28۔وکیع نے ربیع سے بیان کیا،
رأیت الحسن ومجاہداً وطاؤسا وقیس بن سعد والحسن بن مسلم یرفعون ایدیہم اذا رکعوا واذا سجدوا۔وقال عبدالرحمن بن مہدی:ہذا من السنۃ۔
میں نے حسن بصری، مجاہد، طاؤس، قیس بن سعد اور حسن بن مسلم کو دیکھا کہ وہ ر فع یدین کرتے تھے جب وہ رکوع کرتے اور جب وہ سجدہ کرتے۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا، یہ سنت ہے۔
(جزء رفع الیدین ،زبیر علی زئی، ص81)
معلوم ہوا کہ: یہ اکابر تابعین و محدثین صحیح بخاری کی حدیث کے خلاف سجدے کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔
مزید تعجب یہ ہے کہ امام بخاری نے یہاں اپنے شیخ امام عبدالرحمٰن بن مہدی سے سجدے کی رفع یدین کو سنت فرمایا ہے جبکہ صحیح بخاری میں اسی کی نفی کی ہے۔
اب بتائیے کہ صحیح بخاری پر عمل کیا جائے یا جزء رفع الیدین پر؟؟
اسی طرح کانوں تک ہاتھ اٹھانے کے متعلق اس رسالے میں کئی احادیث ہیں جبکہ بخاری میں کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے اور غیر مقلدوں کا اسی پر عمل ہے۔ سب سے پہلے آقا ومولیٰ ﷺ کا عمل ملاحظہ فرمائیے۔
29۔ عن البراء قال کان النبی ﷺ یرفع یدیہ اذا کبر حذو أذنیہ۔
حضرت براء رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، نبی کریم ﷺ جب تکبیر کہتے تو کانوں تک رفع یدین کرتے تھے۔
(جزء رفع الیدین ،زبیر علی زئی، ص59)
30۔ عن ابی الزبیر قال رأیت ابن عمر حین قام الی الصلاۃ رفع یدیہ حتی تحاذی أذنیہ۔
حضرت ابوالزبیر نے کہا، میں نے ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کو دیکھا۔ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو رفع یدین کیا حتی کہ آپ کے ہاتھ آپ کے کانوں کے برابر ہوگئے۔
(جزء رفع الیدین ،زبیر علی زئی، ص73)
حالانکہ بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ ہی سے کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کی حدیث مروی ہے۔ اس روایت کے مطابق خود اپنی روایت کردہ بخاری کی حدیث پر ان کا عمل نہیں تھا۔ حمید بن ہلال کہتے ہیں،
31۔کان اصحاب النبی ﷺ اذا صلوا کان ایدیہم حیال آذانہم کانہا المراوح۔
نبی کریم ﷺ کے صحابہ جب نماز پڑھتے تو ان کے ہاتھ اس طرح کانوں تک بلند ہوتے تھے گویا کہ پنکھے ہیں۔ امام بخاری نے کہا، حسن اور حمید بن ہلال نے نبی کے صحابہ رضی اللّٰہ عنہ میں سے کسی کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا۔ (جزء رفع الیدین ،زبیر علی زئی، 55)
یعنی بغیر کسی استثناء کے، تمام صحابہ رضی اللّٰہ عنہ اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھاتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ صحیح بخاری کی کندھوں تک ہاتھ اٹھانے والی حدیث پر کسی ایک صحابی کا بھی عمل نہیں تھا۔ اب بتائیے کہ بخاری شریف کو صحیح مانا جائے یا جزء رفع الیدین کو؟؟؟
اگر جزء رفع الیدین کی مرویات پر تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ اس رسالے کا مواد اور دلائل کسی طرح بھی امام بخاری کی عظمت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
متعصب غیرمقلد علیزئی نے اپنی تحقیق سے اس رسالے کا مکتبہ ظاہریہ کا صحیح ترین قلمی نسخہ شائع کیا تو اس کے حواشی میں 38 احادیث کے راویوں کو ضعیف اور مدلس تسلیم کیا۔
جبکہ اس رسالے میں کل احادیث وآثار کی تعداد اس نے 122 بتائی ہے۔ گویا اس متعصب محقق کے نزدیک بھی جزء رفع الیدین کی 31 فیصد روایات ضعیف ہیں جبکہ محققین کے نزدیک یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
انصاف سے کہیے، کیا یہ رسالہ ایک لاکھ صحیح حدیثوں کے حافظ، امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللّٰہ کی شان کے لائق ہے؟؟؟ اگر بالفرض امام بخاری کا مذکورہ قول ثابت بھی ہو جائے تو وہ محض امام صاحب ہی کا قول ہو گا، اسے قرآن یا حدیث رسول کا درجہ تو نہیں دیا جا سکتا۔ بات آسان سی ہے، اگر تم امام بخاری یا کسی اور محدث کا قول پیش کرسکتے ہو تو ہم بھی حدیث کا صحیح مفہوم واضح کرنے کیلئے کسی امام یا محدث کا قول پیش کرسکتے ہیں۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ تابعی ہیں اس لئے ان کا قول ’’حدیث مقطوع ‘‘ کا درجہ رکھتا ہے جبکہ امام بخاری، سیدنا امام اعظم صکے وصال کے44 سال بعد۱۹۴ھ میں پیدا ہوئے۔

