Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 17 of 107

سنن نسائی کی حدیث سے اس بات کی تائید ہوتی ہے اس کے الفاظ ہیں،

نحن رافعوا ایدینا فی الصلوۃ،
’’ہم نماز میں رفع یدین کر رہے تھے کہ حضور تشریف لائے۔‘‘
(نسائی، ج4،ص416،  حدیث نمبر:1171)

یعنی ہم علیحدہ علیحدہ نفل نماز پڑھتے ہوئے رفع یدین کر رہے تھے کہ اسی دوران رسول کریم تشریف لے آئے اور رفع یدین سے منع فرمایا۔

 

سلام والی حدیث میں ہے،

کنا اذا صلینا مع رسول اللّٰہ   ﷺ ۔

جب ہم رسول اللّٰہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے‘‘۔
(مسلم، ج2، ص322،  حدیث نمبر:120)

 

دوسری روایت میں ہے،

صلیت مع رسول اللّٰہ ﷺ۔

’’میں نے رسول کریم کے ساتھ نماز پڑھی‘‘
(مسلم، ج2، ص322،  حدیث نمبر:121)

 

نیز اس میں ہے،

اذاسلمنا قلنا بایدینا السلام علیکم السلام علیکم۔

’’جب ہم سلام پھیرتے تو ہاتھوں کے اشارے سے السلام علیکم السلام علیکم کہتے‘‘۔
(مسلم،کتاب الصلاۃ،باب الامر بالسکون فی الصلاۃ۔۔الخ،ص182،حدیث:970)

 

رفع یدین سے ممانعت والی حدیث میں ہے،

مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس۔

’’کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں سرکش گھوڑوں کی دُموں کی طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھتا ہوں‘‘۔
(مسلم، ج2، ص322،  حدیث نمبر:119)

 

سنن نسائی کی روایت میں ہے،

مابالھم رافعین ایدیھم فی الصلوۃ کانھا اذناب الخیل الشمس۔

’’ان کو کیا ہوگیا کہ یہ نماز میں اپنے ہاتھوں کو سرکش گھوڑوں کی دُموں کی طرح اٹھا رہے ہیں۔‘‘
(سنن نسائی،کتاب السہو،باب السلام باالایدی فی الصلوۃ،ص 205،حدیث:1181)

 

جبکہ سلام والی حدیث میں ہے،

ما تومون بایدیکم کانھا اذناب خیل شمس۔
(مسلم،کتاب الصلاۃ،باب الامر بالسکون فی الصلاۃ۔۔الخ،ص182،حدیث:970)

’’تم سرکش گھوڑوں کی دُموں کی طرح اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیوں کرتے ہو‘‘۔

 

دوسری روایت میں ہے،

ما شانکم تشیر ون بایدیکم کانھا اذناب خیل شمس ۔
(مسلم، کتاب الصلاۃ،باب الامر بالسکون فی الصلاۃ۔۔ الخ،ص182، حدیث: 971 )

’’کیا وجہ ہے کہ تم سرکش گھوڑوں کی دُموں کی طرح اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہو‘‘۔

 

رفع یدین سے ممانعت والی حدیث کے آخر میں ہے،

اُسْکُنُوْا فِی الصَّلٰوۃ۔
(السنن الکبری للنسائی،کتاب السہو،باب الامر ۔۔الخ، 1/197، حدیث: 552)

نماز میں سکون اختیار کرو یعنی رفع یدین نہ کرو

 

جبکہ سلام والی حدیث میں سلام پھیرنے کا طریقہ ارشاد ہوا،

’’تمہارے لئے یہ کافی ہے کہ تمہارے ہاتھ تمہارے زانوؤں پر ہوں اور تم اپنے بھائی کی طرف دائیں بائیں سلام پھیرو‘‘۔ خلاصہ یہ ہے،

رفع یدین سے ممانعت والی احادیث

حضور ہمارے پاس تشریف لائے۔  ہم نماز میں رفع یدین کررہے تھے۔

حضور نے فرمایا:

کیا وجہ ہے کہ میں تم کو ایسے رفع یدین کرتے دیکھتا ہوں جیسے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہلتی ہیں۔ نماز میں سکون اختیار کرو۔

 

بوقتِ سلام اشارے سے ممانعت:

ہم حضور  کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ کہتے وقت ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔

حضور نے فرمایا:

تم سرکش گھوڑوں کی دُموں کی طرح ہاتھوں سے اشارہ کیوں کرتے ہو۔ تم اپنے ہاتھ زانوؤں پر رکھو اور اپنے بھائی کی طرف دائیں بائیں سلام پھیرو۔

غور فرمائیے!

رفع یدین سے ممانعت والی حدیث میں آقا و مولیٰ کے ساتھ نماز پڑھنے کا ذکر ہے نہ السلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ کہنے کا اور نہ ہی دونوں جانب ہاتھ سے اشارہ کرنے کا۔ چونکہ لوگ نماز میں رفع یدین کر رہے تھے اس لئے آپ نے انہیں نماز سکون سے ادا کرنے کا حکم دیا جبکہ دوسرے واقعے میں لوگ سلام کے وقت ہاتھوں سے اشارہ کر رہے تھے اس لئے آپ نے انہیں سلام پھیرنے کا طریقہ سکھایا اور سلام کے وقت اشارہ کرنے سے منع فرمایا۔

 

ایک اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ:

نماز کے وقت رفع یدین سے نماز کے خشوع میں خلل واقع ہوتا ہے۔اس لیے

اسکنوا فی الصلوۃ  فرما کر نماز میں رفع یدین سے منع فرمایا۔

اگر اس حکم کو نماز کے اختتام یعنی سلام پھیرنے سے متعلق سمجھا جائے تو یہ حکم بے موقع اور بے محل قرار پائے گا کیونکہ سلام پھیر دینے سے تو نماز ہی ختم ہوجائے گی پھر نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم لغو و بے کار ہو جائے گا اس لئے لازم ہے کہ اس حکم کو نماز میں رفع یدین کی ممانعت سے متعلق تسلیم کیا جائے۔

Share:
keyboard_arrow_up