محدثین کرام کے نزدیک کسی حدیث کی صحت و قوت کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ صحابہ کرام وائمہ تابعین رضی اللّٰہ عنہ اس پر عمل پیرا رہیں۔
اس حوالے سے بھی امام ترمذی، حدیث ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی تائید میں فرماتے ہیں،
وَبِہٖ یَقُولُ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَالتَّابِعِیْنَ، وَہُوَ قَوْلُ سُفْیَانَ وَاَہْلِ الْکُوْفَۃِ۔
’’بہت سے اہلِ علم صحابہ کرام اور تابعین عظام کا اس حدیث پر عمل ہے اور سفیان ثوری اور اہلِ کوفہ کا یہی مسلک ہے‘‘۔
(ترمذی،ابواب الصلاۃ،باب ان النبی لم یرفع الا۔۔الخ،2/40،تحت الحدیث: 257)
امام ترمذی نے حضرت عبداللّٰہ بن مبارک کا قول نقل کیا ہے،
لم یثبت۔ اس سے مراد حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی کوئی اور مرفوع حدیث ہے جیسا کہ اسی قول کے بعد مذکور ہے۔
’’سنن نسائی‘‘کی درج ذیل حدیث کو عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ اللّٰہ کا خود روایت کرنا اس کے ثابت ہونے کی دلیل ہے۔
امام نسائی رحمہ اللّٰہ، فرماتے ہیں،
33 ۔ اخبرنا سوید بن نصر حدثنا عبداللہ بن المبارک عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمہ عن عبداللہ قال الا اخبرکم بصلوٰۃ رسول اللہ ﷺ قال فقام فرفع یدیہ اول مرۃ ثم لم یعد۔
ہمیں سوید بن نصر نے خبر دی، انہوں نے کہا، ہم سے عبداللّٰہ بن مبارک نے بیان کیا، وہ سفیان سے، وہ عاصم بن کلیب سے، وہ عبدالرحمن بن الاسود سے، وہ علقمہ سے اور وہ عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا، کیا میں تمہیں رسول کریم ﷺ کی نماز نہ بتلاؤں؟
راوی نے کہا، پھر آپ کھڑے ہوئے (اور نمازِ نبوی پڑھ کر دکھانے لگے) تو آپ نے صرف پہلی تکبیر کے وقت اپنے ہاتھ اٹھائے پھر دوبارہ رفع یدین نہ کیا۔ (نسائی،کتاب الافتتاح،باب ترک ذالک،2/182،حدیث:1026)
یہ حدیث بھی صحیح ہے۔مشہور غیر مقلدمحقق البانی نے اس حدیث کے متعلق گواہی دی ،
صَحِیْحٌ۔ ’’یہ حدیث صحیح ہے‘‘۔
(نسائی،کتاب الافتتاح،باب ترک ذالک،2/182،تحت الحدیث:1026)
34 ۔ اخبرنا محمود بن غیلان المروزی حدثنا وکیع حدثنا سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمہ عن عبداللہ قال الا اصلی بکم صلوٰۃ رسول اللّٰہ ﷺ فصلی فلم یرفع یدیہ الا مرۃ واحدۃ۔
’’ہمیں محمود بن غیلان المروزی نے خبر دی، انہوں نے کہا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے سفیان نے بیان کیا۔ وہ عاصم بن کلیب سے، وہ عبدالرحمن بن الاسود سے، وہ علقمہ سے اور وہ عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا، کیا میں تمہیں رسول اللّٰہ ﷺ کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں ؟ پس آپ نے نماز پڑھی تو ایک مرتبہ ( یعنی تکبیر اُولیٰ) کے سوا کہیں بھی رفع یدین نہ کیا۔
(نسائی،کتاب التطبق،باب الرخصۃ فی ترک ذلک،2/195،حدیث:1058)
اس حدیث کی سند بھی صحیح ہے۔ غیر مقلد محقق البانی نے بھی اس حدیث کے بعد یہی لکھا،
صَحِیْحٌ۔ ’’یہ حدیث صحیح ہے‘‘۔
(نسائی،کتاب التطبق،باب الرخصۃ فی ترک ذلک،2/195،حدیث:1058)
امام ابو داؤد رحمہ اللّٰہ، فرماتے ہیں،
35 ۔ حدثنا عثمان بن ابی شیبۃ نا وکیع عن سفیان عن عاصم یعنی ابن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمہ قال قال عبداللّٰہ بن مسعود الا اصلی بکم صلوٰۃ رسول اللّٰہ ﷺ قال فصلی فلم یرفع یدیہ الا مرۃ۔
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ سفیان سے راوی، وہ عاصم بن کلیب سے، وہ عبدالرحمان الاسود سے، وہ علقمہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، کیا میں تمہیں رسول اللّٰہ ﷺ کی نماز نہ پڑھ کر بتاؤں؟
علقمہ نے کہا، پھر آپ نے نماز پڑھی تو سوائے پہلی مرتبہ کے ،کہیں ہاتھ نہ اٹھائے۔ اس کی سند صحیح ہے ۔
(ابوداؤد،ابواب تفریع استفاح الصلاۃ،1/199، حدیث: 748)
غیر مقلد محقق، ناصرالدین البانی نے بھی اس حدیث کو نقل کر کے کہا،
صَحِیْحٌ۔ ’’یہ حدیث صحیح ہے‘‘۔ (ابوداؤد،ابواب تفریع استفاح الصلاۃ، 1/199، حدیث: 748)

