Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 27 of 107

تعارف امام عبدالرزاق :

امام عبدالرزاق ابن ہمام رضی اللّٰہ عنہ جلیل القدر محدث اور فقیہ ہیں۔ آپ امام اعظم کی تدوینِ فقہ کی مجلس کے اہم رکن تھے۔

 

علامہ ذہبی نے آپ کا تذکرہ یوں شروع کیا ہے، احد الاعلام الثقات۔ آپ نے امام اعظم اور دیگر اکابر محدثین سے احادیث روایت کی ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج1، ص267)

 

اکابر ائمہ حدیث مثلاً سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن معین، احمد بن حنبل، علی بن المدینی  نے فنِ حدیث میں آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔

علم حدیث میں آپ کی شہرت اس قدر تھی کہ لوگ دور دراز سے سفر کر کے آپ کی خدمت میں حدیث سیکھنے آتے تھے۔

بعض علماء کا قول ہے کہ:

رسول کریم کے بعد کسی شخص کے پاس اِس قدر دور دراز سے طویل فاصلے طے کر کے لوگ نہیں گئے۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

مسند امام احمد اور صحاح ستہ میں آپ کی روایت سے کثیر حدیثیں موجود ہیں۔

حدیث کی ضخیم کتاب ’’مصَنَّف عبدالرزاق‘‘ آپ ہی کی تصنیف ہے جس میں وہ معروف ’’حدیثِ نور‘‘ موجود ہے جس میں آقا ومولیٰ نے حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ  سے فرمایا،

’’اللّٰہ نے سب سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا فرمایا‘‘۔ (جزء مفقود مصنف عبد الرزاق، ص۷)

 

اس حدیثِ نور کو عظمتِ مصطفیٰ کے منکروں نے مصنف سے خارج کرنے کی سازش کی جو اہلِ علم نے نا کام بنا دی۔

 

علامہ ذہبی نے اس کتاب کو’’ علم کا خزانہ‘‘ فرمایا ہے۔

امام بخاری نے آپ سے 118 اور امام مسلم نے 646 احادیث روایت کی ہیں۔

امام عبدالرزاق کے بارے میں امام احمد بن حنبل سے دریافت کیا گیا کہ حدیث کی روایت میں کیا آپ نے امام عبدالرزاق سے بہتر کسی کو دیکھا؟ انہوں نے جواب میں فرمایا، ’’نہیں‘‘۔
(میزان الاعتدال، ج4، ص342)

 

امام ذہبی، تذکرۃ الحفاظ میں کہتے ہیں،

’’امام عبدالرزاق کو کثیر محدثین نے ثقہ کہا ہے اور آپ کتبِ صحاح کے راوی ہیں‘‘۔ ۲۱۱ ھ میں یمن میں آپ کا وصال ہوا۔
(تذکرۃ الحفاظ، ج1، ص267)

 

امام عبدالرزاق رضی اللّٰہ عنہ روایت کرتے ہیں،

42 ۔ عن حصین عن ابراہیم ان ابن مسعود کان یرفع یدیہ فی اول شیء ثم لا یرفع بعد۔

حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کرتے تھے پھر دوبارہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(مصنف عبد الرزاق، ج2، ص71)

 

تعارف امام محمد بن حسن:

امام محمد بن حسن شیبانی رضی اللّٰہ عنہ ۱۳۲ ھ میں ؛بغداد میں پیدا ہوئے ۔ رب تعالیٰ نے آپ کو خاص صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپ نے چار سال امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے درس لیا پھر ان کے وصال کے بعد امام ابو یوسف، مسعر بن کدام، سفیان ثوری، امام مالک اور امام اوزاعی وغیرہ رحمہم  ﷲ سے اکتسابِ فیض کیا۔ اس طرح آپ کم عمری ہی میں عالم و فقیہ بن گئے اور صرف بیس برس کی عمر میں کوفہ کی مسجد میں امام محمد کا حلقۂ درس قائم ہو چکا تھا ۔ (تاریخ بغداد، ج2، ص172)

 

آپ کے تلامذہ بے شمار ہیں جن میں امام شافعی، یحییٰ بن معین، محمد بن سماعہ، ہشام بن عبید اللّٰہ، علی بن مسلم، عمر بن ابی عمرو، قاسم بن سلام، یحییٰ بن صالح وغیرہ رحمہم ﷲ تعالیٰ نے آپ سے احادیث روایت کیں ۔ (الطبقات السنیہ فی تراجم الحنفیۃ، ج1، ص145)

 

آپ نے نو سو سے زیادہ دینی کتب تصنیف فرمائیں۔ ۱۸۹ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ حق گوئی کا عظیم پیکر تھے۔ خلیفہ ہارون رشید نے آپ کو ’’ رقہ‘‘ کا قاضی مقرر کیا تھا۔

ایک بار خلیفہ کے دربار میں بیٹھے تھے کہ خلیفہ کی آمد ہوئی سب لوگ کھڑے ہوگئے، لیکن آپ کھڑے نہ ہوئے۔ خلیفہ نے آپ کو خلوت میں بلا کر سبب پوچھا، تو آپ نے فرمایا، آپ نے مجھے علماء کی صف میں شامل کیا ہے اس لئے میں نے آپ کے خادموں کی صف میں شامل ہونا پسند نہ کیا۔ (اخبار ابی حنیفۃ وصاحبیہ،ص125)

 

امام شافعی کے والد کے وصال کے بعد ان کی والدہ سے امام محمد نے نکاح کر لیا تھا۔ آپ ہی نے امام شافعی کی دینی تربیت فرمائی جس کے باعث امام شافعی کا ارشاد ہے کہ

’’علمِ فقہ میں مجھ پر سب سے بڑا احسان امام محمد رحمہ ﷲ کا ہے‘‘ ۔

Share:
keyboard_arrow_up