Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 29 of 107

امام نسائی کی یہ تنقید نا قابلِ فہم ہے کیونکہ انہوں نے امام محمد کا زمانہ نہیں پایا، یقیناً ان سے کسی حاسد نے اپنی جلن کا اظہار کیا ہوگا۔

دوم یہ کہ جس شخص کا حافظہ کمزور ہو وہ چاہے امام مالک سے روایت کرے یا کسی دوسرے سے، اس کا حافظہ بہر صورت کمزور ہی رہے گا۔

جب امام مالک سے روایت میں امام محمد کو قوی تسلیم کرلیا گیا تو ثابت ہو گیا کہ ان پر حافظے کی کمزوری کا الزام غلط ہے۔

اس کی تائید اس بات سےہوتی ہےکہ علامہ عبدالقادربن ابوالوفا  نے لکھا ہے ، آپ نے صرف ایک ہفتہ میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔
(الجواہر المضیہ، ج3، ص145)

 

خطیب بغدادی کے استاد امام ابو عبداللّٰہ الصیمری رقمطراز ہیں، امام شافعی نے فرمایا،

میں نے امام محمد بن حسن سے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر علم حاصل کیا ہے۔رحمہم اللّٰہ تعالیٰ ۔ غیرمقلدمولوی عبدالرحمن مبارکپوری نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔
(مقدمہ تحفۃ الاحوذی،ج1، ص188)

 

متعصب غیر مقلد کہتا ہے، امام عقیلی نے امام محمد کو کتاب الضعفاء میں ذکر کیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ عقیلی نے صحاح ستہ کے کثیر راویوں کو کتاب الضعفاء میں ذکر کیا ہے بلکہ امام بخاری کے استاد امام علی بن مدینی کو بھی اسی کتاب میں درج کر کے ان پر جرح بھی کی ہے۔ (کتاب الضعفاء الکبیر، ج7، ص417)

اسی طرح ابن عدی نے الکامل فی الضعفاء میں صحیح بخاری کے ثقہ راویوں کو بھی ضعیف قرار دے کر ان پر جرح کی ہے۔

ابو حاتم رازی اور امام ابو زرعہ نے تو امام بخاری ہی کی حدیثوں کو ترک کر دیا تھا۔
(الجرح والتعدیل، ج7، ص227)

 

کیا غیر مقلد ان جرحوں کو تسلیم کریں گے؟ یقیناً نہیں۔ پس جس طرح آپ ان محدثین کو اس لیے ثقہ مانتے ہیں کہ ان کی تعدیل دوسرے ائمہ سے ثابت ہے اسی طرح تعصب چھوڑ کر امام محمد کو بھی ثقہ مان لیجیے کیونکہ ان کی تعدیل و توثیق بھی بے شمار ائمہ محدثین سے ثابت ہے۔ الحمد للّٰہ حمداً کثیرا ۔

 

علامہ محمد بن علوی مکی مالکی لکھتے ہیں،

’’امام محمد کے بارے میں جتنے بھی طعن کیے گئے وہ سب مردود ہیں۔ کون سا عالم ہے جس پر کسی نہ کسی وجہ سے طعن نہ کیا گیا ہو۔ ابن معین اور عجلی نے امام شافعی کے متعلق کہا، وہ ثقہ نہیں ہیں۔

ابن عدی نے امام ابو حنیفہ پر، امام ابو زرعہ نے امام بخاری پر، یحییٰ بن سعید نے ابراہیم بن سعد پر، امام نسائی نے احمد بن صالح پر، احمد بن صالح نے حرملہ پر اور ابن اسحاق نے امام مالک پر طعن کیا ہے اور یہ وہ طعن ہے جسے امت نے پرکاہ کی بھی وقعت نہیں دی‘‘۔ (انوارالمسالک، لمحمد بن علوی، ص163) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

بعض غیر مقلد امام احمد بن حنبل کی طرف امام محمد پر جرح منسوب کرتے ہیں جوسراسر باطل ہے۔

 

اس حوالے سے محدث و امام سمعانی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

وروی عن احمد بن حنبل قال اذا کان فی المسئلۃ قول ثلاثۃ لم تسمع مخالفتہم فقلت من ہم قال ابوحنیفۃ وابویوسف ومحمد بن الحسن۔

امام احمد بن حنبل سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا،جب تینوں کسی مسئلے میں متفق ہو جائیں تو ان کے خلاف بات نہیں سنی جائے گی۔  پوچھا گیا، وہ تین کون ہیں؟ تو فرمایا، امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن۔ رضی اللّٰہ عنہ (الانساب، ج3، ص484)

 

مقامِ غور ہے کہ امام احمد بن حنبل جن ائمہ کرام کی اس قدر تعریف فرما رہے ہوں، کیا وہ ان کی مذمت کر سکتے ہیں؟ہرگز نہیں۔ یہ متعصب غیر مقلدوں کا فریب ہے۔

 

امام ذہبی نے لکھاہے،

امام شافعی نے امام محمد بن حسن کے ساتھ حدیث میں دلیل قائم کی ہے۔
(مناقب الامام وصاحبیہ،ص93)

چنانچہ امام شافعی نے اپنی مسند میں اور کتاب الام میں امام محمد سے کئی روایات بیان کی ہیں۔ امام حاکم نے بھی امام محمد سے مستدرک میں حدیث روایت کی ہے اور اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (مستدرک، ج3،ص264، حدیث نمبر:5041)

Share:
keyboard_arrow_up