امام ترمذی، امام بخاری کے ایسے لائق ترین شاگرد تھے کہ ان سے امام بخاری نے فرمایا،
’’تم نے مجھ سے اس قدر استفادہ نہیں کیا، جتنا میں نے تم سے استفادہ کیا ہے‘‘۔
(تہذیب التہذیب،جزء9، ص344)
امام ترمذی کی جامع ، ترتیب کے لحاظ سے سنن نسائی اور سنن ابو داؤد کے بعد آتی ہے لیکن عمدہ اسلوبِ ترتیب، افادیت اور جامعیت کے اعتبار سے اسے بخاری و مسلم کے بعد نمایاں درجہ حاصل ہے۔
دیگر کتب کے مقابلے میں اس میں احادیث کی تکرار سب سے کم ہے۔ ۲۷۹ھ میں امام ترمذی کا وصال ہوا۔
علماء کہتے ہیں، بخاری و مسلم سے وہی مستفید ہوسکتا ہے جو فنِ حدیث سے پوری طرح واقف ہو۔ مگرجامع ترمذی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں امام ترمذی نے احادیث کی وضاحت کردی ہے اس لئے فقہاء و محدثین میں سے ہر کوئی اس سے استفادہ کرسکتا ہے۔
خود امام ترمذی اپنی کتاب جامع ترمذی کے متعلق فرماتے ہیں،
’’جس گھر میں یہ کتاب ہوگی گویا اس گھر میں نبی کریم ﷺ کلام فرماتے ہیں‘‘۔
(بستان المحدثین، ص194)
سیدنا امام اعظم اور ان کی فقہ کے متعلق اکثر محدثین کا ;2تعصب مشہور ہے۔ اس ضمن میں امام ترمذی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے کہ شافعی المذہب اور امام بخاری کا شاگرد ہونے کے باوجود انہوں نے ترکِ رفع یدین سے متعلق حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی درج ذیل حدیث روایت کر کے اسے حسن صحیح قرار دیا اور یہ کلمۂ حق تحریر کیا،
’’بہت سے اہل علم صحابہ کرام اور تابعین عظام کا اس حدیث پر عمل ہے‘‘۔ فجزاہ اللّٰہ تعالیٰ احسن الجزاء۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی احادیث:
امام ترمذ ی رحمہ اللّٰہ، فرماتے ہیں،
32۔حدثنا ہناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم ابن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبداللّٰہ بن مسعود الا اصلی بکم صلوۃ رسول اللّٰہ ﷺ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اول مرۃ۔
’’ہم سے ہناد نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ سفیان سے، وہ عاصم بن کلیب سے، وہ عبدالرحمان بن اسود سے، وہ علقمہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعودث نے فرمایا،کیا میں تمہیں رسول اللّٰہ ﷺ کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ پھر آپ نے نماز ادا کی اور صرف تکبیر اُولیٰ میں ہاتھ اٹھائے‘‘۔
قَالَ اَبُوْعِیْسٰی، حَدِیْثُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی نے فرمایا، حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث، حدیث حسن ہے۔
(ترمذی،کتاب ابواب الصلاۃ،باب ماجاء ان النبی لم یرفع،1/292، 293، حدیث: 257)
حدیث حسن کی تعریف میں امام ترمذی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
وما ذکرنافی ھذا الکتاب ’’حدیث حسن‘‘ فانما اردناحسن اسنادہ وعندناکل حدیث یروی لایکون فی اسنادہ من یتھم بالکذب ولایکون الحدیث شاذاً ویروی من غیر وجہ نحو ذاک فھوعندناحدیث حسن۔
’’ہم نے اس کتاب میں جو کہا کہ یہ حدیث ’’حسن ہے‘‘ تو اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس کی سند حَسَنْ ہے اور ہر ایسی حدیث جس کی سند میں کوئی ایسا راوی نہ ہو جس پر جھوٹ کی تہمت ہو، اور وہ حدیث شاذ نہ ہو، اور کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہو، وہ حدیث ہمارے نزدیک حسن ہے۔
(ترمذی،کتاب العلل،2/240،مکتبہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
امام ترمذی رحمہ اللّٰہ، کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ:
(1)۔حدیث ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی مذکورہ سند میں کوئی راوی متہم بالکذب نہیں ہے،
(2)۔حدیث ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ شاذ نہیں ہے،
(3)۔یہ حدیث کئی اور اسناد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
اب یہ سمجھ لیجئے کہ حدیث شاذ کیا ہوتی ہے؟ وہ حدیث جسے کوئی ثِقہ راوی اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی بیان کردہ حدیث کے خلاف بیان کرے، شاذ کہلاتی ہے۔
امام ترمذی نے حدیث ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے شاذ ہونے کی نفی کر کے یہ اعلان کر دیا کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
نیز اس حدیث کے برخلاف رفع یدین کرنے کی جو حدیثیں بیان کی جاتی ہیں ان میں سے کسی حدیث کے راوی بھی حدیث ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے راویوں سے زیادہ ثقہ نہیں ہیں۔ وللّٰہ الحمد

