36 ۔ حدثنا الحسن بن علی نا معاویۃ وخالد بن عمرو وابو حذیفۃ قالوا نا سفیان باسنادہ بہذا قال فرفع یدیہ فی اول مرۃ وقال بعضہم مرۃ واحدۃ۔
(ابوداؤد،ابواب تفریع استفاح الصلاۃ، 1/200، حدیث: 751)
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا۔ اُن سے معاویہ، خالد بن عمرو اور ابو حذیفہ نے بیان کیا، تینوں نے کہا، ہم سے سفیان نے اپنی اسناد (گذشتہ) سے یہی حدیث بیان کی۔
علقمہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا، آپ نے صرف پہلی مرتبہ اپنے ہاتھ اٹھائے۔ان میں سے بعض راویوں نے کہا، صرف ایک ہی بار ہاتھ اٹھائے۔ یہ حدیث بھی صحیح ہے۔
غیر مقلد محقق، ناصرالدین البانی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
(ابوداؤد،ابواب تفریع استفاح الصلاۃ، 1/200، حدیث: 751)
37۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ نے امام وکیع کی سند سے (جو حدیث ۳۵ میں مذکور ہے) یہی حدیث روایت کی ہے۔
(مسند احمد،6/203،حدیث:3681)
تعارف امام ابن ابی شیبہ:
امام عبداللّٰہ بن محمد بن ابی شیبہ رحمہ اللّٰہ، کی کنیت ابو بکر ہے۔آپ عبداللّٰہ بن مبارک، وکیع بن جراح، یحییٰ بن سعید، سفیان بن عیینہ وغیرہ سے روایت کرتے ہیں جبکہ آپ سے محدثین کی ایک بڑی جماعت نے احادیث روایت کی ہیں جن میں امام بخاری، امام مسلم، امام احمد بن حنبل، امام نسائی اور امام ابوداؤد بھی شامل ہیں۔
امام بخاری نے آپ سے 30 احادیث جبکہ امام مسلم نے 1540 احادیث روایت کی ہیں۔
امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے آپ کو صدوق یعنی سچا کہا جبکہ امام عجلی، ابوحاتم، ابن قانع اور امام ابن حبان نے آپ کو ثقہ قرار دیا۔ (تہذیب التہذیب، جزء9، ص68)
امام ذہبی لکھتے ہیں،
الحافظ الکبیر الحجۃ حدث عنہ احمد بن حنبل والبخاری وابو القاسم البغوی والناس۔ ووثقہ الجماعۃ۔
امام ابوبکر بن ابی شیبہ حافظِ کبیر اور حجت ہیں۔ آپ سے امام احمدبن حنبل، امام بخاری، ابو القاسم بغوی اور کئی لوگ حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ محدثین کی ایک جماعت نے انہیں ثقہ کہا ہے۔
(میزان الاعتدال للذہبی،2/490،رقم:4549)رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
۲۳۵ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
امام ابو بکر بن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں،
38۔ حدثنا وکیع عن مسعر عن ابی معشر عن ابراہیم عن عبداللّٰہ انہ کان یرفع یدیہ فی اول ما یستفتح ثم لا یرفعہما۔
حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے ،پھر دوبارہ رفع یدین نہیں کرتے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الصلوات، 1/213، حدیث: 2443)
39۔ حدثنا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبداللّٰہ بن الاسود عن علقمۃ عن عبداللّٰہ قال ألا أریکم صلاۃ رسول اللّٰہ ﷺ فلم یرفع یدیہ الا مرۃ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص236، حدیث نمبر:2456)
حضرت علقمہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، کیا میں تمہیں رسول اللّٰہ ﷺ کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے (نماز پڑھی تو) سوائے ایک مرتبہ کے رفع یدین نہیں کیا۔
تعارف امام اعظم سیدنا ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ:
امام اعظم نعمان بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ، اپنی کنیت ابو حنیفہ سے زیادہ مشہور ہیں۔ ۷۰ھ یا ۸۰ھ میں کوفہ میں پیدا ہوئے۔ چھبیس (26) صحابہ کا زمانہ پایا، سات صحابہ سے بلا واسطہ احادیث سننے کا شرف حاصل ہے۔ اس کی تفصیل فقیر کی تصنیف ’’سیدنا امام اعظم‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
علمِ حدیث میں امام وکیع، یزید بن ہارون، امام عبدالرزاق، عبداللّٰہ بن مبارک، ابوعاصم، مکی بن ابراہیم، یحییٰ بن سعید قطان، یحییٰ بن زکریا، ابو عبد الرحمن المقری، حفص بن غیاث، امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن آپ کے نامور شاگردوں میں سے ہیں۔
ان میں سے اکثر سے امام بخاری نے صحیح بخاری میں احادیث روایت کی ہیں۔ صحیح بخاری میں بائیس ثلاثیات میں سے گیارہ ثلاثیات صرف امام مکی بن ابراہیم کی سند سے مروی ہیں اور نو ثلاثیات دیگر حنفی شیوخ سے۔
صحاح ستہ کے اکثر شیوخ حنفی ہیں۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین

