی حدیث موجود ہے اس لئے یہ دونوں حدیثیں ایک ہی ہیں‘‘۔ اس اعتراض کی حقیقت سمجھنے کے لئے سلام والی حدیث ملاحظہ فرمایئے۔

 

23 ۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

کنا اذا صلینا مع رسول اللّٰہ ﷺ قلنا السلام علیکم ورحمۃ اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ واشار بیدہ الی الجانبین فقال رسول اللہ ﷺ علی ما تومون بایدیکم کانھا اذناب خیل شمس انما یکفی احدکم ان یضع یدہ علی فخذہ ثم یسلم علی اخیہ من علی یمینہ وشمالہ ۔

’’جس وقت ہم رسول اللّٰہ کے ساتھ نماز پڑھتے تو (سلام پھیرتے وقت) السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ کہتے اور دونوں جانب ہاتھ سے اشارہ کرتے۔

رسول اللّٰہ نے فرمایا،

تم سرکش گھوڑوں کی دُموں کی طرح ہاتھوں سے اشارہ کیوں کرتے ہو؟ تمہارے لئے کافی ہے کہ تمہارے ہاتھ تمہارے زانوؤں پر ہوں اور تم اپنے بھائی کی طرف دائیں بائیں سلام پھیرو‘‘۔
(مسلم،کتاب الصلاۃ،باب الامر بالسکون فی الصلاۃ۔۔الخ،ص182،حدیث:970)

 

24 ۔اگلی حدیث میں حضور کا یہ ارشاد ہے،

اذا سلم احدکم فلیلتفت الی صاحبہ ولا یومی بیدہ۔

’’جب تم میں سے کسی نے سلام کرنا ہو تو اپنے ساتھی کی طرف متوجہ ہو اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے‘‘۔
(مسلم، کتاب الصلاۃ،باب الامر بالسکون فی الصلاۃ۔۔ الخ،ص182، حدیث: 971)

 

رفع یدین سے ممانعت والی احادیث اور سلام کے وقت ہاتھ سے اشارہ کرنے کی ممانعت والی احادیث میں کئی وجوہ سے فرق ہے جو ذرا سے تدبر اور غور و فکر سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ در اصل معترضین کو غلط فہمی اس وجہ سے ہوئی کہ دونوں قسم کی حدیثوں کے راوی حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ ہیں اور دوسری وجہ یہ ہوئی کہ ’’اذناب خیل شمس‘‘ دونوں قسم کی حدیثوں میں مشترک ہے۔ اس لئے غیر مقلدین ان احادیث کو ایک ہی واقعہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
(نورالعینین،زبیر علی زئی، ص126)

 

حالانکہ یہ دو علیحدہ واقعات ہیں جیسا کہ ہم ابھی واضح کریں گے۔ چونکہ نماز میں رفع یدین کرنے والے ہاتھ اٹھا رہے تھے اور سلام کے وقت اشارہ کرنے والے بھی ہاتھ اٹھارہے تھے اس لئے آقا و مولیٰ نے انہیں سرکش گھوڑوں کی دُموں سے تشبیہ دے کر منع فرمایا۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ:

سرکش گھوڑے اپنی دُمیں صرف اوپر ہی کو نہیں اٹھاتے بلکہ انہیں دائیں بائیں بھی حرکت دیتے ہیں اس لئے دونوں گروہوں کے حق میں یہ الفاظ صادق آتے ہیں۔ اگر مسلم شریف ہی کی دونوں حدیثوں کی اسناد دیکھی جائیں تو بڑا واضح فرق نظر آتا ہے۔

 

رفع یدین سے ممانعت والی حدیث کو حضرت جابر بن سمرہ سے تمیم بن طرفہ نے روایت کیا،ان سے مسیب بن رافع، ان سے اعمش اور ان سے ابو معاویہ نے روایت کیا۔

اس حدیث کی مزید دو اسناد اوپر مذکور ہیں۔ جبکہ سلام کے وقت ہاتھ اٹھانے والی حدیث کو حضرت جابر بن سمرہ سے عبیداللّٰہ بن قبطیہ نے روایت کیا، ان سے مسعر، ان سے ابن ابی زائد نے روایت کیا۔

سلام والی دوسری حدیث حضرت جابر بن سمرہ سے عبیداللّٰہ بن قبطیہ نے روایت کی، ان سے فرات قزاز  نے، ان سے اسرائیل، ان سے عبیداللّٰہ بن موسیٰ اور ان سے قاسم بن زکریا نے روایت کی۔

ان اسناد پر غور فرمایئے اور انصاف سے کہیے کہ صرف حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ کا نام لے کر ان احادیث کو ایک قرار دینا جہالت یا دھوکا ہے یا نہیں؟رب تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے آمین۔

اب حدیثوں کے متن پر غور کیجئے۔ رفع یدین سے ممانعت والی مسلم کی حدیث میں ہے،

خرج علینا رسول اللّٰہ فقال مالی اراکم۔۔۔الخ
(مسلم، ج2،ص29،  حدیث نمبر:996)

رسول کریم ہمارے پاس تشریف لائے تو(ہمیں نماز میں رفع یدین کرتے دیکھ کر) فرمایا،

’’کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہلتی ہیں‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up