مذکورہ حدیث کے متعلق چند جلیل القدر ائمہ کے اقوال ملاحظہ فرمائیں جنہوں نے اس حدیث سے رفع یدین کی ممانعت کا حکم مراد لیا ہے۔
مکہ مکرمہ کے نامور فقیہ، محدث علی قاری رحمۃ اللّٰہ علیہ اس حدیث کے حوالے سے فرماتے ہیں،
ولیس فی غیر التحریمۃ رفع ید عند ابن حنیفۃ لخبر مسلم عن جابر بن سمرہ۔
امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے سوا رفع یدین نہیں ہے صحیح مسلم کی اس حدیث کے مطابق جو جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ سے مروی ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،3/302)
امام جمال الدین زیلعی رحمہ اللّٰہ(م۷۶۴ھ) بھی حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث سے رفع یدین کی ممانعت کا حکم مراد لیتے ہیں۔ آپ رقمطراز ہیں:
’’ والذی یرفع یدیہ حال التسلیم لا یقال لہ، اسکن فی الصلاۃ۔ انما یقال ذلک لمن یرفع یدیہ فی اثناء الصلاۃ، وہو حالۃ الرکوع والسجود۔ ونحو ذلک ہو الظاہر‘‘۔
جو آدمی سلام کے وقت رفع یدین کرے، اسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ ’’نماز میں سکون اختیار کرو‘‘۔ یہ جملہ اسی کو کہا جائے گا جو نماز کے درمیان میں ہو، اور وہ رکوع و سجود کی حالتیں ہیں۔ لہٰذا اس حدیث ’’اسکنوا فی الصلوٰۃ ‘‘ سے یہی ظاہر ہے کہ یہ رکوع و سجود میں رفع یدین کی ممانعت سے متعلق ہے۔
(نصب الرایۃ،1/394)
نیز اسی صفحہ پر آپ کا ارشاد موجود ہے،
انہما حدیثان لایفسر احدہما بالآخر۔
یہ دو مختلف حدیثیں ہیں جن میں سے ایک دوسری کی تفصیل نہیں ہے۔
(نصب الرایۃ،ج1، ص392)
شارح بخاری، محدثِ اعظم امام بدر الدین عینی رحمہ اللّٰہ فرماتےہیں،
قلت فی الحدیث الاول انکار رفع الیدین فی الصلاۃ و امر بالسکون فیھا۔
’’میں کہتا ہوں،اس حدیثِ مسلم میں نماز میں رفع یدین کرنے کی ممانعت کی گئی ہے اور نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے‘‘۔ (البنایۃ شرح الھدایہ،2/258)
غیرمقلد جب لاجواب ہو جاتے ہیں توکہتے ہیں، پھر تم عیدین اور وتر میں رفع یدین کیوں کرتے ہو؟
جواب یہ ہے کہ:
اس حدیث کا وتر اور نمازِ عیدین سے کوئی تعلق نہیں۔ مذکورہ حدیث میں عید کی نماز کا واقعہ مذکور نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو حضور ﷺ خود نمازِ عید کی امامت فرما رہے ہوتے اور صحابہ آپ کے مقتدی ہوتے۔
نیز یہ وتر کی نماز بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ وتر عشاء کے بعد پڑھے جاتے ہیں اور یہ واقعہ دن کا ہے جیسا کہ مسند احمد کے حوالے سے حدیث نمبر 16 میں یہ الفاظ مذکور ہوئے،
خرج علینا رسول اللّٰہ ﷺ ذات یوم۔
رسول اللّٰہ ﷺ ہمارے پاس ایک دن تشریف لائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ نمازِ عید اور نمازِ وتر کے علاوہ کوئی عام نماز تھی۔ الحمدللّٰہ! یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی مذکورہ احادیث میں سرکارِ دو عالم ﷺ نے تکبیرِ اولیٰ کے سوا عام نمازوں کے دوران کئے جانے والے ہر رفع یدین کو منسوخ فرما دیا ہے۔
کتبِ صحاح سے فعلی احادیث :
قارئین کرام! حدیث قولی بھی ہوتی ہے اور فعلی بھی۔ آقا و مولیٰ ﷺ نے جو اپنی زبانِ اقدس سے ارشاد فرمایا، اسے حدیث قولی کہتے ہیں اور جو آپ نے کیا وہ حدیث فعلی ہے۔
رفع یدین کی ممانعت پر جو احادیث اوپر مذکور ہوئیں وہ حدیث قولی تھیں اور اکثر صحیح مسلم سے تھیں۔ اب دیگر کتبِ صحاح سے آقا و مولیٰ ﷺ کی فعلی احادیث پیشِ خدمت ہیں اور ساتھ ہی صاحبِ کتاب، محدث کا مختصر تعارف بھی۔
تعارف امام ترمذی:
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمہ اللّٰہ، ۲۰۹ھ میں بلخ کے شہر ترمذ میں پیدا ہوئے۔ آپ عظیم محدث، عابد و زاہد اوربےمثال حافظہ کے مالک تھے۔
آپ امام بخاری کے ذہین شاگرد تھے۔ امام بخاری کے وصال پر کہا گیا، ’’امام بخاری نے وصال کے بعد اہل خراسان کیلئے علم وعمل میں امام ترمذی جیسا کوئی شخص نہیں چھوڑا‘‘۔
(تہذیب التہذیب،جزء9، ص344)

