غیر مقلد مصری عالم احمد شاکر نے سنن ترمذی کی شرح میں لکھا ہے کہ ترمذی کے بعض نسخوں میں حدیث ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے بعد ’’حسن‘‘ کے ساتھ ہامش میں ’’صحیح‘‘ بھی لکھا ہے،
اس کی تائید میں محدثین نے ترمذی کا اسے صحیح قرار دینا نقل کیا ہے۔
شارح بخاری، امام بدرالدین عینی فرماتے ہیں،
قلت حدیث ابن مسعود صحیح، نص علیہ الترمذی وغیرہ۔
’’میں کہتا ہوں، حدیث ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ صحیح ہے۔ ترمذی اور دیگر ائمہ نے یہ بات صراحۃً بیان کی ہے‘‘۔
(البنایۃ شرح الہدایہ،باب صفۃ الصلاۃ،2/256)
غیر مقلد محققین کی دس گواہیاں:
اب اس حدیث کے متعلق چند معروف غیر مقلد محققین کی گواہیاں ملاحظہ کیجئے۔
(1-4) غیر مقلدوں کے امام ابن حزم ظاہری نے اپنی کتاب’’المحلیٰ‘‘ میں چار مرتبہ اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
قَدْ صَحَّ۔ یہ حدیث ’’بیشک صحیح ہے‘‘۔ صَحَّ۔ ’’یہ صحیح ہے‘‘۔ اِنَّ ھٰذَا الْخَبَرَ صَحِیْحٌ۔ ’’ یہ حدیث بلا شبہ صحیح ہے‘‘۔ صَحَّ خَبَرُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ۔’’ ابن مسعود کی حدیث صحیح ہے‘‘۔
(المحلی بالآثار، ابن حزم، ج3،ص358،ج4،ص88،مطبوعہ مصر)
(5) غیر مقلد مصری عالم، احمد شاکر نے بھی اسے صحیح قرار دیا۔ وہ لکھتے ہیں،
وَھُوَحَدِیْثٌ صَحِیْحٌ وَحَسَّنَہُ التِّرْمِذِیْ۔
’’اور وہ حدیث صحیح ہے اور امام ترمذی نے اس کی تحسین کی ہے‘‘۔
(سنن الترمذی بتحقیق احمدشاکر، البانی، ج2، ص40، حدیث نمبر:257)
(6)۔دوسری جگہ لکھتے ہیں،
وَھٰذَا الْحَدِیْثُ صَحَّحَہُ ابْنُ حَزْمٍ فِی الْمُحَلّٰی وَغَیْرُہٗ مِنَ الْحُفَّاظِ وَھُوَحَدِیْثٌ صَحِیْحٌ وَمَا قَالُوْہُ فِیْ تَعْلِیْلِہٖ لَیْسَ بِعِلَّۃٍ۔
’’اس حدیث کو ابن حزم ظاہری نے المحلیٰ میں اور ان کے علاوہ دیگر حفاظِ حدیث نے صحیح قرار دیا ہے اور بعض لوگوں نے جو کچھ اس حدیث کی تعلیل میں کہا ہے وہ علت بننے کے لائق نہیں‘‘۔
(سنن الترمذی بتحقیق احمد شاکر، ج4،ص،4 1 )
(7)۔انہی کے شاگرد، غیر مقلد عالم شیخ شعیب الارنوؤط، اس حدیث کے صحیح ہونے کا یوں اقرار کرتے ہیں،
رِجَالُہٗ ثِقَاتٌ رِجَالُ الشَّیْخَیْنِ غَیْرَ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، فَمِنْ رِجَالِ مُسْلِمٍ۔
’’اس کے راوی ثقہ ہیں جو کہ بخاری و مسلم کے راوی ہیں سوائے عاصم بن کلیب کے جو صحیح مسلم کے راویوں میں سے ہیں‘‘۔
(مشکل الآثار بتحقیق شعیب، ج15، ص35)
(8)۔ ایک اور غیر مقلد عالم، عطاء اللّٰہ حنیف بھوجیانی نے اس حدیث کے متعلق لکھا،
قَدْ تَکَلَّمَ نَاسٌ فِیْ ثُبُوْتِ ہٰذَا الْحَدِیْثِ، وَالْقَوِیُّ اَنَّہٗ ثَابِتٌ مِنْ رِوَایَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍاِنَّ الْحَدِیْثَ ثَابِتٌ۔
’’بعض لوگوں نے اس حدیث کے ثبوت میں گفتگو کی ہے اور قوی بات یہی ہے کہ یہ عبداللّٰہ بن مسعود کی روایت سے ثابت ہے ۔بے شک یہ حدیث ثابت ہے‘‘۔ (التعلیقات السلفیۃ علی سنن النسائی ،ج1، ص123)
(9)۔ اسی صفحہ پر مزید لکھتے ہیں،
قَدْ صَحَّحَہٗ بَعْضُ اَہْلِ الْحَدِیْثِ۔
کئی اہل حدیث نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
(التعلیقات السلفیۃ علی سنن النسائی ،ج1، ص123)
(10)۔ عصر حاضر کے غیر مقلدوں کے امام و محدث ناصرالدین البانی، حدیث ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے متعلق نعرۂ حق بلند کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
وَ الْحَقُّ اَنَّہٗ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ، وَاِسْنَادُہٗ صَحِیْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ۔ وَلَمْ نَجِدْ لِمَنْ اَعَلَّہٗ حُجَّۃً یَّصْلَحُ التَّعَلُّقُ بِہَا وَرَدُّ الْحَدِیْثُ مِنْ اَجَلِہَا۔
’’اور حق بات یہ ہے کہ بیشک یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند بھی مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔ اور جن لوگوں نے اس حدیث کو معلول کہا، ہمیں ان کی کوئی دلیل ایسی نہیں ملی جس سے استدلال صحیح ہو اور اس کی وجہ سے حدیث رد کر دی جائے‘‘۔ (مشکوٰۃ بتحقیق الالبانی، ج1،ص254)
تلک عشرۃ کاملۃ۔
یہ پورے دس 10 ہوئے۔
الحمد للّٰہ! ہم نے غیر مقلدوں کے محقق علماء کی کتب سے دس گواہیاں پیش کر دی ہیں کہ حدیث ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ صحیح و ثابت ہے۔ اب دیگر غیر مقلدوں کو بھی ضد و تعصب چھوڑ کر یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی رفع یدین نہ کرنے والی حدیث صحیح ہے۔

