Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 25 of 107

محدثین کی اصطلاح میں حافظ وہ ہوتا ہے جسے کم از کم ایک لاکھ حدیثیں یاد ہوں۔

امام ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کو بھی حافظِ حدیث قرار دیتے ہوئے ان القاب سے یاد کرتے ہیں، ’’ ابو حنیفۃ الامام الاعظم فقیہ العراق الخ‘‘۔
(تذکرۃ الحفاظ، ج1، ص126)

 

صحاح ستہ کے مرکزی راوی، امام وکیع بن جراح رحمہ اللّٰہ کا ارشاد ہے،

مالقیت احداً افقہ من ابی حنیفۃ ولا احسن صلوٰۃ منہ۔

امام ابوحنیفہ سے افقہ یعنی احادیث و آثار کا علم رکھنے والا اور بہت اچھی نماز پڑھنے والا مجھے نہیں مل سکا۔
(تاریخ بغداد،15/473،الخیرات الحسان۔۔)

 

امام یحییٰ بن معین رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں:

ویفتی بقول ابی حنیفۃ وقد سمع منہ شیٔاً کثیراً۔ وکان یحییٰ بن سعید القطان  یفتی بقولہ ایضاً۔
(تہذیب الکمال،30/475،تاریخ بغداد،15/647)

امام وکیع امام ابوحنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے اور انہوں نے امام ابو حنیفہ سے کثیر احادیث سنیں تھیں۔ اور امام یحییٰ بن سعید قطان بھی امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے۔

 

امام بخاری کے شیخ امام علی بن مدینی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:

امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ سے سفیان ثوری، ابن مبارک، حماد بن زید، ہشام، وکیع، عباد بن عوام اور جعفر بن عون رحمہم اللّٰہ نے روایت کی ہے۔

امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ ثقہ ہیں، ان میں کوئی عیب نہیں اور امام شعبہ رحمہ اللّٰہ ان کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔

 

امام یحییٰ بن معین نے فرمایا،

ہمارے اصحاب امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کے بارے میں زیادتی کرتے تھے تو ان سے پوچھا گیا، کیا امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے متعلق جھوٹ کی نسبت صحیح ہے؟

انہوں نے فرمایا، نہیں وہ اس عیب سے بلند تر اور پاک ہیں۔
(جامع بیان العلم وفضلہ ، ج2، ص290)

 

جب کوئی شخص امام یحییٰ بن معین رحمہ اللّٰہ کے سامنے امام اعظمرضی اللّٰہ عنہ کی برائی بیان کرتا تو وہ دو اشعار پڑھتے جن کا مفہوم یہ ہے،

’’لوگوں نے اس نوجوان سے حسد کیا کیونکہ وہ اس کے رتبہ کو نہ پہنچ سکے لہٰذا لوگ اب اس کے مخالف اور دشمن بنے ہوئے ہیں۔ جس طرح خوبصورت عورت کی سوکنیں حسد اور جلن کی وجہ سے اس کے خاوند سے کہتی ہیں کہ وہ تو بدصورت ہے‘‘۔ 
(مناقب الامام الاعظم مع ذیل الجواہر، لملا علی قاری، ج2،ص468)

 

امام ذہبی شافعی رحمہ اللّٰہ نے امام ابوداؤد رحمہ اللّٰہ کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے،

ان ابا حنیفۃ کان اماماً۔

’’بیشک ابوحنیفہ امام تھے‘‘۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج1، ص126)

 

صحاح ستہ کے راوی حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ اللّٰہ کا ارشاد ہے،

لا تقولوا رای ابی حنیفۃ ولکن قولا تفسیر الحدیث۔

’’اسے امام ابوحنیفہ کی رائے نہ کہو بلکہ یہ کہو کہ یہ حدیث کی تفسیر ہے‘‘۔
(مناقب الامام الاعظم مع ذیل الجواہر، لملا علی قاری،ج2، ص460)

 

مؤرخ شہیر علامہ ابن خلدون رقمطراز ہیں،

ویدل علی انہ من کبار المجتہدین فی علم الحدیث اعتماد مذہبہ بینھم والتعدیل علیہ واعتبارہ ردا وقبولاً۔ 

’’علمِ حدیث میں امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے بڑے مجتہدین میں سے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ان کے مذہب پر اعتماد کیا جاتاہے اور رد و قبول میں ان پر اعتبار کیا جاتا ہے‘‘۔
(مقدمۃ ابن خلدون، ج1، ص255)

 

شارح بخاری امام بدرالدین عینی رحمہ ﷲ فرماتے ہیں، امام یحییٰ بن معین  نے فرمایا ،

’’امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ ثقہ اور صادق ہیں اور ان پر جھوٹ کی تہمت نہیں۔ وہ ﷲ تعالیٰ کے دین کے امین اور حدیث میں سچے ہیں‘‘۔

عبداﷲ بن مبارک، سفیان ابن عیینہ، اعمش، سفیان ثوری، عبدالرزاق، حماد بن زید اور وکیع جیسے ائمہ کبار اور ائمہ ثلاثہ امام مالک، امام شافعی، احمد بن حنبل اور بہت سے دیگر ائمہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی تعریف کی ہے۔
(البنایۃ شرح الہدایۃ، ج2، ص317)

 

غیر مقلدین اپنے امام ابن تیمیہ ہی کی کتاب پڑھ لیں۔ انہوں نے امام مالک و امام شافعی و امام احمد وغیرہ کے ساتھ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کا ذکر کر کے انہیں بھی ائمۃ الحدیث و الفقہ یعنی ’’حدیث و فقہ کا امام‘‘ قرار دیا ہے۔
(منہاج السنۃ، ج2، ص640)

Share:
keyboard_arrow_up