الحمدللّٰہ! ثابت ہو گیا ہے کہ دونوں حدیثیں اپنے اپنے موقع اور حکم کے لحاظ سے منفرد اور مختلف ہیں۔
پہلی حدیث کا موضوع: نماز میں رکوع میں جاتے اور اٹھتے ہوئے رفع یدین کرنے سے منع کرنا اور سکون اختیار کرنا ہے۔
جبکہ دوسری حدیث میں: نماز کے اختتام پر سلام پھیرتے وقت ہاتھوں کے اشارے سے منع کیا گیا ہے۔
جزء رفع یدین کا تحقیقی مقام:
جب ان دلائل کا کوئی جواب نہیں بن پڑتا تو غیر مقلدین کہتے ہیں، امام بخاری نے جزء رفع یدین میں فرمایا ہے کہ صحیح مسلم کی اس حدیث سے رفع یدین کی ممانعت پر وہی دلیل پکڑے گا جس کا علم میں حصہ نہیں۔اسی طرح امام نووی کا قول بھی ہے۔
جواب: غیر مقلدین اکثر جزء رفع الیدین کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس رسالے کو امام بخاری سے محمود بن اسحاق نامی شخص نے روایت کیا ہے ۔
اس شخص کے حالات، اس کاثقہ و عادل ہونا معلوم نہیں لہٰذا یہ شخص مجہول ہے۔
برصغیر کے نامور محدث شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ اپنی تحقیق کا خلاصہ یوں تحریر فرماتے ہیں،
’’کتاب رفع یدین للبخاری اور کتاب الجمعۃ للنسائی، ان دونوں کتابوں کے تفصیلی حالات کا کچھ پتہ نہیں چلا‘‘۔
(بستان المحدثین،ص139)
پس جب اس رسالے کا راوی ایک مجہول شخص ہے تو اس رسالے کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ غیرمقلد محقق علیزئی نے اس رسالے کے صحیح ترین نسخہ کی سند لکھی ہے اور حال یہ ہے کہ تین راوی ایسے ہیں جن کے انتقال کے وقت ان کے شاگرد کی عمر 11یا 12 سال تھی، دو راوی ایسے ہیں جن کی عمر کا تعین ہی نہیں۔لہٰذا یہ سند بھی منقطع ہے۔
حق یہ ہے کہ اس رسالے جزء رفع یدین کی مرویات پر نہ خود امام بخاری کا عمل ہے اور نہ ہی غیر مقلدین کا۔ گویا مذکورہ رسالہ ان کے نزیک بھی قابل اعتبار نہیں مثلاً اس رسالے سے سجدوں کے رفع یدین کا مسئلہ لے لیجیے۔
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ جن سے صحیح بخاری میں سجدوں کے رفع یدین کی نفی مروی ہے وہ روایت کرتے ہیں :
25۔عن النبی ﷺ کان یرفع یدیہ اذا رکع واذا سجد ۔
’’نبی کریم ﷺ رفع یدین کرتے تھے جب رکوع کرتے اور جب سجدہ کرتے ۔
(جزء رفع الیدین، مترجم زبیر علی زئی، ص88)
جزء رفع الیدین میں امام بخاری نے سجدوں کے رفع یدین سے متعلق کئی روایات نقل کی ہیں۔ ایک اور روایت بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔
26۔ حضرت وائل بن حجر روایت کرتے ہیں،
عن النبی ﷺ کان یرفع یدیہ اذا رکع واذا سجد۔
’’نبی کریم ﷺ رفع یدین کرتے تھے جب رکوع کرتے اور جب سجدہ کرتے۔‘‘
(جزء رفع الیدین ،زبیر علی زئی، ص82)
غور و فکر کی بات یہ ہے کہ یہ روایات صحیح بخاری کے خلاف ہیں۔ نہ ان پر امام بخاری کا عمل ہے اور نہ غیر مقلدین کا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ رسالہ غیر مقلدین کے نزدیک بھی قابل اعتبار نہیں ہے۔
27۔اسی رسالے میں ہے، عکرمہ بن عمار کہتے ہیں،
رأیت القاسم وطاؤساً ومکحولاً وعبداللہ بن دینار وسالماً ونافعاً یرفعون ایدیہم اذا استقبل أحدہم الصلاۃ وعندالرکوع والسجود۔
میں نے قاسم، طاؤس، مکحول، عبداللّٰہ بن دینار اور سالم کو دیکھا کہ وہ رفع یدین کرتے تھے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع و سجدے کرتے۔ (جزء رفع الیدین ،زبیر علی زئی، ص81)
اس روایت میں امام بخاری نے حضرت سالم رضی اللّٰہ عنہ کا سجدوں میں رفع یدین کرنا بیان کیا ہے حالانکہ صحیح بخاری میں سجدوں کے رفع یدین کی نفی والی حدیث حضرت سالم ہی سے مروی ہے۔
صورتحال یہ ہوئی کہ حضرت سالم رضی اللّٰہ عنہ کا خود اپنی روایت کردہ حدیث پر عمل نہیں جو صحیح بخاری میں ہے اور دیگر تابعین کا بھی حدیثِ بخاری پر عمل نہیں جبکہ اِس روایت پر خود امام بخاری اور غیر مقلدوں کا عمل نہیں۔ سبحان اللّٰہ!

