ان دلائل سے ثابت ہوگیا کہ امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ امامِ اعظم ہیں، کثیر الحدیث اور حافظ الحدیث ہیں، ثقہ اور صادق ہیں، حدیث و فقہ کے امام ہیں، آپ کی مرویات صحیح احادیث ہیں، گویا آپ ’’امیر المؤمنین فی الحدیث والفقہ‘‘ کے منصب پر فائز ہیں۔
حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ اللّٰہ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔
لقد زان البلاد ومن علیہا امام المسلمین ابی حنیفۃ
فما فی المشرقین لہ نظیر ولا فی المغربین و لا بکوفۃ
بان الناس فی فقہ عیال علی فقہ الامام ا بی حنیفۃ
فلعنۃ ربنا عدد رمل علی من رد قول ابی حنیفۃ
’’مسلمانوں کے امام ابو حنیفہ نے شہروں اور وہاں رہنے والوں کو زینت بخشی۔ کوفہ ہی نہیں بلکہ مشرق و مغرب یعنی روئے زمین پر اُن جیسا کوئی نہیں۔ تمام لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ کی فقہ کے محتاج ہیں۔ اُس پر ریت کے ذروں کے برابر اللّٰہ کی لعنت ہو جو امام ابوحنیفہ کے قول کو مردود قرار دے‘‘۔
(مرآۃ الزمان، لسبط ابن جوزی، ج12، ص226)
سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
40۔ حدثنا حماد عن ابراہیم عن علقمۃ والاسود عن ابن مسعود، ان رسول اللّٰہ ﷺ کان لا یرفع یدیہ الا عند افتتاح الصلوۃ ولا یعود لشیٔ من ذلک۔ (شرح مسند ابی حنفیہ، ج1، ص36)
حماد نے بیان کیا، وہ ابراہیم نخعی سے وہ علقمہ اور اسود سے ، وہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا،
بیشک رسول اللّٰہ ﷺ اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے سوائے نماز کے شروع کے وقت پھر دوبارہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
’’ابراہیم عن علقمہ عن عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ
‘‘اتنی سند تو صحیح بخاری میں کئی جگہ موجود ہے۔ امام اعظم کے استاد حضرت حماد بن ابی سلیمان کے بارے میں محدثین کرام کے اقوال ملاحظہ کیجیے۔
تعارف امام حماد بن ابی سلیمان:
امام حماد رضی اللّٰہ عنہ مشہور تابعی ہیں۔ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ کے خا ص شاگردوں میں سے تھے۔
حضرت ابراہیم نخعی نے اپنی زندگی میں فرما دیا تھا،
’’میرے بعد حماد بن ابی سلیمان سے مسائل دریافت کرنا‘‘۔
امام شعبہ نے آپ کو ’’صدوق اللسان‘‘ فرمایا۔
امام ابن حجر نے آپ کو صدوق و فقیہ کہا۔
امام عجلی نے فرمایا، حماد ثقہ ہیں اور ابراہیم کے اصحاب میں سب سے زیادہ فقیہ ہیں۔ (تہذیب التہذیب، ج3، ص14)
امام ذہبی لکھتے ہیں،
آپ ائمہ فقہاء میں سے ایک امام ہیں۔ آپ نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے سماع کیا ہے اور ابراہیم نخعی سے فقہ حاصل کی ہے۔
ابن عدی نے کہا، ان سے روایت میں کوئی حرج نہیں۔
امام یحییٰ بن معین نے کہا، یہ ثقہ ہیں۔
امام ابوحاتم نے کہا، آپ صدوق یعنی سچےہیں۔ (میزان الاعتدال للذہبی،1/595)
امام یحییٰ بن سعید قطان اور امام بخاری نے بھی آپ کی تعدیل کی ہے۔امام بخاری، امام مسلم اور دیگر ائمہ نے آپ سے روایت لی ہے۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ ۱۲۰ھ میں آپ کا وصال ہوگیا ۔ آپ کے بعد آپ کے لائق و فائق شاگرد امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ آپ کی درس گاہ میں مسند آراء ہوئے اور کچھ ہی عرصے میں یہ درس گاہ حدیث وفقہ کا سب سے بڑا اور معتبر حلقہ بن گئی۔
ذلک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء۔
41۔ ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراہیم عن الاسود ان عبداللّٰہ بن مسعود کان یرفع یدیہ فی اول التکبیر ثم لا یعود الیٰ شیٔ من ذالک ویأثر ذالک عن رسول اللّٰہ ﷺ۔
حضرت امام ابوحنیفہ حضرت حماد سے، وہ حضرت ابراہیم نخعی سے اور وہ حضرت اسود سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ پہلی تکبیر میں رفع یدین کرتے تھے اس کے علاوہ نماز میں کسی جگہ رفع یدین نہیں کرتے تھے اور اس عمل کو رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ (عقود الجواہر المنیفۃ،ص189)
اس حدیث کی سند کا ہر راوی ثقہ ہے اور یہ سب اپنے زمانے کے بہترین متقی، عظیم محدث اور جلیل القدر فقیہ ہیں اس لیے اس سند کو’’ سنہری سند‘‘ کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔

