آپ ہی کا ارشاد ہے،
’’میں نے ان سے زیادہ فصیح کوئی نہیں پایا، وہ جب گفتگو فرماتے تو یوں محسوس ہوتا کہ گویا قرآن انہی کی لغت میں نازل ہوا ہے‘‘۔
امام شافعی رحمہ ﷲ کے یہ اقوال بھی مشہور ہیں کہ: ’’میں نے آپ سے زیادہ عقل مند کوئی نہیں دیکھا‘‘۔
(تاریخ بغداد، ج2،ص175)
’’ اللّٰہ تعالیٰ نے علم میں دو حضرات کے ذریعہ میری مدد فرمائی، حدیث میں ابن عیینہ سے اور فقہ میں امام محمد بن حسن سے‘‘
(الجواہر المضیہ، ج3، ص145)
امام ذہبی نے لکھاہے، امام شافعی نے فرمایا،
میں نے محمد بن حسن سے بڑا قرآن کا عالم نہیں دیکھا۔
(مناقب الامام وصاحبیہ،ص81) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
ابراہیم حربی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا، آپ ایسے دقیق مسائل کہاں سے بیان فرماتے ہیں ؟
آپ نے جواب دیا، امام محمد رضی اللّٰہ عنہ کی کتابوں سے۔
(مناقب الامام وصاحبیہ،ص85)
خطیب بغدادی نےامام محمد کے تذکرہ کے آخر میں حضرت محمویہ جو ابدال میں شمار ہوتے تھے، ان کا یہ ارشاد نقل کیا ہے،
’’میں نے خواب میں امام محمد بن حسن کو دیکھا تو پوچھا، آپ کا انجام کیا ہوا؟ کہا، اللّٰہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا، اگر تمہیں عذاب دینا ہوتا تو یہ علم عطا نہ کرتا۔ میں نے پوچھا، امام ابو یوسف کا کیا حال ہے؟ فرمایا، وہ مجھ سے اوپر درجے میں ہیں۔ پوچھا، ا؛ور امام ابو حنیفہ؟ فرمایا، وہ امام ابو یوسف سے بہت درجے اوپر ہیں‘‘۔رضی اللّٰہ عنہم اجمعین
(تاریخ بغداد ج2، ص182)
امام محمد پر جرح کا جواب:
غور فرمائیے کہ جس ہستی کے امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللّٰہ جیسے جلیل القدر امام شاگرد ہوں، اس کے امام، ثقہ اور حجت ہونے میں سوائے جاہل یا حاسد کے ،کسے شک ہو سکتا ہے متعصب و کذاب غیر مقلد زبیر علیزئی نے جزء رفع الیدین میں امام محمد بن حسن شیبانی کو کذاب لکھا
(جزء رفع الیدین،ص32،33)،
نور العینیین میں بھی آپ کو کذاب لکھا ۔ (نورالعینیین ،ص172)
یہ غیر مقلد حسد اور تعصب میں اس قدر اندھا ہو چکا کہ اسے امام محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی توثیق و تعدیل میں اکابر محدثین کے بے شمار اقوال نظر نہ آئے۔ بعض اقوال اوپر مذکور ہوئے اور بعض پیشِ خدمت ہیں۔
جلیل القدر محدث اور نقدِ رجال کے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،’’میں نے الجامع الصغیر، امام محمد بن حسن سے لکھی ہے‘‘۔ (مناقب الامام وصاحبیہ،ص81)
چونکہ امام یحییٰ بن معین صرف ثقہ راوی سے روایت کرتے ہیں؛
اس لیے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان کے نزدیک امام محمد ثقہ ہیں۔یہ وہی یحییٰ بن معین ہیں جن کی طرف متعصب و کذاب غیر مقلد نے کذاب والی جرح کو منسوب کیا ہے۔ مقامِ غور ہے کہ اگر آپ امام محمد رحمہ اللّٰہ کو کذاب سمجھتے تو ان سے الجامع الصغیر کیوں لکھتے؟؟پس یہ جرح باطل و مردود ہے۔
امام دارقطنی رحمہ ﷲ نے امام محمد رضی اللّٰہ عنہ کے متعلق کہا، وہ ترک کیے جانے کے مستحق نہیں۔
(مناقب الامام وصاحبیہ،ص93)
علامہ کوثری لکھتے ہیں کہ امام دارقطنی نے غرائبِ مالک میں رکوع سے سر اٹھانے کی روایت پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا،
مجھ سے بیس قابلِ اعتماد حفاظِ حدیث نے یہ حدیث بیان کی۔پھر انہوں نے محدثین کے نام لیے تو سب سے پہلے امام محمد بن حسن کا نام لیا۔
حافظ ابن حجر نے فرمایا، امام بخاری کے استاد علی بن مدینی نے امام محمد کو صدوق قرار دیا ہے۔
(تعجیل المنفعۃ،ج2، ص172)
امام ذہبی رقمطراز ہیں،
’’محمد بن حسن شیبانی، فقہاء میں سے تھے، امام نسائی وغیرہ نے انہیں حافظہ کے اعتبار سے لیّن کمزور کہا ۔ آپ امام مالک وغیرہ سے روایت کرتے ہیں۔ آپ علم اور فقہ کے سمندر تھے۔ امام مالک سے روایت میں آپ قوی ہیں‘‘۔ (میزان الاعتدال، ج6،ص107) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
جو امام جرح کرنے میں متشدد و مسرّف مشہور ہیں ان میں ابوحاتم، امام نسائی،ابن حبان وغیرہ بھی ہیں جیسا کہ غیر مقلد عالم عبد الرحمن مبارک پوری نے لکھا ہے۔ (ابکار المنن، ص22) اور متشدد کی جرح قبول نہیں کی جاتی۔
امام دارقطنی رحمہ اللّٰہ کے بقول ’’لیّن الحدیث کہنے سے راوی عدالت کے درجے سے ساقط نہیں ہوتا جبکہ کذاب ساقط العدالت ہوتا ہے۔
لہٰذا امام نسائی رحمہ اللّٰہ کے ’’لیّن‘‘ کہنے نے امام محمد رحمہ اللّٰہ سے کذب کی جرح کو تو بہرحال دور کر دیا۔
والحمد للّٰہ۔

